• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Qir'at/ Reciting / قراءت > نماز جمعہ کی ادائیگی کی شرائط اور دیگر مسائل

نماز جمعہ کی ادائیگی کی شرائط اور دیگر مسائل

Published by Admin2 on 2012/7/17 (2045 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۵۴۳، ۵۵۴: ازجنوبی افریقہ ٹرنسوال مقام کروگرس ڈروپ بکس نمبر ۳۳ مرسلہ ایم ایم داؤد احمد موسٰی جی سالوجی ۱۴ رمضان ۱۳۳۶ ھ

اوّلاً تحریر حال ملک ٹرنسوال کرتا ہُوں کہ اسئلہ ذیل کے جواب میں سہولت ہو یہاں پر حکومتِ کفار ہے اور یہاں کے باشندے بھی کفّار ہیں، ہاں کچھ لوگ مسلمان شافعی المذہب بھی ہیں باقی مسلمان انڈیا کے تاجر وغیرہ ہیں مگر مجموعہ مسلمان کفار کی نسبت بہت کم ہیں ،گاؤں کا تو میں ذکر نہیں کرتا مگر اس ملک کے شہرں میں تخمیناً مفصلہ ذیل تعداد ہوگی کسی جگہ ۱۰ دس ۲۰بیس کسی جگہ ۳۰ تیس ۴۰ چالیس کسی جگہ ۸۰اسی ۱۰۰سو سوائے ایک شہر کے میرے خیال کے موافق کہیں ۴۰۰ چارسو ۵۰۰ پانچ سو کا مجمع نہ ہوگا،مساجد کا یہ حال ہے کہ کہیں تو کرایہ میں مکان لیا ہوا ہے اور اُس میں نمازِ جمعہ و عید ادا کی جاتی ہے اور کسی جگہ مسجد ہے مگر بوجہ قلت وہ بھی نہیں بھرتی البتہ ایک جگہ تین مسجدیں ہیں اور مسلمانوں کی جماعت بڑی ہے تخمیناً ۵۰۰ پانچ سو سے کم نہ ہوگی نماز جمعہ و عید سب جگہ ادا کی جاتی ہے عید کے موقع پر گاؤں کے مسلمانان وُہ شریکِ نماز ہو کر تعداد بڑھا دیتے ہیں میرے علم میں یہاں کھبی اسلامی حکومت نہیں ہوئی اور حکام کی طرف سے کوئی حکم شر عی یہاں جاری نہیں مگر نمازِ جمعہ و عید کو منع نہیں کرتے جس جگہ کے لئے یہ تحریر کی جاتی ہے وہ بھی شہر ہے اورایک مسجد بھی ہے تعداد مسلمانان ساٹھ ستّر سے زیادہ نہیں مسجد نہیں بھر سکتی مگر عید کے موقع پر گاؤ ں والے شریک ہوتے ہیں اور مسجد بھر جاتی ہے۔

(۱) جمعہ کی ادا کے لئے شہر شرط ہے یا نہیں؟

(۲) شہرکس کو کہتے ہیں اکبر مساجد کی تعریف روایت مذہب ہے یا نہیں؟

(۳) جب قدرت اجرائے حدود شرط ہے اور بالفعل ضرور نہیں تو توانی کی وجہ سے تعریف مذکور کو اختیار کرنا اور ظاہر مذہب کو ترک کرنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟

(۴) علمائے حنفیہ کے اختلاف کی وجہ سے احتیاطی ظہر تجویز ہوئی مگر جہاں حنفی مذہب کے موافق تحقیق شروط نہ ہو اور دیگر مذاہب کے موافق ہو وہاں کیونکر جائز نہیں ۔خروج اختلاف کی علت دونوں جگہ موجود ہے اعنی وہاں بھی جمعہ اور احتیاطی ظہر پڑھ لینا چاہئے؟

(۵) کل موضع لہ امیر وقاض الخ (ہروہ مقام جہاں کوئی ایسا امیر اور قاضی ہو الخ۔ت) سے استدلال عدم جواز جمعہ دار حرب پر ہو سکتا ہے یا نہیں؟

(۶) کیفیتِ مذکور کی رو سے کہاں جمعہ جائز ہے اور کہاں نہیں؟

(۷) جہاں ناجائز ہے انھیں منع کیا جائے یا نہیں ،اور ان کی ظہر کا کیا حکم ہے؟

(۸) جہاں بادشاہ مسلمان نہ ہو وہاں جمعہ کا کیا حکم ہے اور حکومت کفار میں جمعہ کیوں جائز ہے؟

(۹) یہ ملک دارِ حرب ہے یا نہیں؟

(۱۰) دارِ حرب کی کیا تعریف اور کس طور سے دارِ حرب دارِ اسلام بنتا ہے اور دارِ اسلام دارِ حرب بنتا ہے؟

(۱۱) جہاں شروطِ جمعہ نہ پائے جائیں وہاں عید کی نماز کا کیاحکم ، اگر جائز نہیں تو پڑھ لینے سے کیا خرابی ہے اگر اپنے مذہب کے طور پر واجب نہیں تو دوسرے مذہب مثل شافعی رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ کے تو واجب ہے اور خروج عن الاختلاف ہوجائے گا؟

(۱۲) ہماری جگہ شہر گنا جاتا ہے اور ایک مسجد ہے مصلی باشندے اسے بھر نہیں سکتے ،یہاں جمعہ کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا۔

الجواب: جمعہ کے لئے ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے اتفاق و اجماع سے شہر شرط ہے شہر کی صحیح تعریف مذہب حنفی میں یہ ہے جو خود امامِ مذہب سیّدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمائی ،وہ آبادی جس میں متعدد محلّے اور دوامی بازار ہوں اور وہ ضلع یا پرگنہ ہواُس کے متعلق دیہات ہوں اور اس میں کوئی حاکم با اختیار ایسا ہو کہ اپنی شوکت اور اپنے یا دوسرے کے علم کے ذریعہ سے مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے ۔

امام علاء الدین سمر قندی نے تحفۃ الفقہاء اورامام مالک العلماء ابو بکر مسعود نے بدائع میں اسی کی تصریح فرمائی

غنیـہ شرح منیہ میں ہے:صرح فی تحفۃ الفقھاء عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکک واسواق ولھارساتیق وفیھا والٍ یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمۃ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما یقع من الحوادث و ھذا ھوالاصح۱؎۔تحفۃ الفقہاء میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے تصریح ہے کہ بڑے شہر سے مراد وہ آبادی ہے جس میں محلے اور بازار ہوں، اس کے متعلق کچھ دیہات ہوں ،وہاں کوئی ایسا با اختیار شخص ہو جو اپنی حشمت اور علم یا دوسرے کے علم کے ذریعے مظلوم کو ظالم سے انصاف دلا سکے اور لوگ حوادثات کی صورت میں اس کی طرف رجوع کریں اور یہی اصح ہے۔(ت)

(۱ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ  مطبوعہ ایچ ایم سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۵۰)

کتبہ جلیلہ معتمدہ میں ظاہرا لروایہ یعنی مذہب مہذب حنفی سے بالالفاظِ مختلفہ جتنی نقول ہیں سب کا مآل یہی ہے مثلاً ہدایۃ ومتنِ کنز میں فرمایا:

ھو کل موضع لہ امیر وقاض ینفذا  الاحکام ویقیم الحدود۲؎۔ہر وہ مقام جہاں کوئی ایسا امیر یا قاضی ہو جو احکام نافذ کر سکے اور حدود کا اجرا کرسکے۔(ت)

 (۲؎ کنز الدقائق   باب صلٰوۃ الجمعۃ     مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ،  ص۴۷)

اس میں سکک وا سواق ورساتیق کا ذکر نہیں اور عبارت آتیہ غیاثیہ میں بجائے سکک جماعات ہیں اور رساتیق مذکور نہیں،اُسی کی دوسری عبارت میں فتاوٰی سے رساتیق کا ذکر فرمایا سکک واسواق کو ترک کیا کہفی الفتاوی الوصلی الجمعۃ فی قریۃ بغیر مسجد جامع والقریۃ کبیرۃ لھا قری وفیھا وال وحاکم جازت الجمعۃ بنوا المسجد اولم یبنوہ وان کان بخلاف ذلک لایجوز وھذاقول ابی القاسم الصفار و ھذا اقرب الاقاویل الی الصواب ۱؎۔فتاوٰی میں ہے اگر کسی نے قریہ میں بغیر جامع مسجد کے جمعہ پڑھا اور قریہ اتنا بڑا ہو جس کے کچھ دیہات ہوں اور اس میں کوئی حاکم و والی بھی موجود ہو تو نمازِجمعہ درست ہوگی خواہ وہ مسجد بنائیں یا نہ بنائیں، اور اگر اس کے خلاف ہو تو جمعہ درست نہ ہو گا یہ شیخ ابوالقاسم الصفار کے قول کے مطابق ہے اور تمام اقوال میں سے یہ رائے صواب کے زیادہ قریب ہے۔(ت)

 (۱؎ فتاوٰی غیاثیہ ، باب الجمعۃ وشرائطہا   ،  مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ        ص۳۹)

اور محصل ایک ہے کہ عادۃً والی و قاضی ایسی جگہ ہوتے ہیں جس میں آبادی کثیر ہو اور اسے تعدد محلہ ووجود اسواق لازم اور ہرگاؤں میں نیا حاکم مقر رکرنا نہ معہود ہے نہ متیسر بلکہ گرد وپیش کے دیہات آبادی کبیر کے حاکم کے متعلق کردئے جاتے ہیں اسے ضلع یا کم از کم پرگنہ ہونا لازم، غنیـہ میں ہے:صاحب الھدایۃ ترک ذکر السکک والرساتیق بناء علی الغالب اذالغاب ان الامیر والقاضی شانہ القدرۃ علی تنفیذ الاحکام واقامۃ الحدود لایکون الا فی بلد کذلک فالحاصل ان اصح الحدود ما ذکرہ فی التحفۃ لصدقۃ علی مکۃ والمدینۃ وانھما الاصل فی اعتبار المصریۃ ۲؎۔صاحبِ ہدایہ نے محلوں اور بازاروں کا ذکر اس لئے ترک کیا کہ غالب یہی ہے کہ ایسے حاکم اور قاضی جو احکام کا نفاذ اور حدود کا قیام کرسکتے ہیں وہ ایسے شہر میں ہی ہوتے ہیں جو بڑا ہو، حاصل یہ ہے کہ تحفہ میں بیان کردہ شہر کی تعریف اصح ہے کیونکہ وہ مکّہ اور مدینہ پر صادق آتی ہے اور شہر ہونے میں یہ دونوں اصل ہیں۔(ت)

 (۲؎ غنیـہ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ  مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور     ص۵۵۱)

پھر ظاہر ہے کہ ان کتب میں تنفیذ و اقامت سے قدرت مراد ہے کہ حاکم کا خلافِ حکم حکم کرنا شہر کو شہر ہونے سے خارج نہیں کرتا ولہذاعلامہ محقق ابراہیم حلبی نے اسی سے پہلے غنیـہ میں فرمایا:الحد الصحیح ما اختارہ صاحب الھدایۃ انہ الذی لہ امیر وقاض ینفذالاحکام ویقیم الحدود والمراد القدرۃ علی اقامۃ الحدود ماصرح بہ فی تحفۃ الفقھاء عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۳؎۔صحیح تعریف وُہ ہے جسے صاحب ہدایہ نے اختیار کیا ہے وُہ یہ ہے کہ ایسا شہر ہو جس میں حاکم وقاضی ہو جو احکام کا نفاذ اور حدود کا قیام کرے اور اس سے مراد قیامِ حدود پر قدرت ہے جیسا کہ تحفۃ الفقہاء میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے منقول ہے (ت)

(۳؎ غنیـہ المستملی شرح منیۃ المصلی   فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ  مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۵۰)

امام اکمل نےعنایہ میں فرمایا:المراد بالامیر وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم ۴؎۔(امیر سے ایسا والی مراد ہے جو ظالم سے مظلوم کو انصاف دلانے پر قادر ہو۔ت)

 (۴؎ العنایۃ مع فتح القدیر ، باب صلٰوۃ الجمعۃ ،  مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر  ،   ۲/۲۴)

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article الحمد کے بعد کسی لفظ کی تین مرتبہ تکرار کرے تو؟ قراءت اور وقف سے متعلق ایک سوال Next article
Rating 2.87/5
Rating: 2.9/5 (289 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu