• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > توتلے اور ہکلے کے پیچھے نماز کیسی؟

توتلے اور ہکلے کے پیچھے نماز کیسی؟

Published by Admin2 on 2012/7/20 (1068 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر ۵۹۷ تا۵۹۹: از ماہرہ مطہرہ    مرسلہ حضرت میاں صاحب قبلہ سیّد شاہ ابولحسین احمد نوری میاں مدظلہ الاقدس    ۳۰ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ   

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) توتلے کے پیچھے نماز کیسی ہے؟

(۲) ہکلے کے پیچھے نماز کیسی ہے؟

(۳) ایک شخص تھوڑی سی افیون بغرضِ دوا کھاتا ہے اور اسکے سبب اسے نشہ نہیں ہوتا ایسے کی امامت مکروہ ہے یا نہیں؟

الجواب

(۱) مذہب صحیح میں غیر توتلے کی نماز اُس کے پیچھے باطل ہے ،خیریہ میں ہے :

امامۃ الالثغ بالفصیح فاسدۃ فی الراجح الصحیح ۱؎ (توتلے کی امامت فصیح(غیرتوتلے) کے لئے راجح اور صحیح قول کے مطابق فاسد ہے۔ت)

 (۱؎ فتاوٰی خیریہ     کتاب الصلٰوۃ        دارالمعرفۃ بیروت    ۱/۱۰)

 (۲) اگر ہکلا نماز میں نہ ہکلائے جیسے بعض لوگوں کا ہکلانا وقت غضب سے مخصوص ہوتاہے صرف غصہ میں ہکلانے لگتے ہیں ویسے صاف بولتے ہیں یا بعض کا ہکلانا بے پروائی کے ساتھ ہوتا ہے اگر تحفظ واحتیاط کریں تو کلام صاف ادا ہو ایسے لوگوں کو دیکھا گیا کہ باتوں میں ہکلاتے ہیں اور اذان و نماز و تلاوت میں اس کا کچھ اثر نہیں پایا جاتا ایسی صورت میں تو کلام نہیں کہ وہ حق نماز میں خود فصیح ہے اور جو ہو جگہ ہکلائے اس کی تین قسمیں ہیں:

۱۔ایک وہ کہ ان کی تکرار میں بعض حروف معین ہیں مثلاً کاف یا چ یاپ کہ جہاں رُکیں گے ان ہی حروف کی تکرار کریں گے یا گھبرا کر ایں ایں کرنے لگتے ہیں ان کے پیچھے فسادِ نماز بدیہی ہے۔

دوسرے وہ کہ جس کلمہ پر رُکتے ہیں اُسی کے اوّل حرف کی تکرار کرتے ہیں، اس صورت میں اگرچہ حرف خارج نہیں بڑھتا بلکہ اُسی کلمہ کا ایک جزو مکرر ادا ہوتا ہے مگر از انجاکہ حرف بوجہ تکرار لغو ومہمل وخارج عن القرآن رہ گیا ان کے پیچھے بھی نماز فاسد ہے،درمختار میں توتلے کے پیچھے فسادِ نماز کا حکم لکھ کر فرماتے ہیں:

ھذاھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذامن لایقدرعلی التلفظ بحرف من الحروف اولایقدر علی اخراج الفاء الابتکرار۱؎۔

توتلے کے بارے میں مختار اور صحیح حکم یہی ہے اور اسی طرح وہ شخص ہوگا جو حروف تہجی میں سے کسی حرف کی ادا پرقادر نہ ہو یا ف کو بدون مکرر کرنے کے ادا نہ کرسکے۔(ت)

 (۲) اگر ہکلا نماز میں نہ ہکلائے جیسے بعض لوگوں کا ہکلانا وقت غضب سے مخصوص ہوتاہے صرف غصہ میں ہکلانے لگتے ہیں ویسے صاف بولتے ہیں یا بعض کا ہکلانا بے پروائی کے ساتھ ہوتا ہے اگر تحفظ واحتیاط کریں تو کلام صاف ادا ہو ایسے لوگوں کو دیکھا گیا کہ باتوں میں ہکلاتے ہیں اور اذان و نماز و تلاوت میں اس کا کچھ اثر نہیں پایا جاتا ایسی صورت میں تو کلام نہیں کہ وہ حق نماز میں خود فصیح ہے اور جو ہو جگہ ہکلائے اس کی تین قسمیں ہیں:

۱۔ایک وہ کہ ان کی تکرار میں بعض حروف معین ہیں مثلاً کاف یا چ یاپ کہ جہاں رُکیں گے ان ہی حروف کی تکرار کریں گے یا گھبرا کر ایں ایں کرنے لگتے ہیں ان کے پیچھے فسادِ نماز بدیہی ہے۔

۲۔ دوسرے وہ کہ جس کلمہ پر رُکتے ہیں اُسی کے اوّل حرف کی تکرار کرتے ہیں، اس صورت میں اگرچہ حرف خارج نہیں بڑھتا بلکہ اُسی کلمہ کا ایک جزو مکرر ادا ہوتا ہے مگر از انجاکہ حرف بوجہ تکرار لغو ومہمل وخارج عن القرآن رہ گیا ان کے پیچھے بھی نماز فاسد ہے،درمختار میں توتلے کے پیچھے فسادِ نماز کا حکم لکھ کر فرماتے ہیں:ھذاھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذامن لایقدرعلی التلفظ بحرف من الحروف اولایقدر علی اخراج الفاء الابتکرار۱؎۔توتلے کے بارے میں مختار اور صحیح حکم یہی ہے اور اسی طرح وہ شخص ہوگا جو حروف تہجی میں سے کسی حرف کی ادا پرقادر نہ ہو یا ف کو بدون مکرر کرنے کے ادا نہ کرسکے۔(ت)

 (۱؎ دُرمختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۸۵)

نور الایضاح ومراقی الفلاح میں ہے:لایصح اقتداء من بہ الفأفأۃ بتکرار الفاء والتمتمۃ بتکرار التاء فلایتکلم الابہ ۲؎ اھ ملخصااس شخص کی اقتدا درست نہیں جس کوفأفأۃ کا عارضہ ہو یعنی ف کو تکرار سے پڑھتا ہو یا تمتمۃ کا عارضہ ہو یعنی ت کو تکرار سے پڑھتا ہو یعنی جب بھی ایسے حروف کو بولتا ہے تو وہ حرف تکرار سے اداہوتا ہے اھ ملخصاً (ت)

 (۲؎ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح مع حاشیہ الطحطاوی   باب الامامۃ  مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی  ص ۱۵۷)

۳۔تیسرے وہ کہ ہکلاتے وقت نہ کوئی حرف غیر نکالتے ہیں نہ اسی حرف کی تکرار کرتے ہیں بلکہ صرف رک جاتے ہیں اور جب ادا کرتے تو ٹھیک ادا کرتے ہیں ایسوں کے پیچھے نماز صحیح ہے۔ہندیہ میں ہے:

الذی لایقدر علی اخراج الحروف الابالجھد ولم یکن لہ تمتمۃ او فأفاۃ فاذا اخرج الحروف اخرجھا علی الصحۃ لایکرہ ان یکون اماما ھکذا فی المحیط۔۳؎وہ شخص جو کوشش کے بغیر ادائے حروف پر قادر نہ ہو نہ تو وہ تکرارِ ت کرتا ہو اور نہ ہی تکرارِ ف تو جب حروف ادا کرتا صحیح ادا کرتا ہے ،تو ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ نہیں۔محیط میں یونہی ہے۔(ت)

 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الثالث فی بیان من یصلح امامالغیرہ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور     ۱/۸۶)

رہا یہ کہ کوئی کراہت بھی ہے یا نہیں ۔ظاہر ہے کہ اگر اُن کا رُکنا اتنی دیر نہ ہوتا جس میں ایک رکن ادا کرلیاجائے جب تو کراہت کی کوئی وجہ نہیں اور اگر اتنی دیر ہو تو اگر چہ بوجہ سہو اس قدر سکوت موجب سجدہ سہوہے اور بلا عذر کراہت تحریم

کما یظھر من التنویر والدر والغنیۃ وردالمحتار (جیسا کہ تنویر،در،غنیـہ اورردالمحتار میں اس کا بیان واضح ہے۔ت) اور اگر ان کا رکنا بعذر ہے جس طرح جمائی یا چھینک یا کھانسی وغیرہا اعذار کے باعث بعض اوقات سکوت بقدرادائے رُکن ہوجاتا ہے تو ظاہراً یہاں وہ حکم نہیں ،ہاں اس میں شک نہیں کہ ان کا غیر ان سے اولٰی ہے جبکہ بہ سبب حاضرین سے اعلم باحکام طہارت و نماز نہ ہوں۔واﷲ تعالی اعلم۔

(۳) نشہ جو ہمارے محاورہ میں سکر و تفتیردونوں کو عام ہے اور بنص حدیث دونوں حرام اُس کے یہی معنی نہیں کہ زمین و آسمان یا مرد و عورت میں امتیاز نہ رہے یہ تو اس کی انتہا اور نشہ کی ابتدا انتہا دونوں حرمت میں یکساں پس اگر افیون کے سبب کچھ بھی اس کی عقل میں فتور یا حواس میں اختلال پیداہو توکسی وقت پینک آتی ہوبیٹھے بیٹھے اونگھ جاتا ہو کسی وقت گردن ڈھلتے یا آنکھیں چڑھ جاتیں اُن میں لال ڈورے پڑتے ہوں جیسے یہ لوگ اپنی اصطلاح میں کیف و سرور کہتے ہیں تو یہ سب صورتیں حرام ہیں اور اُن کا مرتکب فاسق اور اس کے پیچھے نماز مکروہ بلکہ اگر صاف اتنا ہی ہوتا کہ جس دن نہ کھائے جمائیاں آئیں،اعضاشکنی ہو، دورانِ سر ہو،تاہم حرمت میں شک نہیں کہ ترک پرخمار پیدا ہونا صاف بتارہا ہے کہ استعمال بطور دوا نہیں ،نفس اس کا خوگر ہوگیا ہے اور بلا غرض مرض اپنی طلب و شوق سے اُسے مانگتا ہے اور یہ صورت خودناجائز ہے اگر چہ نشہ نہ ہو بلکہ حقیقۃً یہ حالت اُسی کو پیدا ہوگی جس دماغ میں افیون اپنا عمل ناجائز کرتی ہو ورنہ مجرب دوا کا ترک خمار نہیں لاتا،ہاں اگر ان سب حالتوں سے پاک ہے اور واقعی صرف حالتِ مرض میں بقصد دوا اتنی قلیل مقدارپراستعمال کرتا ہے کہ نہ اُس کے کھانے سے سرور آتا ہے اور نہ چھوڑنے سے خمار ، تو اس کے پیچھے نماز مکروہ نہیں۔ردالمحتار میں ہے:

البنج والافیون استعمال الکثیر المسکر منہ حرام مطلقا واما قلیل فان کان لھوحرم وان للتداوی فلا ۱ ؎ انتہی ملتقطا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔بھنگ اور افیون کا استعمالِ کثیر کہ اس سے نشہ پیدا ہو تو ہر حال میں حرام ہے، اگرقلیل ہو تو لہو کے لئے حرام ہے اور بطور دوائی حرام نہیں انتہی تلخیصاً(ت)

 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الاشربۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۵/۳۲۵)


Navigate through the articles
Previous article امام كا ٹوٹا ہوا ہاتھ کان تک نہ پہنچے،توامامت كيسي رشوت لینے والی کی امامت کیسی ہے٫ Next article
Rating 2.75/5
Rating: 2.8/5 (271 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu