• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > بعد فرض قبلہ سے منہ پھیرنے کے احکام

بعد فرض قبلہ سے منہ پھیرنے کے احکام

Published by Admin2 on 2012/7/20 (1080 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر :۶۰۲: از پیلی بھت محلہ منیرخاں مرسلہ مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی۲۲ ربیع الاول ۱۳۱۴ھ

میں بعد فرضِ ظہر مغرب و عشاء کے سلام پھیرتے ہی یمین ویسار کی جانب رُخ کرکے اللھم انت السلام ومنک السلام پڑھ کر سنّتیں پڑھا کرتا ہوں مولوی حبیب الرحمن سہارن پوری نے مجھ سے کہاکہ فقہا بعد ان فرضوں کے جن کے بعد تطوع ہے ترک استقبال قبلہ کو منع لکھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ان فرضوں کے بعد اُسی ہیأت پر رہے اور فوراً تطوع میں مصروف رہے اس پر خلیل الرحمان نے یہ کہا کہ تعامل حرمین میں بھی یوں ہی ہے۔میں نے کتابوں میں دیکھا تو کہیں ممانعت نہ ملی صرف اتنا ملا کہ جن فرضوں کے بعد تطوع ہے مقدار اللھم انت السلام سے زیادہ توقف نہ کرے اس مسئلہ میں جو حضور کے نزدیک صواب ہو افادہ فرمائےے تاکہ میں اس کے مطابق عمل کروں بلکہ مناسب تو یہ ہوگا کہ عربی عبارت میں بطور اختصار اس کو قلمبد فرمائیے۔

الجواب: الحمد ﷲ وحدہ السنۃ المتوارثۃ للامام من لدن امام الانام سید الرسل الکرام علیہ وعلیھم افضل الصلٰوۃ والسلام ھوالانصراف من القبلۃ لمن اراد مکثا مابعد السلام ،کل الصلٰوۃ فی ذلک متساویۃ الاقدام وصرح بذلک وبکراھۃ بقائہ مستقبل القبلۃ بعد التمام غیرواحد من العلماء العظام فالحق معکم ومازعم مخالفکم فقد افتری فیہ علی الفقھاء الفخام قال المولی المحقق محمد بن محمد بن محمد الشھیر بابن امیرالحاج فی الحلیۃ شرح المنیۃ ناقلا عن الذخیرۃ،اذاکان فرغ الامام من صلاتہ اجمعوالی انہ لایمکث فی مکانہ مستقبل القبلۃ ،سائرالصلوات فی ذلک علی السواء قال وقد صرح غیرواحدبانہ یکرہ ذلک اھ ۱؎،سب تعریف اﷲ کے لئے جو وحدہ، لاشریک ہے امام الانام سید الانبیاء نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ والسلام کی طاہری حیات سے لے کر اب تک امام کے لئے بطور سنّت منقول ہے کہ جو شخص سلام کے بعد کچھ ٹھہر نے کا ارادہ رکھتا ہو تو قبلہ سے رُخ پھیر ے۔قدیم زمانہ سے یہ حکم تمام نمازوں میں برابر چلا آرہا ہے اور تکمیلِ نماز کے بعد اس کے لئے قبلہ رُخ رہنا مکروہ ہے۔ ان دونوں باتوں کی تصریح بڑے بڑے علمائے اسلام نے فرمائی ،پس حق تمہارا ساتھ ہے ، اور تمہارے مخالف نے جوکچھ کہا وہ فقہاءِ کرام پر تہمت ہے،ہمارے نہایت ہی فاضل محقق محمد بن محمد بن محمد المعروف ابن امیرالحاج حلیہ شرح منیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے لکھتے ہیں جب امام نماز سے فارغ ہوجائے تو سب علماء کا اتفاق ہے کہ وہ اپنی جگہ قبلہ رُخ نہ ٹھہرا رہے اور اس حکم میں تمام نمازیں برابر ہیں اور فرمایا کہ قبلہ رُخ رہنے کی کراہت پر متعدد علماء نے تصریح کی ہے اھ،

 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

وقد اخرج الامام ابوداؤدفی سننہ والحاکم فی المستدرک عن ابی رمثۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال صلیت ھذہ الصلٰوۃ اومثل ھذہ الصلٰوۃمع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکان ابوبکر وعمر یقومان فی الصف المقدم عن یمینہ ۔ و کان رجل قد شھد التکبیرۃ الاولی من الصلاۃ یشفع فوثب الیہ عمر فاخذ بمنکبہ فھزہ ثم قال اجلس فانہ لم یھلک اھل الکتاب الاانھم لم یکن بین صلٰوتھم فصل فرفع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بصرہ فقال اصاب اﷲ بک یابن الخطاب ۱؎(ملخصاً) قلت فھذا نص عن صاحب الشریعۃ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی انفتالہ عن القبلۃ بعد صلٰوۃ یتبعھا تطوع فلاوجہ للنھی عنہ وان خص بعض کراہۃ المکث مستقبلا بمالاتھوی بعدہ کما فی الغنیۃ عن الخلاصۃ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔اور امام ابوداؤد نے سنن میں، حاکم نے مستدرک میں ابورمثہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا،فرمایا کہ میں نے یہ یا اسکی مثل نماز نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اور فرمایا کہ حضرت ابوبکر اورحضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہا امام کے پاس صفِ اوّل میں کھڑے ہوتے تھے اور ایک آدمی جو تکبیرِ اولٰی سے نماز میں شامل ہواتھا اُٹھ کر دو۲ رکعت نماز ادا کرنی شروع کردی حضرت عمر اس کی طرف فی الفور بڑھے اور کاندھے سے پکڑ کر حرکت دی اور کہا بیٹھ جاؤ اہل کتاب نہیں ہلاک ہوئے مگر اس لئے کہ وہ اپنی نمازوں کے درمیان فاصلہ نہ کرتے تھے۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نظرِمبارک اٹھا کر دیکھا اور فرمایا اے ابن خطاب اﷲ تعالٰی نے تیری رہنمائی فرمائی ہے قلت(میں کہتا ہوں) یہ صاحب شریعت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے اس بات پر نص ہے کہ جس نماز کے بعد نوافل ہوں اس میں بھی امام قبلہ سے رُخ موڑے اور قبلہ رخ سے موڑنے پر کوئی نہی وارد نہیں (یعنی انصراف سے منع کرنے کی کوئی وجہ نہیں) اگرچہ بعض حضرات نے قبلہ رُخ بیٹھنے کی کراہت کو اس صورت کے ساتھ خاص کیا جبکہ امام بیٹھنے کے بعد کوئی نماز نہ پڑھنا چاہتا ہو جیسا کہ غنیہ میں خلاصہ کے حوالے سے ہے واﷲ سبحٰنہ وتعا لٰی اعلم(ت)

(۱؎ سنن ابو داؤد     باب فی الرجل یتطوع فی مکانہ الخ    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۱۴۴

المستدرک للحاکم    کتاب الصلٰوۃ لم یہلک اہل الکتاب الخ        مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۱/۲۷۰)


Navigate through the articles
Previous article جسکی بیوی بے پردہ پھرے اسکے پیچھے نماز کا حکم ایک شخص غیر منکوحہ عورت رکھے اسکی امامت کیسی؟ Next article
Rating 2.80/5
Rating: 2.8/5 (250 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu