• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > حنفی امام مسح ٹھیک نہ کرے اسکی امامت کیسی ہے؟

حنفی امام مسح ٹھیک نہ کرے اسکی امامت کیسی ہے؟

Published by Admin2 on 2012/7/19 (1036 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر ۵۸۰ : از بدایوں مروہی محلہ     مرسلہ شیخ محمد حسین صاحب    ۹ جمادی الاخری ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ جو شخص حنفی ہو کر مسح میں امام شافعی رحمہ اﷲ تعالٰی کا طریقہ عمل میں لائے یعنی چند بال چُھو لےنے پر اکتفا کرے اُس وقت میں کہ پگڑی باندھے ہو تو اُس کی نماز اور اس کے پیچھے نماز کیسی ہے؟

الجواب: صورت متفسرہ میں اگر یہ شخص واقعی شافعی ہوتا تاہم حنفیہ کی نماز اُس کے پیچھے محض باطل تھی نہ کہ ایسے آزاد لوگ کہ کن ہی میں نہیں،

فی الھندیۃ الاقتداء بشافعی المذھب انما یصح اذاکان الامام یتحامی مواضع الخلاف بیان یسمح ربع راسہ ھکذا فی النھایۃ والکفایۃ ولا یتوضا بالماء القلیل الذی وقعت فیہ الجناسۃ کذا فی فتاوٰی قاضی خان ولا بالماء المستعمل ھکذا فی السراجیۃ اھ ملخصا۱؎۔ہندیہ میں ہے شافعی المذہب امام کی اقتدا تب جائز ہے کہ وہ مواضع خلاف سے بچنے والا ہو مثلاً چوتھائی سر کا مسح کرے ،اسی طرح نہایہ اورکفایہ میں ہے ،اور اس قلیل پانی سے وضو بھی نہ کرتا ہو جس میں نجاست واقع ہوئی ہے، فتاوٰی قاضی خان میں اسی طرح ہے، اور نہ ماءِ مستعمل سے وضو کرتا ہو سراجیہ میں یہی ہے اھ تلخیصاً(ت)

 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ         الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماماً لغیرہ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور     ۱/۸۴)

اورا س کی اپنی نماز بھی ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے طور پر تو ظاہر کہ محض باطل ہے اور ہم بلاشبہ یہی حکم دیں گے،

فانا انما نفتی بمذھبنا وان کان مذہب غیرنا ماکان کمانص علیہ فی اخلاصۃ والاشباہ وفی الدر المختار وردالمحتار وغیرھا من الاسفار۔ہم تو اپنے مذہب کے مطابق ہی فتوی دیں گے اگر چہ غیر کا مذہب جیسا بھی ہو ،یہی تصریح خلاصہ ،اشباہ ، درمختار اور ردالمحتار وغیرہ معتبر کتب میں ہے۔(ت)

مگر یہاں اور مذاہب پر بھی خیر نہیںسیّدنا امام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ تو ہماری ہی طرح باطل ہی فرمائیں گے کہ ان کے یہاں پُورے سر کا مسح فرض ہے، یونہی سیّدنا امام احمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کوان سے بھی اظہر الروایات فرضیت استعیاب ہے۔

کما نقلہ الامام المولی الاجل القطب سیدی عبدالوہاب الشعرانی قدس سرہ الربانی فی المیزان (جیسا اسے ہمارے سردار امام اجل والقطب عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی نے میزان میں نقل کیا ہے ۔ت)رہا مذہب سیّدنا امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ اُس پر صحت نماز سمجھ لینا نری ہوس ہی ہوس ہے ایک اس مسئلہ میں ان سے توافق سہی ،پھر کیا ان کے یہاں ایک ہی مسئلہ ہے ،صد ہا مسائل طہارت و صلٰوۃ خلافیہ ہیں جن پر اطلاع تام اُسی مذہب کے عالم متبحر کاکام خصوصاً ان بلاد میں نہ اس مذہب کے علماء نہ کتب ،بھلا یوں نہ مانے تو بتائے تو کہ مذہب شافعی میں نواقض و فرائض وضو و غسل و فرائض داخلی و خارجی و مفسدات نماز بتفصیل صور وشقوق وتنقیح اقوال قدیم وجدید ونصوص ووجوہ وتصحیح و ترجیح شیخین وغیرہما کبرائے مذہب کس قدر ہیں اور جب نہیں بتاسکتا اور بے شک نہ بتاسکے گا تو مجہول شیئ کی مراعات کیونکر ممکن ،پھر کہاں سے اطمینان پایا کہ ان کے مذہب پر نماز صحیح ہی ہوگی ،نہیں نہیں بلکہ بوجہ کثرت خلاف وتکثر حوادث موقعہ فی الاختلاف ،عادۃً کہیں نہ کہیں وقوع مخالفت ہی مظنون

کما لا یخفی علی المتدرب ومن لم یقنع فلیجرب(جیسا کہ ہر صاحب ِ فہم پر واضح ہے اور اگر کوئی اس پر قناعت نہیں کرتا تو وہ خود تجربہ کرے۔ت)اور جب ایساہوا اور کیوں نہ ہوگا تو بیٹھے بٹھائے ازیں سوراندہ ازاں سوماندہ ، نہ اِدھر کے ہوئے نہ اُدھر کے ہوئے ، ایک مذہب پر بھی نماز صحیح نہ ہوئی،

درمختار میں ہے :لا باس بالتقلید عندالضرورۃ لکن بشرط ان یلتزم جمیع مایوجبہ ذلک الامام لما قدمنا ان الحکم الملفق باطل بالاجماع ۱؎۔ضرورت کے وقت دوسرے امام کی تقلید میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ شرط ہے کہ ان تمام امور کا التزام جن کو اس امام نے اس عمل کے واسطے واجب قرار دیا ہے، کیونکہ ہم پہلے بیان کرچکے کہ وہ حکم جو دومذہب سے مخلوط ہو وہ بالاجماع باطل ہے۔(ت)

 (۱؎ درمختار        کتاب الصلٰوۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۶۲)

غرض لااقل اس بیباکی کا اتنا حاصل کہ تین مذہب پر تو دانستہ نماز باطل کرلی چوتھے پر صحت کی خبر نہیں فانّاﷲ وانّا الیہ راجعون۔مولٰی تعالٰی جنھیں توفیق خیر رفیق فرماتا ہے وہ ہر امر میں جہاں تک اپنے مذہب کا مکروہ لازم نہ آئے بقیہ مذاہب کا بھی لحاظ رکھتے ہیں مثلاً محتاط حنفی وشافعی ہر گز مسح کل راس وولا ودَلک ترک نہ کریں گے کہ آخر مسنون تو ہم بھی جانتے ہیں اور امام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک ان کے بغیر طہارت ونماز ہی باطل ،تو کیا مقتضائے عقل ہے کہ سنت چھوڑے اور ایک امام دین کے نزدیک نماز ہی سے منہ موڑے ولا حول والا قوۃ الّا باﷲ العلی العظیم ولہذا علمائے مذاہبِ اربعہ رحمہم اﷲ تعالٰی تصریح فرماتے ہیں کہ خروج عن الخلاف بالاجماع مستحب مگر بیباک لوگوں کے نزدیک سنّتِ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ترک ،اپنے امام مذہب کی مخالفت تین مذاہب حقہ پر نمازوں کا بطلان ،چوتھے پر صحت شک و جہالت ،یہ سب بلائیں آسان ہیں اور بندھی ہوئی پگڑی کے پیچ ذرا سُست ہوجانا دشوار ۔اﷲ عزوجل ہدایت بخشے

واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔


Navigate through the articles
Previous article سُود خور کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے؟ میوزک کے شوقین امام کی امامت کا حکم Next article
Rating 2.79/5
Rating: 2.8/5 (277 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu