• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > مسجد کھودنے کا فتویٰ دینے والے کی امامت کا حکم

مسجد کھودنے کا فتویٰ دینے والے کی امامت کا حکم

Published by Admin2 on 2012/7/20 (1076 reads)

New Page 1

مسئلہ ۶۱۵: از بنارس محلہ کندی گر ٹولہ مسجد بی بی راجی متصل شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب

۲۰ محرم الحرام ۱۳۱۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہر بنارس میں ایک مسجد متصل کچہری دیوانی جس میں نماز وقتیہ و جمعہ ہوتا ہے،عرصہ دراز سے ایک جلسہ بایمائے حاکم ضلع بغرض انہدام مسجد مذکور اہل اسلام نے کیا منجملہ اور باتوں کے بیان کیا گیا کہ مسجد کا کھودنا بمعاوضہ مکان دیگر ازروئے کتب فقہ جائز ہے تو یہ مسجد کھود ڈالی جائے بعوض اس کے دوسری مسجد سرکار کی جانب سے تیار کردی جائے حالانکہ مسجد کا کھودنا ازروئے فقہ جائز نہیں ہے ۔عالمگیریہ میں ہے :لوکان مسجد فی محلۃ ضاق علٰی اھلہ ولایسعھم ان یزید وافیہ فسألھم بعض الجیران ان یجعلوا ذلک المسجد لہ لید خلہ فی دارہ ویعطیھم مکانہ عوضا ماھو خیرلہ فیسع فیہ اھل المحلۃ قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لایسعھم ذلک ۱؎۔اگر محلہ کی مسجد اہل محلہ پر تنگ ہو گئی ہو اور وہ لوگ اس میں کشادگی نہ کرسکتے ہوں تو اس مسئلہ کے متعلق بعض پڑوسی یہ کہتے ہوں کہ مسجد کو ان میں سے کوئی ایک حاصل کرے اور اپنے گھر میں شامل کرے اور اس کے عوض متبادل بہتر جگہ مسجد کے لئے خریدے تاکہ اہل محلہ مسجد میں کشادگی حاصل کر سکیں۔امام محمدرحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا ایسا کرنا ان کے لئے جائز نہیں ہے۔(ت)

 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     الباب الحادی عشر فی المسجد الخ        مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشارو        ۲/۴۵۷)

اُس جلسہ میں بعض وہ شریک تھے جو بنارس کے مولوی صاحب کہلاتے ہیں انھوں نے معلوم نہیں کس غرض سے مسجد مذکور کے کھودنے کے واسطے رائے دی اور دستخط بھی کئے بلکہ مولوی صاحب موصوف سے لوگوں نے دریافت کیا تو مولوی صاحب نے جواب دیا کھودنے کے واسطے رائے نہ دیتا تو کیا بیڑیاں پیروں میں ڈالتا ،حالت اکراہ میں تو دو خدا اور جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو گالیاں دینا جائز ہیں۔حالانکہ کسی قسم کا اکراہ حاکمِ ضلع کی جانب سے نہ تھا صرف اہل ِاسلام سے امر مذکور الصدر میں رائے طلب کی گئی تھی ،مولوی صاحب نے اکراہ کوقُطِعَ اَوْقُتِلَ کےساتھ مقید نہیں کیا اور نہ توریہ کو کہا جس کی قید کتبِ فقہ میں ہے۔الغرض ایسی ایسی باتیں مولوی صاحب نے بیان کیں جس سے عوام کے گمراہ ہوجانے کاخیال ہے۔ حنفیوں  پر اکثر طعنے بھی مخالفین کے ہونے لگے کہ تمھارے یہاں ایسے ایسے گندے مسائل ہیں۔مولوی صاحب کو امام نماز کا ازروئے شرع ومصلحت بناناچاہئے یا نہیں؟

بینوابالکتاب وتوجروایوم الحساب۔

الجواب: یہ شخص بنص قطعی قرآن شریف فاسق وفاجر ہے ۔

قال اﷲتعالٰی :

ومن اظلم ممن منع مساجد اﷲان یذکر فیھا اسمہ وسعٰی فی خرابھا۲؎۔اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو بازرکھے خدا کی مسجدوں کو اُن میں نامِ خدا لئے جانے سے اور کوشش کرے ان کی ویرانی میں۔

(۲؎القرآن         ۲/۱۱۴)

عذر اکراہ محض جھوٹا ہے،جوکمیٹیاں رائے زنی کے لئے مقرر کی جاتی ہیں ہر گز حکّام کی طرف سے گلے میں چھری نہیں رکھی جاتی کہ اگر تم نے یوُں رائے نہ دی تو قتل کر دئیے جاؤ گے یا زبان کاٹ لی جائے گی یا ہاتھ قلم کر دئیے جائیں گے، بلکہ رائے زنی کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہر شخص آزادانہ اپنی رائے ظاہر کرے۔ہاں دنیا پرست جیفہ خور خوشامد میں آکر دین و ایمان گنواکر حکّام پر جبرواکراہ کا طوفان اٹھا کر بحیلہ کاذبہ اکراہ چاہیں مسجد ڈھائیں چاہے خدا ورسول کو گالیاں سنائیں چاہے دو کے آتے تین گائیں

وسیعلم الذین ظلموای منقلب ینقلبون۱؎ (عنقریب ظالم لوگ جان لیں گے کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت)

  (۱؎القرآن         ۲۶/۲۲۷)

ایسے لوگ نہ عنداﷲ معذور ہوسکتے ہیں نہ عندالحکام مجبور ؎

                                                            مبادا دل آں فرومایہ شاد

                                                            کہ ازبہر دنیا دہد دیں بباد (اس کمینے کا دل کبھی خوش نہ ہوجو دنیا کی خاطر دین کو ہوا کے حوالے کردیتا ہے۔ت)

خرد مند انصاف پسند حاکموں کی نگاہ میں بھی دین فروش نہایت ذلیل و خوار ہوتا ہے کہ جس نے ذراسی خوشامد کے لئے دین جیسی عزیز چیز کوخیرباد کہا اس سے جو پاجائے تھوڑا ہے،جس نے ادنٰی طمع کے واسطے حاکم حقیقی جل جلالہ، سے روگردانی کی اس حاکم دنیوی کے ساتھ خیر خواہی کی توقع کیا ہے

خسر الدنیاوالاٰخرۃ ذلک ھوالخسران المبین۲؎ (دنیاوآخرت کا گھاٹا یہی صریح نقصان ہے۔ت)

(۲؎القرآن            ۲۲/۱۱)

اور مسئلہ اکراہ یوں بے قید الفاظ جو خدا اور رسول کی جانب منہ بھر کر اس شخص نے کہے وہ بھی اسکے سوئے ادب وقلّتِ دین پر دال ہیں شرع مطہر میں خوفِ جان کے وقت بھی حکم عزیمت یہی ہے کہ کسی طرح اصلاً کلمہ کفرزبان سے نہ نکالے اور رخصت یہ کہ حتی الامکان توریہ کر کے پہلو دار بات سے جان بچائیں ،اگر توریہ پر قادر تھا اور اسے چھوڑ کر صریح کلمہ کفر بولا قطعاًیقینا کافر ہوجائے گا ،دُرمختار میں ہے:

ان اکرہ علی الکفر باﷲ تعالٰی اوبسب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بقطع اوقتل رخص لہ ان یظھر ما امر بہ علی لسانہ ویوری وقلبہ مطمئن بالایمان ،وان خطر ببالہ التوریۃ ولم یورکفروبانت دیانۃ وقضاء نوازل وجلالیۃ ویوجرلوصبر لترکہ الاجراء المحرم ۳؎ الخ باختصار۔اگر کسی کو مجبور کردیا گیا کہ وہ اﷲ تعالٰی کے ساتھ معاذاﷲ کفر کرے یانبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو معاذ اﷲ گالی دے ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا یااس کا کوئی عضوکاٹ لیا جائے گاتو اسے اجازت ہے کہ زبان پر ایسے کلمات کو جاری کردے جن کا مطالبہ کیا گیا ہو لیکن توریہ (یعنی حتٰی الامکان پہلو دار بات کے ذریعے جان بچائے) سے کام لے اور اس کادل ایمان پر مطمئن اور قائم رہے اور اگر اس کے دل میں توریہ کا خیال آیا مگر اس نے توریہ نہ کیا تو وہ کافر ہوجائے گا اور اس کی عورت قضاءً و دیانۃً بائنہ ہوجائیگی نوازل اورجلالیہ ،اور اگر صبر وہمت سے کام لے تو اجر پائے گا کیونکہ اس نے حرام کام کے ارتکاب کا ترک کیا ہے الخ اختصاراً(ت)

 (۳؎درمختار    کتاب الاکراہ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/۱۹۶)

ایسے شدید فاسق کو افضل الاعمال نماز و مناجات بارگاہِ بے نیاز میں اپنا امام بنانا سخت حماقت اور دین میں بے احتیاطی و جرأت ہے ،جب وہ ادنٰی طمع یا خوشامد کے لئے مسجد ڈھانے کے لئے موجود ہے تو ادنٰی تکلیف یا کاہلی کے باعث بے نہائے یا بے وضو نماز پڑھاتے اسے کیا لگتا ہے، ایسے کوامام بنانے والے گناہگار ہوں گے ، مسلمانوں کو چاہئے ہرگزہرگز اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔اگر ناواقفی میں پڑھ لی تو اعادہ کریں ۔غنیـہ شرح منیہ میں ہے:

لوقدموافاسقایاثمون بناء علی ان کراہۃ تقدیمہ کراہۃ تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ وتساھلہ فی الاتیان بلوازمہ فلا یبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلٰوۃ وفعل ماینافیھابل ھوالغالب بالنظر الی فسقہ۔۱؎اگر لوگوں نے فاسق کو امام بنادیا تو اس بناپر گناہگار ہوں گے کہ ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ فاسق امور دینیہ میں لاپروائی برتتا ہے اور دین کے لوازمات کو بجالانے میں سستی کرتاہے ۔پس ایسے شخص سے یہ بعید نہیں کہ وہ نماز کے بعض شرائط چھوڑ دے اور نماز کے منافی عمل کو بجالائے ،بلکہ ا یسا کرنا اس کے فسق کے پیشِ نظر اغلب ہے۔(ت)

 (۱؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی الامامۃ الخ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۱۳)

امام بنانا درکنار،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:''ایسے کی صحبت سے دور بھاگو، اُسے اپنے سے دُور رکھو کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دے ،فتنہ میں نہ ڈال دے''۔ صحیح مسلم شریف میں ہے:

ایاکم ایاھم لایضلّونکم ولایفتنونکم۲؎ (تم اپنے آپ کو ان فساق سے بچاؤ تاکہ وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ت)اﷲ تعالٰی مسلمانوں کو ہدایت و توفیق بخشے۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی واعلم۔

 (۲؎ صحیح مسلم     باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ    مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۱/۱۰)


Navigate through the articles
Previous article امام جنازہ پڑھانے کا زیادہ مستحق کون ہے؟ مردے نہلانے اور قرآن پر اجرت لینے والی کی امامت؟ Next article
Rating 2.66/5
Rating: 2.7/5 (288 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu