• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > شافعی امام کے پیچھے حنفی کی نماز کا حکم؟

شافعی امام کے پیچھے حنفی کی نماز کا حکم؟

Published by Admin2 on 2012/7/19 (2969 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۵۸۳: ازکلکتہ دھرم تلہ نمبر۶     مرسلہ جناب مرزا غلام قادربیگ صاحب    ۲۶صفر ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام شافعی المذہب ہو اور مقتدی حنفی تو اُن امور میں جو حنفی کوجائز نہیں جیسے آمین بالجہر کہنا اور رفع یدین اور قومہ میں ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگنا امام کی متابعت کرے یا نہ کرے ؟اور ایسے ہی مقتدی شافعی المذہب کو اپنے مذہب کے خلاف امور میں امام حنفی المذہب کی متابعت چاہئے یا نہیں؟ اور اگر متابعت کرے تواس کی نماز کا کیاحال ؟بینوا تو جروا۔

الجواب: حنفی جب دوسرے مذہب والے کی اقتداء کرے جہاں اس کی اقتداء جائز ہو کہ اگر امام کسی ایسے امر کا مرتکب ہو جو ہمارے مذہب میں ناقض طہارت یا مفسد نماز ہے جیسے آب قلیل متجنس یامستعمل سے طہارت یا چوتھائی سر سے کم کا مسح یا خونِ فصد و ریم زخم وقَے وغیرہا نجاسات غیر سبیلین پر وضو نہ کرنا یا قد درم سے زائد منی آلودہ کپڑے سے نماز پڑھنا یا صاحب ترتیب ہوکر باوصف یادفائتہ ووسعت وقت بے قضائے فائتہ نماز وقتی شروع کردینایا کوئی فرض ایک بار پڑھ کر پھر اُسی نماز میں امام ہوجانا تو ایسی حالت میں تو حنفی کو سرے سے اُس کی اقتداء جائز ہی نہیں اور اسکے پیچھے نماز محض باطل،

کما نص علیہ فی عامۃ کتب المذھب بل فی الغنیۃ اما الاقتداء بالمخالف فی الفروغ کالشافعی فیجوز مالم یعلم منہ مایفسد الصلاۃ علی اعتقاد المقتدی علیہ الاجماع انما اختلف فی الکرھۃ ۲؎اھجیسا کہ اس پر عامہ کتب مذہب میں تصریح ہے بلکہ غنیـۃ میں ہے فروعات میں مخالف مثلاً شافعی المسلک کی اقتداء اس وقت جائز ہوگی جب اس سے ایسے عمل کا علم نہ ہو جو اعتقاد ِمقتدی میں مفسدِنماز ہو جواز پر اجماع ہے البتہ کراہت میں اختلاف ہے اھ(ت)

(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المستملی    فصل فی الامامۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۵۱۶)

غرض جب وہ ایسے امور سے بری اور اُس کی اقتدا صحیح ہواس وقت بھی ان باتوں میں اس کی متابعت نہ کرے جو اپنے مذہب میں یقیناً ناجائز ونامشروع قرار پاچکی ہیں اگر متابعت کرے گا تو اُس کی نماز اس نامشروع کی مقدار کراہت پر مکروہ تحریمی یا تنزیہی ہوگی کہ پیروی مشروع میں ہے نہ غیر مشروع میں۔

ردالمحتار میں ہے:تکون المتابعۃ غیر جائزۃ اذاکانت فی فعل بدعۃ او منسوخ او ما لاتعلق لہ بالصلٰوۃ۱؎۔امام کی متابعت بدعت، عمل منسوخ اورہر اس عمل میںجائز نہیں جس کا تعلق نماز سے نہ ہو۔(ت)

(۱؎ رالمحتار        مطلب مہم فی تحقیق متابعۃ الامام     مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۴۸)

پھر خزائن الاسرار پھر حاشیہ شامی میں ہے:

انما یتبعہ فی مشروع دون غیرہ۲؎ (امام کی متابعت مشروع میں جائز لیکن غیر مشروع میں جائز نہیں۔ت)

 (۲؎رالمحتار        مطلب مہم فی تحقیق متابعۃ الامام     مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۳۴۹)

مجمع الانہر وحاشیہ طحطاویہ میں ہے :ماکان مشروعایتابعہ فیہ وماکان غیرمشروع لا۳؎ (ہر مشروع عمل میں امام کی متابعت ہوگی مگر غیر مشروع میں نہیں۔ت)

 (۳؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار    باب الوتر والنوافل         مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت    ۱/۲۸۱)

اسی طرح ترک سنّت میں امام کی پیروی نہیں بلکہ موجبِ اسا ء ت وکراہت ہے اگر وہ چھوڑے مقتدی بجالائے جبکہ اس کی بجا آوری سے کسی واجب فعل میں امام کی متابعت نہ چھوٹے ولہذا علماء فرماتے ہیں اگر امام وقت ِتحریمہ رفع یدین یا تسبیح رکوع و سجود یا تکبیر انتقال یا ذکر قومہ ترک کرے تو مقتدی نہ چھوڑے

کمانص علیہ فی نظم الزندویسی والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ والھندیۃ وخزانۃ المفتین وفتح القدیر والغنیۃ والدرالمحتار وحاشیۃ الدرر للعلامۃ شرنبلالی وغیرھا وھذا نص البزازیۃ ملخصا، تسعۃ اشیاء اذا ترک الامام اتی بھا الماموم رفع الیدین فی التحریمۃ وتکبیرۃ الرکوع اوالسجود او التسبیح فیھما اوالتسمیع ۴؎الخ۔نظمِ زندویسی ،خانیہ، خلاصہ ، بزازیہ، ہندیہ، خزانۃ المفتین، فتح القدیر، غنیـہ، درمختاراورحاشیہ در للعلامہ شرنبلالی اور دیگر کتب میں اس پر تصریح ہے ۔ عبارت بزازیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نو (۹)ایسی اشیاء جن کو امام ترک کردے تو مقتدی ان کو بجا لائے ،تکبیر تحریمہ کے موقعہ پر ہاتھوں کا اٹھانا، رکوع یا سجدہ کے لئے تکبیر یا ان دونوں مین تسبیح یا تسمیع (سمع اﷲلمن حمدہ کہنا) الخ(ت)

 (۴؎ فتاوٰی بزازیۃ مع الفتاوٰی الھندیۃ     نوع من الثانی صلی المغرب    مطبوعہ نورانی کتب کانہ پشاور    ۴/۵۸ )

یوں ہی تکبیرات ِ عیدین میںرفع یدین فی الدر یرفع فی الزوائد ان لم یرامامہ ذلک ۱؎ الخ (درمختار میں ہے تکبیرات زوائد میں اپنے ہاتھ بلند کرے خواہ امام اس عمل کو جائز نہ سمجھتا ہو الخ۔ت)

 (۱؎ درمختار  ، باب العیدین ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱/۱۱۶)

اور اگر رکوع و سجود میں ایک ہی تسبیح کہہ کر سر اُٹھائے تو مقتدی بھی ناچار سنت تثلیث ترک کرے ورنہ قومہ و جلسہ کی متابعت میںخلل آئے گا۔

ھوالصحیح کما فی الخانیۃ والخلاصۃ والخزانۃ والوجیزوالفتح والبحر وغیرھامن الاسفار الغر وھذا نظم الدرانہ مما یبتنی علی لزوم المتابعۃ فی الارکان انہ لو رفع الامام راسہ من الرکوع اوالسجود قبل ان یتم الماموم التسبیحات الثلث وجب متابعتہ ۲؎ ۔یہی صحیح ہے جیسا کہ خانیہ، خلاصہ، خزانہ، وجیز، فتح، بحر وغیرہ معتبر کتابوں میں ہے ،درمختار کے الفاظ یہ ہیں ارکانِ نماز میں امام کی پیروی لاز م ہونے پر یہ مسئلہ مبنی ہے کہ اگر امام نے اپنا سر رکوع وسجود سے مقتدی کی تین تسبیحات مکمل ہونے سے پہلے اُٹھا لیا تو مقتدی پر متابعتِ امام لازم ہے۔(ت)

 (۲؎ درمختار ،  فصل واذا ارادالشروع الخ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۷۵)

شرح منیہ علامہ ابرہیم حلبی و حاشیہ سیّد ابن عابدین میں ہے:الاصل عدم وجوب المتابعۃ فی السنن فعلا فکذا ترکا وکذا الواجب القولی الذی لایلزم من فعلہ المخالفۃ فی واجب فعلی کالتشھد وتکبیر التشریق بخلاف القنوت و تکبیرات العیدین اذیلزم من فعلھا المخالفۃ فی الفعل وھو القیام مع رکوع الامام الخ۳؎ اھ ملخصا۔اصل یہ ہے کہ سنن میں امام کی متابعت جس طرح فعلاً لازم نہیں اسی طرح ترکاً بھی لازم نہیں ،یہی حکم اس واجب قولی کا ہے جس کے بجالانے سے کسی واجب فعلی کی مخالفت لازم نہ آئے مثلاً تشہد اور تکبیرات تشریق بخلاف دعا قنوت اور تکبیرات ِعیدین کے کیونکہ ان کے بجالانے سے فعل میں مخالفت لازم آتی ہے ،یعنی ایسی صورت میں امام رکوع میں ہوگا اور مقتدی حالتِ قیام میںہوگا الخ اھ تلخیصاً۔(ت)

 (۳؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۶۸)

جب یہ اصول معلوم ہولئے تواُن تینوں فروع کاحکم بھی انھیںسے نکل سکتا ہے رکوع وغیرہ میں رفع یدین ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے نزدیک منسوخ ہوچکا ہے اور منسوخ پر عمل نا مشروع ، تو اس میں متابعت نہیں ۔امام ملک العلماء ابوبکر مسعود کاشانی قدس سرہ الربانی بدائع میں فرماتے ہیں:لو اقتدی بمن یرفع یدیہ عند الرکوع او بمن یقنت فی الفجر او بمن یری خمس تکبیرات فی صلٰوۃ الجنازۃ لایتابعہ لظھور خطیئہ بیقین لان ذلک کلہ منسوخ ۱؎ اھ نقلہ فی عیدردالمحتار۔اگر کسی نے ایسے امام کی اقتداء کی جو رکوع کے وقت رفع یدین کرتا ہے یا نمازِ فجر میں قنوت پڑھتا ہےیا تکبیرات ِ جنازہ پانچ کہتا ہے تو مقتدی اس کی اتباع نہ کرے کیونکہ اس کا غلطی پر ہونا یقینی ہے کیونکہ یہ تمام منسوخ ہیں اھ ردالمحتار کے باب العید میں اس کو نقل کیا ہے۔(ت)

(۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان قدر صلٰوۃ العیدین     مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۷۸)

جلالی پھرشرح المقدمۃ الکیدانیۃ للقہستانی پھر جنائز حاشیہ شامی میں ہے:

لا تجوز المتابعۃ فی رفع الیدین فی تکبیرات الرکوع۲؎۔تکبیراتِ رکوع کے موقعہ پر امام کے رفع یدین کرنے کی اتباع جائز نہیں۔(ت)

(۲؎ ردالمحتار ،  مطلب المراد بالمجتہد فیہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر ،  ۱/۳۴۸)

قومہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا شافعیہ کے نزدیک نمازِ فجر کی رکعت اخیرہ میں ہمیشہ وتر کی تیسریمیں صرف نصف اخیر شہرِ رمضان المبارک میں ہے کہ وہ ان میں دعائے قنوت پڑھتے ہیں ۔قنوت ِفجر تو ہمارے ائمہ کے نزدیک منسوخ یابدعت ، بہرحال یقینا نامشروع ہے۔لہذا اس میں پیروی ممنوع ،اور جب اصل قنوت میں متابعت نہیں تو ہاتھ اٹھانے میں کہ اس کی فرع ہے اتباع کے کوئی معنی نہیں مگر اصل قومہ رکوع فی نفسہ مشروع ہے لہذا وُہ جب تک نمازِفجر میں قنوت پڑھے مقتدی ہاتھ چھوڑے چُپکا کھڑا رہے۔درمختار میں ہے :

یاتی الماموم بقنوت الوتر ولوبشافعی یقنت بعد الرکوع لانہ مجتھد فیہ لا الفجر لا نہ منسوخ بل یقف ساکتا علی الاظھر مرسلا یدیہ ۳؎۔مقتدی وتروں میں دعائے قنوت پڑھے اگر چہ اس نے ایسے شافعی المذہب امام کی اقتدا میں نماز شروع کی جو رکوع کے بعد قنوت پڑھنے والا ہو کیونکہ یہ معاملہ اجتہادی ہے البتہ فجر میں قنوت نہ پڑھے کیونکہ وہ منسوخ ہے،بلکہ وہ مقتدی مختار قول کے مطابق ہاتھ چھوڑے خاموش کھڑا رہے۔(ت)

(۳؎ درمختار ،  باب الوتر والنوافل ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ،   ۱/۹۴)

علامہ شرنبلالی نورالایضاح میں فرماتے ہیں :اذا اقتدی بمن یقنت فی الفجر قام معہ فی قنوتہ ساکتا علی الاظہر ویر سل یدیہ فی جنبیہ ۱؎اگر کسی نے ایسے امام کی اقتدا کی جو فجر میں قنوت پڑھتا ہے تو مختار قول کے مطابق اس کے ساتھ خاموش کھڑا رہے اور اپنے ہاتھ پہلوؤں کی طرف چھوڑ دے۔(ت)

(۱؎ نور الایصاح    باب الوتر  ،   مطبوعہ مطبع علیمی لاہور    ص۳۸)

اور نمازِوتر میں اگر شافعی امام کے پیچھے اقتدا باقی رہے (کہ وہ وتر کےدو ٹکڑے کرتے ہیں پہلے تشہد پر سلام پھیرا  اخیر رکعت اکیلی پڑھتے ہیں اگر امام نے ایسا کیا جب تو رکعت قنوت آنے سے پہلے ہی اس کی اقتدا قطع ہوگئی اب نہ وہ امام نہ یہ مقتدی ،نہ اس کے وتر صحیح کہ اس کی وسط نمازمیں عمداً سلام واقع ہوا

فی الدرالمختار صح الاقتداء فیہ بشافعی لم یفصلہ بسلام لا ان فصلہ علی الاصح۲؎ اھ ملخصادرمختار میں ہے وتر میں حنفی کواس شافعی کی اقتداء درست ہے جو وتر کو سلام کے ساتھ جُدا نہ کرے(یعنی دورکعت پر سلام نہ پھیرے) اگر امام نے وتر کو دوگانہ کے بعد سلام پھیر کر جُدا کیا تو اصح قول کے مطابق اس کی اقتدا درست نہیںہے اھ ملخصاً) جب ایسا نہ ہو اورا قتد ا قائم رہے)

(۲؎ درمختار        باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مجتبائی دہلی     ۱/۹۴)

تو اگرچہ شافعیہ قنوت قومہ میں پڑھتے ہیں اور ہمارے مذہب میں اس کا محل قبل رکوع ،مگر ہمارے علماء نے تمام متون و شروح وفتاوٰی میں مقتدی کو حکم دیاکہ یہاں قنوت میں متابعت کرے ،اور اس کا منشاء وہی کہ اسے بالکل نامشروع نہیں ٹھہراتے

والمسئلۃ منصوص علیھا بدلیلھا فی الھدایۃ والکافی وسائر الشروح (اس مسئلہ سے متعلق عبارات بمع دلائل ہدایہ، کافی اور دیگر شروح میں موجود ہیں۔ت)

رہا یہ کہ مقتدی اس حالت میں اتباع امام کرے یا اتباعِ مذہب ِامام یعنی ہاتھ باندھے یا چھوڑے یا دعا کی طرح اُٹھائے ، کیا کرنا چاہئے ،اس کی تصریح نظرِ فقیر سے نہ گزری ،نہ اپنے پاس کی کتب موجود میں اس سے تعرض پایا،ظاہر یہ ہے کہ مثل قیام ہاتھ باندھے گا کہ جب اسے قنوت پڑھنے کا حکم ہے تو یہ قیام ذی قرارو صاحبِ ذکر ،مشروع ہوا اور ہر ایسے قیام میں ہاتھ باندھنا نقلاً وشرعاً سنّت اور عقلاً و عرفاً ادبِ حضرت اور ترکِ سنّت میں امام کی پیروی نہیں،

وقد یؤید ذلک اطلاقھم قاطبۃ سنیۃ الوضع فی حالۃ القنوت کما فی عامۃ الکتب المذھبۃ فیکون متنا ولا لھذا القنوت المخصوص ایضاً۔اس کی تائید فقہا کی ان عبارات سے ہوتی ہے جن میں ہے کہ قنوت کے موقع پرہاتھ باندھنا سنّت ہے جیسا کہ عام کتب ِمذہب مین ہے تو وہ حکم اس مخصوص قنوت کو بھی شامل ہوگا۔(ت)

بلکہ درمختار میں ہے:ھو ای الوضع سنۃ قیام لہ قرار فیہ ذکر مسنون فیضح حالۃ الثناء وفی القنوت لا فی قیام بین رکوع وسجود وتکبیرات العید مالم یطل القیام فیضع ،سراجیۃ ۱؎اھ ملخصا۔وہ یعنی ہاتھ باندھنا اس قیام کی سنت ہے جس میں طول اور کوئی ذکر مشروع ہو(یعنی جس کے پڑھنے کاحکم ہو خواہ وُہ ذکر فرض ،واجب یا سنت ہو) پس ثنا اور قنوت کے موقع پر ہاتھ باندھے جائیں،رکوع اور سجود کے درمیان (یعنی قومہ میں)اور تکبیرات ِعید کے قیام میں ہاتھ باندھے جب تک قیام کو طویل نہ کرے ،اگر طویل کرے تو باندھ لے،سراجیہ اھ ملخصاً (ت)

(۱؎ درمختار       فصل واذا ارادالشروع الخ    مطبوعہ مطبع مجتبائی لاہور    ۱/۷۴)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article خانساماں نوکر حافظ قران کے پیچھے نماز کا حکم نابینا کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ Next article
Rating 2.76/5
Rating: 2.8/5 (254 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu