• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > فسق و فجور میں مبتلا امام کو مسجد سے ہٹانا کیسا ہے؟

فسق و فجور میں مبتلا امام کو مسجد سے ہٹانا کیسا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/7/20 (1497 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۵۹۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مسائلِ نماز سے جائل اور مخارج و صفات وقواعد ِقرأت سے محض ناواقف اور اس پر غیر عامل ،ایک بڑی مسجد کی امامت کرتا ہے عقیدہ کا بھی سنّی نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کی ترویجِ مذہب میں مصروف رہتا ہے جن میں تقیہ ہے اور اُن کے مذہب کی ترویج میں ہر قسم کی چالاکی وبیباکی اور عوام کو مغالطہ دہی گو ارتکاب حرام ہو،بے تکلف کرتا ہے اور اُس مذہب کے علماء وعمائد کی مدح وستائش اور عوام کو ہر طرح اُن کی طرف متوجہ اور مائل کر تا ہے اوران کے مذہبی مشوروں میں شریک ہوتا ہے اُس مذہب والے کیسی ہی بات کہہ دیں گو حدِ کفر تک پہنچی ہواُس کو مقبول و مسلم اور اس کی ترویج میں بجان ودل ساعی اور اس مذہب کے اہلِ علم کے پاس مسافت دُور دراز قطع کرکے جاتا ہے اور اگر کوئی سنّی عالم مسجد میں وعظ کہے تو ناخوش ہوتا ہے اور اکثر اوقات شریک نہیں ہوتا اور علمائے اہلسنّت کی اہانت اور ان پر افتراء و بہتان اور خلق کو ان کی عقیدت سے باز رکھنا اس کا شیوہ ہے کہ ان حالات سے رفتہ رفتہ صد ہا وہزارہا اہلسنّت واقف ہوگئے ہیں بایں ہمہ اس غرض سے کہ امامت اور جو منافع دنیویہ اُس سے حاصل ہوتے ہیں قائم رہیں اور نیز اس خیال سے کہ سنّیوں میں ملارہ کر عوام کو بتدریج دام میں لائے اور اپنے مذہب کو خفیہ طور پر پھیلائے اس درجہ تقیہ کرتا ہے کہ سُنیوں کے مجامع و مجالس میں بظاہر شریک رہتا ہے اور سُنّیوں کے سامنے دوسرے مذہب پر تبرّااوراُن کے علماء وعمائد کو خاص مسجد میں فحش گالیاں برملا دیتا ہے اور جب کہا جاتا ہے کہ اگر تو فی الواقع اس مذہب میں نہیں تو اس کے مسائل تجھے کیوں معلوم ہیں اور ان کے بیان کی عوام کے سامنے کیوں تعریف اوران کی طر ف راغب اور متوجّہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے مجھے تو قال اﷲ وقال الرسول سے غرض ہے نہ اُن کے مسائل سے ،گویا اُس کے نزدیک سنّی علماء جو مسجد میں وعظ کہتے ہیں وعظ اُن کا قال اﷲ وقال الرسول کےخلاف ہے جو اسے نہیں سنتا اور جب اُن کے مجامع میں شریک ہونے اور مذہب کی تائید وتقویت سے تعرض کیا جاتا ہے تو کبھی انکار کرتا ہے اور جب انکار سے چارہ نہیں پاتا تو توبہ کرتا مگر افعال مذکورہ بدستور رکھتاہے چنانچہ ایک سال میں تین بار توبہ کی اور ہر بار انھیں افعال کا مرتکب رہا،تیسری بات توبہ کے بعد ایک سنّی واعظ کو بعدنماز جمعہ کے وعظ کے لئے منبر پر بیٹھ لئے تھے وعظ سے روکا اور مذہب کے ایک عیار کو ایک مثنوی پڑھنے کو بٹھا دیا جس کی تصنیف کا باعث عوام کو مغالطہ دہی اور انھیں دامِ فریب میں لینا اور اپنے مذہب کی طرف گرویدہ کرنا ہے اور اس میںوہ عیاری وچالاکی کی ہے جس کی حقیقت عوام اور ناواقفوں کی سمجھ میں نہ آسکتی مگر مصنف مثنوی کو سب اہلسنّت پہلے سے اپنا مخالف مذہب جانتے تھے لہذا واعظ سنّی کو اُٹھا کر اُس شخص کو بٹھانا اور وعظ سے روک کے اسی کی مثنوی پڑھوانا باعث ِ برہمی اہلسنت کا ہوا اور جولوگ اس کی ظاہری باتوں اور باربار کی توبہ کے فریب میں تھے اُن پر حال اس کا منکشف ہوگیا اور نماز اُ س کے پیچھے چھوڑ دی اور جو واقف ہوتاجاتا ہے اس مسجد میں نماز کو نہیں آتا روز بروز جماعت میں کمی اور مسجدکی ویرانی اور خرابی ہوتی جاتی ہے ہر وہ لوگ کہ احوال واقعی سے آگاہ اور اس کی چالاکیوں اور عیاریوں سے واقف نہیں اُس کی پیچھے نماز پڑھنے آتے ہیں اور بعض اشخاص جنہیں نماز سے کام نہ دین سے غرض بعض وجوہ نفسانی سے مسلمانوں کی نماز اور مسجد کی خرابی گوارا کرکے اس کی حمایت بیجا اور امامت قائم رہنے پر اصرار کرتے ہیں آیا اس شخص کو سنّی کہا جائے گایا دوسرے مذیب میں شمار کیا جائے گا یا کسی میں نہیں،اور باوجود ان سب امورات کے اس کی توبہ کا اعتبار ہوگا یا نہیں ،اور ایسے شخص کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے اور مسلمانو ں کو اُسے امامت سے موقوف کرکے کسی شخص سنّی صحیح العقیدہ واقف مسائل و قواعد قرأت کو جس کی امامت پرکوئی فتنہ اور اختلاف اور جماعت کی کمی اور مسجد کی ویرانی نہ ہو اس کی جگہ مقرر کرنا اور اس کی حمایت کرنے والوں کو حمایت سے باز آنا ضرور ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب: جو شخص مسائل نماز سے جاہل ہو اس کی امامت میں احتمال قوی نماز کے فساد وخرابی کا ہے کہ اس سے اکثر باتیں ایسی واقع ہوں گی جن سے نماز فاسد ہوجائے گی یا اس میں نقصان آئے گا۔ اور بسبب جہالت کے اُن پر مطلع نہ ہوگا اور اُن کی اصلاح نہ کرسکے گا اسی طرح جو شخص مخارج وصفات و حروف و قواعد تجوید سے آگاہ نہ ہو عجب نہیں کہ اُس کے پڑھنے میں قرآن میں ایسا تغیّر واقع ہوجائے جو بالاتفاق یا ایک مذہب پر موجب فسادنماز کا ہو کیا بلا ضرورت ایسے شخص کو امام کرنا نماز میں کہ عماد اسلام وافضل اعمال ہے بے احتیاطی اور امر شرع میں مداہنت و سہل انگاری نہیں،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

ان سرکم ان یقبل ﷲ صلاتکم فلیؤمکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم ۱؎ رواہ الحاکم فی المستدرک۔اگر تمہیں خوش آئے کہ خدا تمہاری نماز قبول کرے تو چاہئے کہ تمہارے بہتر امامت کریں کہ وہ تمہارے سفیر ہیں تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان۔ اسےحاکم نے مستدرک میں روایت کیا۔(ت)

 (۱؎ مستدرک للحاکم     کتاب المغازی والسرایا    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۳/۲۲۲)

نوٹ: مستدرک میں ''ان یقبل اﷲ صلٰوتکم''کی جگہ'' ان تقبل صلٰوتکم '' ہے۔    نذیر احمد سعیدی

زید کے اکثر افعالِ مذکورہ فی السوال فسق و گناہ کبیرہ ہیں اور خدااوررسول کی نافرمانی و ناراضی کے باعث خلقِ خداکو گمراہ کرنا راہِ حق سے پھیرنا علمائے اہلسنت کی اہانت وتحقیر ،اُن کی افتراء و بہتان ،خداو رسول جن کی تعظیم کا حکم دیں خلق خدا کو ان کی عقیدت سے باز رکھنا فحش گالیاں خود کبیرہ ہیں موجب فسق مسقط شہادت خصوصاً جبکہ مسجدمیں ہوں جہاں دنیا کا مباح کلام بھی نیکیوں کو ایسا کھاتا ہے جیسے ۲؎ آگ لکڑی کوکما ورد فی الحدیث عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم(جیسا کہ حدیث میں نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول ہے۔ت)

 (۲؎ احیاء علوم الدین    فضیلۃ المسجد الخ    مطبوعہ مطبعۃ المشہد الحسن    قاہرہ    ۱/۱۵۲)

نوٹ : احیاء علوم الدین سے کافی جدوجہد کے بعد یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ ملی ہے''الحدیث فی المسجد یا کل

لحسنات کما تأکل البھائم الحشیش''مسجدمیں دنیا وی گفتگو نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جس طرح جانور گھاس

ھوس کھا جاتے ہیں)۔ اس حدیث میں آگ، لکڑی کا ذکر نہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم     نذیر احمد سعیدی۔

وعظ علماء سے ناخوش ہونا اور انھیں وعظ سے منع کرنا ظلم عظیم ہے ،حق سبحٰنہ، تعالٰی فرماتا ہے:

ومن اظلم ممن منع مسٰجد اﷲ ان یذکر فیھا اسمہ وسعٰی فی خرابھا ۳؎۔کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو روکے خدا کی مسجدوں کو اس بات سے کہ ان میں ذکر کیاجائے اُس کا نام اور کوشش کرے اُن کے ویران ہونے میں۔

 (۴؎ القرآن        ۲/۱۱۱۴)

اسی طرح وعظِ علماء کو مکروہ سمجھ کر کہ نہ سُننا اور وہاں چلا جانا ،ا ﷲ تعالٰی فرماتا ہے:ومن اظلم ممن ذکرہ باٰیات ربہ فاعرض عنھا ونسی ما قدمت یداہ انا جعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ وفی اٰذانھم وقرا۱؎۔اور کون زیادہ ستم گار ہے اس سے جو نصیحت کیا گیا اپنے رب کی آیتوںسے تو ان سے منہ پھیر لیا اور بھول گیاجو آگے بھیجا اس کے ہاتھوں نے، بیشک ہم نے کردےے اُن کے دلوں پر پردے اُس کے سمجھنے سے اورا ن کے کانوں میں ٹینٹ۔

 (۱؎ القرآن        ۱۸/۵۷)

مسلمانوں کے ساتھ عیاری و چالاکی اور انہیں دھوکے دینا فریب میں ڈالنا ایسے افعال کرکے جن کے سبب لوگوں کی نماز ان کے پیچھے خراب ہو ان کی تسکین کے لئے بظاہر توبہ کرنا اور اُنہیں باتوں کا مرتکب رہنا فتنہ ہے کہ اﷲ کے نزدیک قتلِ ناحق سے زیادہ سخت ہے اور عذاب جہنم کا موجب۔

قال اﷲ تعالٰی

والفتنۃ اکبر من القتل ۲؎

وقال اﷲ تعالٰی

ان الذین فتنواالمؤمنین والمؤمنات ثم لم یتوبوا فلھم عذاب جہنم ولھم عذاب الحریق۔۳؎اﷲ تعالٰی کا ارشاد ِگرامی ہے اور فتنہ قتل سے بدترہے اور اﷲ تعالٰی کا یہ بھی فرمان ہے بلاشبہ وہ لوگ جو مومن مردوں اور مومن خواتین کو فتنہ میں ڈالتے ہیں پھر توبہ نہیں کرتے ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے جلانے والا عذاب ہے۔(ت)

(۲؎ القرآن        ۲/۲۱۷)  (۳؎ القرآن     ۸۵/۱۰)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article پندرہ سال کا نابالغ حافظ قرآن تراویح پڑھا سکتا ہے؟ غلط نکاح پڑھانے والے امام کی امامت کیسی ہے؟ Next article
Rating 2.60/5
Rating: 2.6/5 (255 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu