• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > نابینا کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟

نابینا کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟

Published by Admin2 on 2012/7/19 (1008 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر۵۸۴: از ملک آسام ضلع جوہاٹ ڈاکخانہ گٹنگا مقام سرائے بہی    مرسلہ سیّد محمد صفاء الدین صاحب     ۱۰ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عدیم البصر کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا

الجواب: بلاشبہ جائز ہے مگر اولٰی نہیں مکروہ تنزیہی ہے جبکہ حاضرین میں کوئی شخص صحیح العقیدہ غیر فاسق قرآن مجید صحیح پڑھنے والا اس سے زائد یا اس کے برابر مسائلِ نماز و طہارت کا علم رکھتا ہو ورنہ وہ عدیم البصرہی اولٰی وافضل ہے جو باوصف صفات مذکورہ باقی حاضرین سے اُسے علم میں زائد ہو۔

ہندیہ میں ہے:الاولٰی بالامامۃ اعلمھم باحکام الصلٰوۃ ھکذا فی المضمرات،وھوالظاہر ھکذا فی البحرالرائق ،ھذا اذاعلم من القرأۃ قدرماتقوم بہ سنۃ القرأۃ ھکذا فی التبیین، ولم یطعن فی دینہ کذا فی الکفایۃ ، وھکذا فی النھایۃ ،ویجتنب الفواحش الظاہرۃ وان کان غیرہ اورع منہ کذا فی المحیط ،وھکذا فی الزاھدی ،وان کان متبھرا فی علم الصلٰوۃ لکن لم لم یکن لہ حظ فی غیرہ من العلوم فھو اولی کذا فی الخلاصۃ ۱؎۔امامت کے لئے سب سے بہتر وہ ہے جواحکامِ نماز سے زیادہ آگاہ ہو۔مضمرات میں یہی ہے، اور مختار بھی یہی ہے ، بحرالرائق میں اسی طرح ہے ۔یہ اس وقت ہے جب اتنی قرأت سے واقف ہو جس سے قرأت مسنونہ ادا ہوجاتی ہو،تبیین میں اسی طرح ہے۔کفایہ اور نہایہ میں ہے کہ اس کے دین پر طعن نہ ہو ۔ محیط اور زاہدی میں ہے کہ وہ فواحشِ ظاہری سے بچنے والا ہو اگرچہ کوئی دوسرا اس سے زیادہ صاحبِ ورع ہو۔خلاصہ میں ہے اگر وہ مسائلِ نماز کے بارے میں نہایت ہی ماہر ہو لیکن وہ دیگر علوم میں واقفیت نہ رکھتا ہو تو پھر وہی اولٰی ہے(ت)

(۱؎ فتاوٰی ہندیہ    الفصل الثانی فی بیان من ہو احق بالامامۃ        مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۸۳)

اسی میں ہے:تجوز امامۃ الاعرابی والاعمی والعبد الا انھا تکرہ ۱؎ اھ ملخصا۔اعرابی،نابینا اور غلام کی امامت جائز ہے البتہ مکروہ ہے اھ ملخصاً(ت)

 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ ، الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ ، مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور، ۱/۸۵)

بحر میں ہے:کراہت تنزیہہ ۔خانیہ میں ہے:غیرھم اولی (ان کے علاوہ اولٰی ہے ۔ت)

حضرت عتبان بن مالک انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ باجازت حضور پُر نور سیّد المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اپنی قوم کی امامت فرماتے ،فی الصحیحین واللفظ لمسلم عن ابن شھاب ان محمود بن الربیع الانصاری حدثہ ان عتبان بن مالک وھومن اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ممن شھد بدرامن الانصار انہ اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یارسول اﷲ انی قد انکرت بصری وانا اصلی لقومی ۲؎ الحدیث فی اتیانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الٰی بیتہ وصلاتہ فیہ لیتخذہ مصلی۔بخاری و مسلم میں ہے اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ محمود بن الربیع انصاری سے مروی ہے کہ حضر ت عتبان بن مالک جو انصاری اور بدری صحابیِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں وہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے عرض کیایا رسول اﷲ ! میری آنکھیں جواب دے گئی ہیں حالانکہ میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں الی آخر الحدیث تو آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے نماز ادا فرمائی تاکہ وہ اس جگہ کواپنی نماز کی جگہ بنالیں۔(ت)

 (۲؎ صحیح مسلم ، باب الرخصۃ فی التخلف الخ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی،۱/۲۳۳)

حضرت ابن ام مکتوم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے سفر کو تشریف لیجاتے وقت دوبار مدینہ طیبہ پر نیابت عطا فرمائی کہ باقی ماندہ لوگوں کی امامت کرتے،

عزاہ فی البحر الی صحیح ابن حبان ۳؎بحر میں اس کی نسبت صحیح ابن حبان کی طرف ہے،

 (۳؎ بحرالرائق    باب الامامۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۳۴۸)

قلت اخرج احمد وابوداؤد عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استخلف ابن ام مکتوم علی المدینۃ مرتین یصلی بھم وھو اعمی ۱؎۔میں کہتا ہوں امام احمد اورابو داؤد نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت ابن ام مکتوم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو دومرتبہ مدینہ طیبہ میں اپنا خلیفہ مقرر فرمایاحالانکہ وہ نابینا تھے۔(ت)

 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     مروی از مسند انس بن مالک    مطبوعہ دارالفکر بیروت ،  ۳/۱۹۲

سنن ابو داؤد    باب امامۃ الاعمٰی    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۸۸)

علماء فرماتے ہیں انھیں امام مقرر کرنے کی یہی وجہ ہے کہ حاضرین میں سب سے افضل یہی تھےبحرالرائق میں ہے:قید کراھۃ امامۃ الاعمٰی فی المحیط وغیرہ بان لایکون افضل القوم فان کان افضلھم فھو اولی وعلی ھذا یحمل تقدیم ابن ام مکتوم لانہ لم یبق من الرجال الصالحین للامامۃ فی المدینۃ احد افضل منہ حینئذ ولعل عتبان بن مالک کان افضل من کان یؤمہ ایضاً اھ ۲؎محیط وغیرہ میں امامتِ اعمٰی کے مکروہ ہونے کے لئے یہ قید لگائی گئی ہے کہ وہ اعمٰی اس قوم سے افضل نہ ہو، اگر وہ دوسروں سے افضل ہے تو وہی بہتر ہوگا،اورحضرت ابنِ مکتوم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی تقدیم کو بھی اسی بات پر محمول کیا جاتا ہے کہ اس وقت مدینہ منورہ میں ان سے بڑھ کر امامت کا اہل کوئی نہیں تھا ،ممکن ہے حضرت عتبان بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ بھی دوسرے لوگوں سے افضل ہوں۔

 (۲؎ بحر الرائق ،باب الامامۃ ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱/۳۴۸)

قلت وقد سمعت انہ کان من الاصحاب البدریین رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین فان لم یکن فی من کان یؤمھم من شھد بدراکان افضلہم بالیقین۔واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔قلت (میں کہتا ہوں ) آپ نے سن لیا ہے کہ وہ اصحاب بد رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین میں سے تھے اگر ان کے مقتدیوں میں کوئی بھی اصحاب بدر میں سے نہ تھا تو وہ بالیقین ان سے افضل ہوئے(ت)


Navigate through the articles
Previous article میوزک کے شوقین امام کی امامت کا حکم فسق و فجور میں مشہور امام کی امامت کا حکم Next article
Rating 2.81/5
Rating: 2.8/5 (214 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu