• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > فسق و فجور میں مشہور امام کی امامت کا حکم

فسق و فجور میں مشہور امام کی امامت کا حکم

Published by Admin2 on 2012/7/19 (1470 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر ۵۸۵ ، ۵۸۸: از شاہجہانپور محلہ بابوزئی مرسلہ شاہ فخر عالم صاحب قادری    ۲۲ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ مسجد میں بحکم والی ملک(زید) جو حافظ قرآن و متشرع ہے قدیم سے خدمت ِ امامت بجالاتا ہے اور اس کی تنخواہ پاتا ہے لیکن بکر جو دوسرے سرشتہ کا ملازم ہے اور اس کے پاس باوجود یکہ کوئی حکم فسخ امامت کا زید کانہیں ہے اور نہ بکر کو حکم امامت کا والی ملک کے یہاں سے ملا اور عموماً مقتدیان بکر کی امامت سے بوجوہاتِ ذیل نارضامند ہیں:

(۱) یہ کہ بکر بعض اوقات رقصِ طوائف دیکھ لیتا ہے۔

(۲) کفار و مشرکین کے میلوں ٹھیلوں اور دیوالی کی شب جو ہنود میں صورت لچھمن کی ہوتی ہے اور خبائث دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی ہے شریک ہوکر بھی سب کے ساتھ مہورت کا روپیہ چڑھاتا ہے اور علاوہ تنخواہ اپنی مقررہ کے خلاف حکم لوگوں سے نذرانہ بھی لیتاہے۔

(۳) محفل میلادِ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اور قیام کو بدعت سیئہ بتلاتا ہے اور محفل یاز دہم حضرت غوث الثقلین محبوب سبحانی کرنے اور پڑھنے والے بدعتی اور گنہگار کہتا ہے اور شیرنیِ محفل میلاد کو برا جانتاہے ۔

(۴) شرفا و نجبا کی توہین اور غیبت کو فخر سمجھتا ہے اور مولوی ابو المنصور صاحب دہلوی کی نسبت جو امامِ وقت کہے جاتے ہیں ان کی تصنیف پر جو سب علماء دیکھ چکے ہیں اور کوئی حر ف زن نہیں ہوا مگربکر نے فتوی کفر دے دیا ہے پس مقتدیان وغیرہ کے دلوں میں جو بکر کی طرف سے بوجوہات بالاکراہت آگئی ہے اس واسطے بکر نماز نہ پڑھنے میں کوئی حر ج تو نہیں ہے اور بکر اپنی امامت کے باعث مقتدیان وغیرہ کو تارکِ جماعت دیکھتا مگر پھر بھی اپنی امامت نہیں چھوڑتا اور اس کے امام حکمی کو جس کا ذکر اوپر آچکا امامت کرنے کا موقع نہیں آنے دیتا پہلے خود امام بن جاتاہے توبکر کس گناہ کا مرتکب کہا جائے گا،فقط،بینوا تو جروا۔

الجواب: صورۃ مستفسرہ میں بکر کا فاسق فاجر مرتکب کبائر بدعتی گمراہ خائب و خاسر ہونا تو بداہۃً ظاہر اور اگر لچھمن کو روپیہ معاذ اﷲ بطور عبادت بھینٹ چڑھایا ہے تو قطعاً یقیناً مرتد کافر اور اس فعل ملعون کے بدترین فسق و فجور قریب بکفر ہونے میں تو کلام ہی نہیں بہرحال اُس کے پیچھے نماز نہ پڑھنے میں کیا حرج ہوتا بلکہ اقتدا میں حرج اور سخت حرج ہے جو اسے امام کرے گا گنہگار ہوگا مسلمان اس فاسق بددین کے پیچھے نماز ہرگز نہ پڑھیں جہاں تک قدرت ہو اُسے امامت سے دفع کریں قدرت نہ پائیں تو اپنی جماعت جُدا کریں اور جبکہ امام معین یعنی زید اور عامہ اہل مسجد انھیں کے ساتھ ہیں تو جماعت اولٰی  اِنھیں کی جماعت ہوگی اگرچہ وہ پہلے پڑھ جائے بلکہ جبکہ اس کے اسلام میں شک ہے تو انھیں درجہ اولٰی جائز ہے وہ جس وقت امامت کر رہا ہو اُسی وقت مسجد میں یہ اپنی جماعت قائم کریں اور اگر یہ ایسا کریں تو اس جماعت کے مقتدیوں کو چاہئے فوراً نیت توڑ کر اس میں میں آملیں اگر ایسا نہ کریں گے تو انھیں اپنی نماز پھیرنی ہوگی یُوں ہی آج تک جتنی نمازین لوگوں نے دانستہ خواہ نادانستہ اس کے پیچھے پڑھی ہیں سب پھیریں، اور اگر مسلمان نہ اُسے امامت سے دفع کرسکتے ہیں نہ اُس مسجد میں اپنی جماعت اس سے پہلے یا ساتھ یا بعد کرسکتے ہیں تو انھیں روا ہے کہ اس مسجد میں نماز نہ پڑھیں دوسری مسجد میں جاکر شریک جماعت ہوں۔

مراقی الفلاح میں ہے:کرہ امامۃ الفاسق العالم لعدم اھتمامہ بالدین فتجب اھانتہ شرعا فلا یعظم بتقدیمہ للامامۃ واذاتعذر منہ ینتقل عنہ الی غیر مسجدہ للجمعۃ وغیرھا۱؎۔فاسق کی امامت مکروہ ہے کیونکہ وہ اہتمامِ دین نہیں کرتا پس شرعاً اس کی اہانت ضروری ہے تو امامت میں مقدم کرکے اس کی تعظیم نہ کی جائے اور جب اسے امامت سے روکنا متعذر ہو تو جمعہ وغیرہ کے لئے آدمی کسی دوسری مسجد میں چلا جائے۔(ت)

 (۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی   فصل فی بیان الاحق بالامامۃ  مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص۱۶۵)

غنیـہ میں ہے:فی فتاوی الحجۃ اشارۃ الی انھم لوقدموا فاسقایا ثمون۲؎ اھ ملخصا۔فتاوی الحجہ میں ہے اس سے اشارہ ہے کہ لوگوں نے فاسق کو امام بنایا تو تمام گنہ گار ہوں گے اھ ملخصاً(ت)

 (۲؎ غنیـۃ المستملی شرح منیہ المصلی    فصل فی الامامۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۵۱۳)

ردالمحتار میں ہے:بقی لوکان مقتدیابمن یکرہ الاقتداء بہ ثم شرع من لاکراھۃ فیہ ھل یقطع ویقتدی بہ استظھرط ان الاول لوفاسقالایقطع ولو مخالفاوشک فی مراعاتہ یقطع اقول والاظھر العکس لان الثانی کراھتہ تنزیھیۃ کالاعمی والاعرابی بخلاف الفاسق فانہ استظھر فی شرح المنیۃ انھاتحریمیۃ لقولھم ان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علینا اھانتہ بل عند مالک  و روایۃ عن احمد لاتصح الصلٰوۃ خلفہ۳؎ اھ قلت والحکم فیما نحن فیہ ابین واظھر علی کلا الاستظھارین کما لایخفی من حال ذلک الافسق الاطغی۔باقی رہا یہ معاملہ کہ اگر کسی نے اقتداء کی اس شخص کی جس کی اقتداء مکروہ تھی پھر ایسے شخص نے نماز شروع کی جس میں کراہت نہ تھی تو کیا نماز قطع کردے اور دوسرے کی اقتداء کرے؟ ط نے اس کو ترجیح دی ہے کہ اگر اول فاسق ہو(یعنی مخالف نہ ہو) تو نماز قطع نہ کرے اوراگر وہ مُخالف ہو اور رعایتِ نماز میں شک ہو تو قطع کردے، میں کہتا ہوں مختاراس کا عکس ہے کیونکہ دوسری(یعنی مخالف کی) صورت میں کراہت تنزیہی ہے جیسا کہ نابینا اوراعرابی کی امامۃ میں ہے بخلاف فاسق کے کہ اس کے بارے میں شرح منیہ میں ہے کہ مختار یہی ہے کہ اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ فقہا کہتے ہیں کہ اس کو امام بنانے کی بنا پر اس کی تعطیم ہوگی حالانکہ ہم پر اس کی اہانت لازم ہے بلکہ امام مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک اورایک روایت کے مطابق امام احمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک فاسق کے پیچھے نماز جائز ہی نہیں اھ قلت (میں کہتا ہوں) جس کے بارے میں ہم گفتگو کر رہے ہیں دونوں مختار اقوال کے مطابق اس کا حکم نہایت ہی واضح ہے جیسا کہ اس بدتر فاسق اور بدتر باغی کے حال سے آشکارا ہے۔(ت)

 (۳؎ ردالمحتار        باب ادراک الفریضہ     مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۵۲۵)

درمختار میں ہے :کل صلٰوۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا۱؎۔ہر وُہ نماز جو کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے اس کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔(ت)

 (۱؎ درمختار        باب صفۃ الصلٰوۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۷۱)

بکر جیسا کہ اپنے دیگر اقوال وافعال مذکورہ سوال کے باعث خاطی و بزہ کار اور اس بھینٹ کے سبب بدترین و ناپاک ترین اشرار، یوں ہی اس امامت میں بھی کہ بنا راضی مقتدیان ہے مخالف شرع و گنہگار ہے۔

حدیث پاک میں ہےحضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ثلثۃ لعنھم اﷲ من تقدم قوما وھم لہ کارھون وامرأۃ باتت وزوجھا علیھا ساخط ورجل سمع حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح فلم یجب ۲؎۔رواہ الحاکم فی المستدرک۔تین شخص ہیں جن پر اﷲ تعالٰی کی لعنت ہے ایک وہ کہ لوگوں کی امامت کو کھڑا ہوجائے اور وُہ اس سے ناخوش ہوں، دوسری وہ عورت کہ رات گزارے اس حالت میں کہ اس کا شوہر اُس سے ناراض ہے، تیسرا وہ شخص کہ حی علی الصلٰوۃ وحی علی الفلاح سنے اور نماز کو حاضر نہ ہو۔ اسےحاکم نےمستدرک میں روایت کیا ۔(ت)

(۲؎ الزواجر عن اقتراف الکبائر     بحوالہ مستدرک الکبیرۃ السادسۃ والثمانون    دارالفکر بیروت    ۱/۲۳۹)

خصوصاً ایسی امامت تو اور بھی سخت ہے کہ بلاوجہ شرعی امامِ متعین کا منصب چھین کر جبراً لوگوں کی امامت کرے ائمہ دین نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ،ابن حجر مکی زواجرعن اقتراف الکبائر میں فرماتے ہیں:الکبیرۃ السادسۃ والثمانون امامۃ الانسان لقوم وھم لہ کارھون،عدھذا من الکبائر مع الجزم بہ وقع لبعض ائمتنا وکانہ نظر الٰی مافی ھذہ الاحادیث وھو عجیب منہ ، فان ذلک مکروہ نعم ان حملت تلک الاحادیثعلی من تعدی علی وظیفۃ امام راتب فصلی فیھا قھرا علی صاحبھا وعلی المامومین امکن ان یقال حینئذ ان ذلک کبیرۃ لان غصب المناصب اولی بالکبیرۃ من غصب الاموال المصرح فیہ بانہ کبیرۃ اھ ۱؎ ملخصا۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔چھیاسیواں کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی کا ان لوگوں کی امامت کروانا جو اسے پسند نہ کرتے ہوں اس عمل کو ہمارے بعض ائمہ نے بالجزم کبائر میں شمارکیا ہے،شاید انہوں نے یہ اُن احادیث کی روشنی میں کیا ہو لیکن یہ عجیب ہے کیونکہ یہ عمل مکروہ ہے البتہ ایک صورت ایسی ہے جب ان احادیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے جس نے مقرر امام پر زیادتی کی اور اس پر مقتدیوں پر جبراً اپنی امامت کو مسلط کیا تو اس وقت کہا جاسکتا ہے کہ یہ عمل کبیرہ گناہ ہے کیونکہ مناصب کا غصب کرنا بطریق اولٰی کبیرہ ہے اس غصب سے جو مال کاہو جس کے کبیرہ ہو نے پر تصریح موجود ہے اھ ملخصاً(ت)

 (۱؎ الزواجر عن اقتراف الکبائر         الکبیرۃ السادسہ والثمانون    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۱/۲۴۰)


Navigate through the articles
Previous article نابینا کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ وہابی المذہب امام کی اقتداء کرنا کیسا ہے؟ Next article
Rating 2.96/5
Rating: 3.0/5 (279 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu