• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > جو لمبی سورتیں نہ پڑھ سکے وہ امام ہو سکتا ہے؟

جو لمبی سورتیں نہ پڑھ سکے وہ امام ہو سکتا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/7/19 (2145 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۵۹۰: ازمارہرہ مطہر ضلع ایٹہ مرسلہ سیّد ظہور حیدر میاں صاحب    ۱۱جمادی الآخری ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو بہت رکوع اور سورتیں یاد ہیں جن سے وہ نماز پڑھاتاہے مگر اسے کھڑے پڑے مدوشد وقف رہاؤ پر چنداں خیال عبور نہیں اپنے نسیان کی وجہ سے مجبور ہے حافظ یاقاری کو سنا کر صاف بھی کرتا ہے تاہم بڑے رکوع یا سُورت نقصان حافظہ یا کمی علم عربی قواعد قرأت کے سبب امور مذکورہ کا خیال نہیں رہتا ہاں چھوٹے رکوعوں سورتوں پر اکتفا کرے تو کسی قدر عبوررہ سکتا ہے مگر صبح وعشاء وغیرہ میں جوطوال اوساط کا حکم ہے اُس کی رعایت نہ ہوگی زید سین وصاد میں بھی غلطی کرتا ہے اس صورت میں زید کی امامت درست ہے یا مکروہ؟ اورکھڑا پڑا ادا نہ ہونے سے نماز تو مکروہ نہ ہوگی اور اگرہر نماز میں قصار پر قناعت کرے تو کیا حکم ہے؟ دوسراشخص بکر ہے جو تمام امورِ قرأت حسبِ قواعد ملحوظ رکھتا ہے مگر بوجہ اپنے کسی فعل ناجائز مثل نشہ ممنوع شرعی میں معلن ہونے کے امامت سے انکار کرکے زید کو جو بوجہ غلطی سین و صاد وعدم رعایت امور مذکورہ معذور ہے امام کرنا چاہتا ہے اور خود انکار کرتا ہے ایسی صورت میں اس کا اپنی امامت سے انکاراور زید کو امام کرنا درست ہے یا نہیں اور ان دونوں میں لائق امامت کون ہے ؟بینواتوجروا

الجواب: اس مسئلہ میں جواب سے پہلے چند مسائل کا معلوم کرنا ضرور:

(۱) وقف کی غلطی کہ وصل کی وقف،وقف کی جگہ وصل کرے۔یہ اصلاً مفسدِنماز نہیں اگرچہ وقف لازم پر نہ ٹھہرےکما نص علیہ فی الھندیۃ وفی المنیۃ وشرحہا للعلامۃ الحلبی الوقف فی غیر موضعہ و الابتداء من غیر موضعہ لایوجب فساد الصلٰوۃ عندعامۃ علمائنا (الٰی ان قال بعد ذکر الامثلۃ) فالصحیح عدم الفساد فی ذلک کلہ لماتقدم ولانہ نظم القراٰن ۱؎ اھ ملخصاجیسا کہ ہندیہ،منیہ اور اس کی شرح للعلامہ حلبی میں تصریح ہے کہ ہمارے اکثر علماء کے نزدیک غیر وقف کی جگہ وقف اور غیر شروع کی جگہ شروع کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی (آگے چل کر مثالیں ذکر کرنے کے بعد کہا)صحیح یہ ہے کہ ان تمام صورتوں میں فساد نہیں، اس دلیل کے پیشِ نظر جو گزرچکی اوراس لئے کہ یہ نظمِ قرآن ہیں اھ ملخصاً (ت)

 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل زلۃالقاری    مطبوعہ عہیل اکیڈمی لاہور        ص ۴۸۰)

 (۲) جن حروف پر مد ہے جیسے جآء ،تنوٓء ،جآء،  یآ یھا، قالوٓا انا، فیٓ ایّام، دآبۃ، آمین (وہاں مد نہ کرنا بھی اصلاً مفسد نہیں،

فان ذلک من محسنات التجوید ولادخل لہ فی المعنی بل فی اللفظ ایضا بحیث یتغیربترکہ اللفاظ فضلا عن المعنی۔کیونکہ یہ حسنِ تجوید میںسے ہے اس کا معنی میں بلکہ الفاظ میں بھی کوئی دخل نہیں کیونکہ اس کے ترک سے الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی چہ جائیکہ معنی میں تبدیلی آئے(ت)

(۳) جن حروف مد یا لین پر مد نہیں مثلاً قال یقول قیل قول خیر۔ان پر بھی موجب فساد نہیں جبکہ حد سے زیادہ نہ ہوں ،ہاں حد سے متحاوز ہو جیسے گانے میں زمزمہ کھینچا جاتا ہے توآپ ہی مطلقاً مفسد ہے اگر چہ مد ہی کی جگہ ہو،

فی الخانیۃ لوقرألقراٰن فی صلاۃ بالحان ان غیرالکلمۃ تفسد صلٰوتہ لما عرف فان کان ذلک فی حروف المد واللین وھی الیاء والالف والواو  لایغیر المعنی الا  اذا  فحش ۱؎اھخانیہ میں ہے اگر نماز میں الحان کے ساتھ قرآن پڑھا اگر کلمہ میں تبدیلی آگئی تونماز فاسد ہوجائے گی جیسا کہ معروف ہے  پس اگر وہ الحان حروف مد اور لین میں ہو  جو کہ یاء ،الف اور واؤ ہیں تو معنی میں تبدیلی نہیں ہوگی البتہ اس صورت میں آئےگی جب وہ حد سے متجاوز ہو اھ۔

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان ،  فصل فی قرأۃ القرآن خطاء، مطبوعہ نو لکشور  لکھنؤ ، ۱/۷۵)

فی ردالمحتار قولہ بالالحان ای بالنغمات وحاصلھا کما فی الفتح اشباع الحرکات لمراعات النغم۲؎۔ردالمحتار میں ہے قولہ بالالحان یعنی نغمہ کے ساتھ پڑھنا اوراس کا حاصل فتح کے مطابق نغمہ کی رعایت کی خاطر حرکات میں اشباع کرنا ہے۔(ت)

 (۲؎ ردالمحتار        باب ما یفسد الصلٰوۃ الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۶۶)

(۴) کھڑے کو پڑا پڑھنا بھی مفسد نہیں:

فی القنیۃ قع حم قرأوتعال جدک بغیریاء لاتفسد وعن جار اﷲ مثلہ لان العرب یکتفی بالفتحۃ عن الالف اکتفاء ھم بالکسرۃ عن الیاء ولوقرأ اعذباﷲ لاتفسدصلاتہ ایضا لاکتفائھم بالضمۃ عن الواو۳؎۔قنیہ میں ہے قع حم کے ہاں اگر کسی نے تعالٰی جدک یاء کے بغیرپڑھا تو نماز فاسد نہ ہو گی اور جاراﷲ سے بھی یہی منقول ہے کیونکہ اہلِ عرب الف کی جگہ فتحہ پر اکتفا کرلیتے ہیں جیسا کہ یاء کی جگہ کسرہ پر اکتفاء کرتے ہیں اور اگر اعوذ باﷲکی جگہ اَعُذُ باﷲ پڑھا تو بھی نمازفاسدنہ ہوگی کیونکہ اہلِ عرب واو کی جگہ ضمہ پر اکتفاء کرلیتے ہیں۔(ت)

 (۳؎ قنیہ فتاوٰی قنیۃ        باب فی حذف الحرف والزیادہ     المطبعۃ المشتہرہ بالمہانندیۃ    ص۶۳)

عک وجار اﷲ والصلاوات لاتفسد وکذا لو قرأ وطور سنین بحذف الیاء لا تفسد عک ولو قرء نَسْتَعِنُکَ اوْونُؤمِینُ بک لاتفسد ۱؎ اھعین الائمہ کرابیسی اور جار اﷲ زمخشری کے نزدیک اگر کسی نے والصلاوات پڑھااور اسی طرح اگر کسی نے وطورسنین یاء کوحذف کرکے پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی۔ عین الائمہ کرابیسی کے نزدیک اوراگر '' نستعینک ' ' یا ''ونؤمین بک''پڑھاتو نماز فاسد نہ ہوگی اھ

 (۱؎ قنیہ ، فتاوٰی قنیۃ    باب فی حذف الحرف والزیادۃ    مطبعۃ مشتہرۃ بالمہانندیۃ    ص۶۳)

وفی الغنیۃ اذاکان الحذف علی وجہ الترخیم الجائز فی العربیۃ نحوان یقرأ یا مالک بحذف الکاف فلا تفسد اجماعاوکذا اذالم یکن من اصول الکلمۃ کما اذا اقرأ الواقعۃ بغیرھاوکذا ان کان من الاصول و لم یتغیر المعنی کان یقرأ تعالٰی جد ربنا باللام مع حذف الیاء فی تعالٰی لا تفسد بالاتفاق۲؎ اھاور غنیـہ میں ہے اگر حذف بطورترخیم ہو جو اہل عرب کے ہاں جائز ہے مثلا یامالک کے کا ف کو حذف کرکے پڑھا تو بالاتفاق نمازفاسدنہ ہوگی اسی طرح جب وہ حرف کلمہ کے اصلی حروف میں سے نہ ہو مثلاً لفظ الواقعہ کو ہاء کے بغیر پڑھااسی طرح اگروہ حرف کلمہ کے حروف اصلی میں سے ہو مگر معنٰی میں تبدیلی نہ آئے مثلاً تعالٰی جدّ ربّنامیںتعالی کے یاء کوحذف کرکے صرف لام کے ساتھ پڑھا تو بالاتفاق نماز فاسد نہ ہوگیاھ(ت)

 (۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی بیان احکام زلۃ القاری    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۴۸۵)

ان چاروں باتوں سے اگرچہ فساد نماز نہیں مگر کراہت ضرور ہے کہ آخر قرآنِ عظیم کا غلط پڑھنا ہے یہاں تک کہ علمائے کرام نے فرمایا :مد کا ترک حرام ہے۔توکھڑے کو پڑاپڑھنا بدرجہ اولی حرام ہوگا اس میں توجوہر لفظ میں کمی ہوگئی بخلاف مدکہ امرزائد تھا،

فی الدرعن الحجۃ فی النفل لیلا،لہ ان یسرع بعد ان یقرأکمایفھم۳؎اھدرمختار میں الحجہ کے حوالے سے ہے کہ رات کے وقت نوافل میں اتنا تیز پڑھ سکا ہے کہ پڑھا ہوا سمجھا جاسکے اھ

 (۳؎ درمختار        فصل ویجہر الامام الخ        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۸۰)

قال السید ان العلامتان الطحطاوی والشامی قولہ کما یفھم ای بعد ان یمد اقل مدقال بہ القراء والاحرم لترک الترتیل الماموربہ شرعا۴؎۔ہمارے دونوں سید علامہ طحطاوی اورشامی فرماتے ہیں اس کا قول کمایفھم سے مراد یہ ہے کہ وہ مدکی کم ازکم مقدارضروری ہے۔یہ بات قراء نے بتائی ہے ورنہ یہ عمل حرام ہوگا کیونکہ اس میں اس کا ترتیل کا ترک لازم آتا ہے جس کا شرعاً حکم ہے۔(ت)

(۴؎ ردالمحتار        فصل و یجہرالامام الخ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۰۰)

یوں ہی تصریح فرماتے ہیں کہ جو شخص وقف ووصل کی رعایت نہ رکھتا ہو اُسے امام نہ ہونا چاہئے۔

فی الھندیۃ عن المحیط من یقف فی غیر مواضعہ ولایقف فی مواضعہ لاینبغی لہ ان یؤم ۱؎۔ہندیہ میں محیط کے حوالے سے ہے کہ وُہ شخص جو غیر وقف کی جگہ وقف کرے اوروقف کی جگہ وقف نہ کرے اسے امام نہیں ہونا چاہئے۔(ت)

 (۱؎ فتاوی ہندیہ    الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماماً لغیرہ   مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۸۶)

 (۶) پڑے کو کھڑا پڑھنے سے اگرمعنی فاسد نہ ہوں جیسےاتلُ ادعُ یرضَہ لم یخشَ وَانہ لاتأسَ علیہ لاتمشِ یعبادکو اتل، ادع، یرضٰہ لم یخشٰ وانہ لا تاس علیہ، لا تمشٖ ٰیعبادٖ پڑھنا تو نماز فاسد نہ ہوگی۔

فی الغنیۃ ان زادحرفا ان لم یغیرالمعنی بان قرأ وَاْمُر بالمعروف وانھی عن المنکر بزیادۃ الالف فی اللفظ بعد الھاء لاتفسد۲؎ اھ ملخصا۔غنیـہ میں ہے اگر کسی نے ایسے حرف کا اضافہ کیا جس سے معنی میں تبدیلی نہ آئے مثلاً وأمر بالمعروف وانہی عن المنکر میں ہا کے بعد الف پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اھ ملخصاً۔(ت)

 (۲؎ غنیـۃ المستملی شرح منیہ المصلی  فصل فی بیان احکام زلۃ القاری   مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور   ص ۴۸۴)

ورنہ فاسد،

کما قدمنا عن الخانیۃ وفی الدرومنھا ای من المفسدات القراء ۃ بالالحان ان غیر المعنی ۳؎ الخجیساکہ ہم پہلے خانیہ حوالے سے بیان کرچکے ہیں اور درمختار میں ہے مفسدات ِ نماز میں قراء ۃ بالالحان بھی ہے بشرطیکہ معنی تبدیل ہوجائے الخ

 (۳؎ درمختار        باب مایفسد الصلٰوۃ الخ    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۹۰)

فی ردالمحتار قولہ ان غیرالمعنی کمالو قرأ الحمدﷲ رب العٰلمین واشبع الحرکات حتی اتی بواو بعد الدال وبیاء بعد اللام والھاء وبالف بعد الراء ومثلہ قول المبلغ رابنا لک الحامد بالف بعد الراء لان الراب ھوزوج الام کمافی الصحاح والقاموس وابن الزوجۃ یسمٰی ربیبا اھ ۴؎۔ردالمحتار میں ہے کہ ماتن کے قول ان غیرالمعنی کی مثالیں یوں ہیں کہ الحمد ﷲ رب العٰلمین میں اگر کسی نے حرکات میں اشباع کیا وہ یوں کہ دال کے بعد واو ،لام اور ہاء کے بعد یا اور راء کے بعد الف پیدا ہوگیا اسی طرح ہے مکبر کا قول ''رابنا لک الحامد''یعنی راء کے بعد الف پڑھ دیا کیونکہ راب ماں کے شوہر کوکہا جاتا ہے جیسا کہ صحاح اورقاموس میں ہے، اور زوجہ کے بیٹے کو ربیب کہا جاتا ہے اھ (ت)

 (۴؎ ردالمحتار   باب مایفسد الصلٰوۃ الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۶۶)

اقول:ھذاھوالموافق لکلام اصحابنا المتقدمین وقاعدتھم الغیر المنخرمۃ المختارۃ للمحققین فلا علیک ممایوجد من خلاف ذلک فی بعض الفروع المنقولۃ عن المتاخرین نعم ماذکر فی الراب فعندی فیہ وقفۃ فانہ القیاس فی اسم فاعل الربوبیۃ وان کان فی الاستعمال بمعنی اخرواھل اللغۃ لایذکرون المشتقات القیاسیۃ ولاھی موقوفۃ علی السماع والا لم تکن قیاسیۃ والقیاس لایردالابالنص علی ھجر انہ لاجرم قال فی تاج العروس ھواسم فاعل من ربہ یربہ ای تکفل بامرہ۱؎ اھاقول ( میں کہتا ہوں ) یہ گفتگو ہمارے متقدمین علماء کے کلام اور محققین کے اختیار کردہ ان کے پختہ ضابطہ کے مطابق ہے لہذا متاخرین سے اس کے خلاف جو جزئیات منقول ہیں آپ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں البتہ لفظ رابکے بارے میں جو کچھ ذکر ہُوا اس میں مجھے توقف ہے کیونکہ قیاساً یہ ربوبیت سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اگرچہ کسی دوسرے معنی کے لئے بھی مستعمل ہے اور اہلِ لغت مشتقات قیاسیہ کا ذکر کرتے ہی نہیں اور نہ ہی وہ سماع پر موقوف ہوتے ہیں ورنہ وہ قیاسی ہی نہ رہیں اور قیاس کو اس وقت رَد کیا جاسکتا ہے جب اس کے ترک پر نص ہو۔ لاجرم تاج العروس میں ہے کہ راب ربہ یربہسے اسم فاعل ہے جس کے معنی دوسرے کے معاملے کا کفیل ہونے کے ہیں اھ

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article نابینا کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ وہابی المذہب امام کی اقتداء کرنا کیسا ہے؟ Next article
Rating 3.05/5
Rating: 3.0/5 (304 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu