• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Qir'at/ Reciting / قراءت > ض کو دال سے پڑھیں یا ظال سے

ض کو دال سے پڑھیں یا ظال سے

Published by Admin2 on 2012/7/16 (1173 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر ۵۰۳:از موضع گھورنی ڈڈاکخانہ کرشن گڑھ ضلع انڈیا     ۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

ض را مشابہ صوت ظ مجمعہ باید خواند یا مماثل صوت دال مہملہ ،و ہر کہ دال محض خواند نمازش روابود یا نہ ودریں ملک را تقریباً ہمہ خواص و عوام مشابہ دال می خوانند و خوائند ہ ض مشابہ ظ از بس قلیل بینوا تو جروا۔ض کو ظاء معجمہ کی آواز یا دال مہملہ کی آواز کے مشابہ پڑھنا چاہئے اور جو اسے محض دال پڑھے اس کی نماز درست ہوگی یا نہ؟ ہمارے ملک میں تقریباً تما م خواص و عوام اسے دال سے مشابہ پڑھتے ہیں ظاء کے مشابہ بہت قلیل لوگ پڑھتے ہیں جواب دے کر اجر پاؤ۔(ت)

الجواب: صوت ایں حرف را خالق عزوجل از ہمہ حروف جدا  آفریدہ است حقیقۃ ہیچ حرف مشابہ با ونیست فرض قطعی آنست کہ مخرجش آموز وطرز ادایش یا دگیردو قصد حرف منزل من اﷲ کند واز پیش خویش نہ ظا خواند نہ دال کہ ہر دومباین اوست و شبانہ روز سعی موفور بجائے آورد تا آنکہ می کو شد چہ برآید روا باشد لا یکلف اﷲ نفساً الا وسعھا ۱؎فامااگر برصحیح قادر نہ شود امامت صحیح نتواں کرد درفتاوٰی خیریہ است امامۃ الثغ با تفصیح فاسدہ فی الراجح الصحیح۲؎ وبراد فرض باشد کہ تاپس صحیح خواند نماز تواں یافت تنہا نہ گزارد کہ دراقتدا  ازقرأت بے نیاز باشد وآنکہ مخرج نیا موخت یا درصحیح او سعی نہ کرد اگر از زبالش ظا یا دال ادا شود ہرچہ بافساد معنی شود نماز فاسد شود ورنہ نے واگر بہر دو فساد نعنی رونماید چنانکہ مغظوب و مغذوب بہر دوفاسد شودایں ہم آنگاہ ہست کہ قصد حرف منزل من اﷲ کند وزبان یادری نہ دہد ظا یا دال اداشود چنانکہ صورت اخیرہ درعوام ہند و بنگالہ است واگربالقصد بجائے او حرفے دیگر نشاندن خواہد حکم او سخت تر شود زیرا کہ تبدیل کلام اﷲ میکند چنانکہ بعض نامقلدان تصریح کردہ اند کہ ضادنتواں ظا خواند امام اجل ابوبکرمحمد بن الفضل رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ دریں صورت حکم کفر فرمودہ است کما فی منح الروض الازہر ومارادریں مسئلہ رسالہ ایست مختصرہ جامعہ الجام الصاد عن سنن الضاد آنجا ایں  را رنگ تفصیل دادہ ایم وباﷲ التوفیق واﷲ تعالٰی اعلم۔اﷲ تعالٰی نے اس حرف کی ادائیگی اور آواز کو دوسرے تمام حروف سے جُدا پیدا فرمایا ہے حقیقی طور پر کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں اس لئے فرض قطی یہ ہے کہ اس کا مخرج سیکھا(جانا) جائے ،اس کی ادائیگی کا طریقہ یاد کیا جائے اور اس حرف کا ارادہ کیا جائے جو اﷲ کی طرف سے نازل ہے ، اپنی طرف سے نہ اسے ظا پڑھا جائے اور نہ ہی دال ،کیونکہ یہ دونوں اس کے مخالف ہیں شبانہ روز کی محنت و کوشش کے بعد جو پڑھا جاسکے وہ درست ہوگا کیونکہ اﷲ تعالٰی کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگراس کی طاقت بھر ۔اگر حرف کی صحیح ادائیگی پر قادر نہ ہوا تو اس کو امامت کرانا درست نہیں ، فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ توتلے کا فصیح کی امامت کرنا راجح اور صحیح مذہب میں فاسد ہے اور ایسے شخص پر فرض ہے کہ وہ کسی صحیح کی اقتداء میں نماز ادا کرے اگر اقتداء ممکن ہو تنہا نہ پڑھے کیونکہ اقتداء کی صورت میں وہ قرأت سے بے نیاز ہوجائے گا ،اور وہ شخص جس نے ض کا مخرج نہ سیکھا یا اس کی صحت کے لئے کوشش نہ کی ہو اگر اس کی زبان سے ضاد کی جگہ ظا یا دال ادا ہو جس کے ساتھ فسادِ معنی ہوگا اس سے نماز بھی فاسد گی اور جس کے ساتھ فساد معنٰی نہ ہوگا تو اس سے نماز ہوجائیگی اور اگر دونوں صورتوں میں فساد معنی ہو مثلاً مغظوب اور مغدوب تو دونوں صورتوں میں نماز فاسد ہوگی۔یہ تمام اس وقت ہے جب اس سے قصد اسی حرف کا ہو جو اﷲ تعالٰی کی طرف سے نازل کردہ ہے مگر زبان معاون نہ بنی اورظا یا دال ادا ہوگیا جیسے کہ عوام اہل ہند  و بنگالہ کا معاملہ آخری صورت میں اسی طرح ہے اور اگر قصداً اس کی جگہ کوئی دوسرا حرف پڑھا تو ا سکا حکم شدید ترین ہوگا کیونکہ یہ توا ﷲ تعالٰی کے کلام میں تبدیلی کرنا ہے جیسا کہ بعض غیر مقلدین نے تصریح کی کہ ضاد کو نہ پڑھا جاسکے تو ظاء پڑھے۔امام ابوبکر محمد بن فضل رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے مذکورہ صورت میں کفر کا حکم جاری فرمایا ہے جیسا کہ منح الراض الازہر میں موجود ہے،ہم نے اس موضوع پر ایک مختصر مگر جامع رسالہ لکھا ہے جس کا نام الجامع الصاد عن سنن الضاد رکھا ہے۔اس مسئلہ کی تفصیل وہاں خوب کی ہے وباﷲ التوفیق واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

 (۱؎ القرآن        ۲/۲۸۶)

(۲؎ فتاوٰی خیریۃ    کتاب الصلٰوۃ    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت        ۱/۱۰)


Navigate through the articles
Previous article سورہء اذا جاء کے آخر میں کیا پڑھتے ہیں؟ تجوید کس قدر فرض عین ہے؟ Next article
Rating 2.91/5
Rating: 2.9/5 (265 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu