• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > جس لڑکے کے افعال اچھے نہ ہوں اسکے پیچھے نماز کیسی؟

جس لڑکے کے افعال اچھے نہ ہوں اسکے پیچھے نماز کیسی؟

Published by Admin2 on 2012/7/19 (1356 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر ۵۷۲:     از سیتا پور محلہ تامس گنج مرسلہ حضور نور العارفین صاحب دام ظلہم المعین    ۱۹ربیع الاول شریف ۱۳۰۹ہجری

بخدمت علمائے متبحرین ملتمس ہُوں مثلاً کوئی لڑکا عمر اس کی تیرہ ۱۳یا چودہ۱۴ برس کی ہے اور وہ قرآ ن شریف پڑھا ہے لیکن کبھی نماز نہیں پڑھتا اور باوجود ہونے متصل مسجد مکان کے بیٹھا رہتا ہے اور نماز جمعہ کی قصداً نہیں پڑھتا اور نابالغ ہے اور اپنے گھر کی عورت کو لے کر میلہ ہنود میں جیسے کہ میلہ کُنبھ اور میلہ ردنا وغیرہ میں جاتا ہے عورتیں اُس گھر کی دھوبلاپوش ہیں اور پرستش رسمِ ہنود کی کرتی ہیں ،اُس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ اور اگر ایسا لڑکا نمازِ جنازہ پڑھائے تو درست ہے یا نادرست؟بینوا توجروا۔

الجواب :اگر فی الواقع اس کے یہاں کی عورات غیر خدا کو پوجتی ہیں یعنی حقیقۃً دوسرے کی عبادت کہ شرک حقیقی ہے(نہ صرف وہ بعض رسومِ جاہلیت یا افعالِ جہالت کہ حدِفسق وگناہ سے متجاوز نہیں گو اہلِ تشدد انھیں بنام شرک و پرستش غیر تعبیر کریں) اور وہ اس شرکِ حقیقی پر مطلع اوراس پر راضی ہے تو خود کافر ومرتد ہے

فان الرضا بالکفر کفر (کیونکہ کفر کے ساتھ رضامندی بھی کفر ہے۔ت) اس تقدیر پر وُہ بالغ ہو نابالغ کسی بچے کی بھی کوئی نماز اس کے پیچھے صحیح نہیں ہوسکتی نہ اسکے پڑھنے سے نمازِجنازہ کا فرض ساقط ہو

فان الکافر لیس من اھل العبادۃ اصلا (کیونکہ کافر عبادت کا ہرگز اہل نہیں ۔ ت) اوراگر ان عوارت کے افعال حدِکفر تک نہیں یا ہیں مگر یہ ان پر راضی نہیں تو مسلمان ہے پس اگر فی الواقع نابالغ ہے تو بالغین کی نماز اُس کے پیچھے صحیح نہیں اگر چہ نمازِجنازہ ہی ہو، ہاں جنازہ میں امامت کرے گاتو ظاہراً نماز فرض کفایہ تھی ادا ہوجائے گی کہ گو اوروں کی نماز اس کے پیچھے نہ ہو اس کی اپنی توبہ تو ہوگئی سقوطِ فرض کے لئے اسی قدر بس ہے کہ نمازِ جنازہ میں جماعت شرط نہیں ،ولہذا اس میں عورت کی امامت سے بھی فرض ساقط ہوجاتا ہے۔

فی الدرالمختارلایصح اقتداء رجل بامرأۃ وخنثی وصبی مطلقاولو جنازۃ۱؎۔درمختار میں ہے کہ کسی مرد کا کسی عورت،خنثی یا بچّے کی اقتداء کرنا صحیح نہیں، اگرچہ وہ نمازِ جنازہ ہی کیوں نہ ہو۔(ت)

 (۱؎ درمختار ، باب ا لامامۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی    ۱/۸۴)

اُسی کے صلاۃ الجنائز میں ہے :لوام بلا طہارۃ والقوم بھا اعیدت و بعکسہ لاکما لوامت امرأۃ ولواٰمۃ لسقوط فرضہا بواحد۲؎۔اگر امام نے بغیر طہارت کے نماز پڑھائی اور قوم باطہارت تھی تو نماز لوٹائی جائے گی اگر اس کے برعکس ہو تو نہیں جیسا کہ کسی عورت نے امامت کرائی خواہ وہ لونڈی ہی ہو کیو نکہ شخص واحد سے فرض ساقط ہوگیا(ت)

 (۲؎ درمختار        باب صلٰو ۃ الجنائز    مطبوعہ مطبع مجتبائی    ۱/۱۲۱)

ردالمحتار میں ہے :قال الامام الاستروشنی فی کتاب احکام الصغار الصبی اذاغسل المیت جاز۱؎ اھ ای یسقط بہ الوجوب فسقوط الوجوب بصلاتہ علی المیت اولی لانھا دعاء وھواقرب للاجابۃ من المکلفین۔امام استروشنی نے کتاب الاحکام الصغار میں تصریح کی ہے کہ بچّہ اگر کسی میت کو غسل دے تو جائز اھ یعنی اس سے وجوب ساقط ہوجائے گا لہذا میّت پر بچّے کی نمازسے وجوب نماز بطریقِ اولٰی ساقط ہوجائے گا کیونکہ نمازِ جنازہ دُعا ہے اور بالغ لوگوں کی بنسبت بچّے کی دُعا جلدی قبول ہوتی ہے۔(ت)

 (۱؎ ردالمحتار    باب صلٰو ۃ الجنائز    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۶۴۱)

اُسی میں ہے:نقل الاحکام عن جامع الفتاوٰی ،سقوطہا بفعلہ کردالسلام  ۲؎ اھ وتمام تحقیقہ فیہ من الامامۃ ومن الجنائز۔لیکن احکام میں جامع الفتاوٰی سے منقول ہے کہ بچّے کے نماز جنازہ پڑھانے سے اس کا سقوط ہوجاتا ہے جیسا کہ بچّہ اگرسلام کا جواب دے تو اس کے سلام کا جواب دینا درست ہے اھ اور اس بارے میں تمام تحقیق باب الاما مۃ اورباب الجنائز میں ہے۔(ت)

(۲؎ ردالمحتار    باب صلٰو ۃ الجنائز    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۶۴۱)

اور اگر بالغ ہے تو ہر نماز یہاں تک کہ فرائض پنجگانہ بھی اس کے پیچھے ہو توجائیں گے کہ داڑھی مونچھ شرط صحتِ امامت نہیں بلوغ درکار ہے اور وہ ظہور آثار مثل احتلام وغیرہ سے لڑکوں میں بارہ۱۲ برس کی عمر سے ممکن لیکن جبکہ وُہ تارک الصلٰو ۃ اور بلا تاویل تارکِ جمعہ ہے اور بے عذر صحیح ترک مسجد اور ہنود کے میلوں میں جانے اوراپنی عورات کو لےجانے کا عادی ہے تو بوجوہ کثیر فاسق ہے کہ ان میں ہر امر فسق کے لئے کافی ، تو اس کے پیچھے نمازمکروہ ہے کہ پڑھی جائے تو شرعاً اس کا اعادہ مطلوب ۔

لما صرحوبہ من کراھۃ الصلٰوۃ خلف الفاسق وان کل صلٰوۃ ادیت مع کراھۃ فانھا تعاد وجوبا لو تحریمۃ وندبا لوتنزیھۃ وقداختارالمحقق الحلبی کراھۃ التحریم فی الفاسق وھو قضیۃ الدلیل لاسیما اذکان معلنا۔جیسا کہ فقہا نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے،اور ہر وُہ نمازجو کراہت کے ساتھ ادا کی جائے تو مکروہ تحریمی کی صورت میں اس کالوٹانا واجب اور تنزیہی کی صورت میں لوٹانا مستحب ہے اور محقق حلبی نے اقتداءِ فاسق کے مکروہ تحریمی ہونے کو مختار قرار دیا ہے اوریہی دلیل کا تقاضا ہے خصوصاً جبکہ وہ فاسق ملعن ہو۔(ت)

اور نمازِ جنازہ میں اسے امام کرنا اور بھی زیادہ معیوب کہ یہ نماز بغرض دُعا و شفاعت ہے اور فاسق کو شفاعت کے لئے مقدم کرناحماقت ،تاہم اگر پڑھا ئے گا تو جوازِ نماز وسقوط فرض میں کلام نہیں

کما لا یخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب ۔


Navigate through the articles
Previous article حافظ و قاری ہو مگر نابینا ہو تو وہ امام بن سکتا ہے؟ مقتدی کے پچھے کسی نے اقتدا کر لی اسکی نماز کیسی؟ Next article
Rating 2.70/5
Rating: 2.7/5 (231 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu