• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > دو صاحبان لائق امامت ہوں تو کسے ترجیح دیں؟

دو صاحبان لائق امامت ہوں تو کسے ترجیح دیں؟

Published by Admin2 on 2012/7/23 (1456 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ ۶۳۶:  ازحیدرآباد دکن یاقوت پورہ مسجد کمیلہ مکان ۲۸۹۰     مرسلہ سید عبداللطیف صاحب

بتوسط مولوی ابو المساکین محمد ضیاء الدین صاحب مہتمم تحفہ حنفیہ     ۲ربیع الآخر شریف ۱۳۲۲ہجری

کیا فرماتے ہیں علمائے دینِ محمدی ومستفیدانِ شریعتِ مصطفوی وتابعینِ مذہب حنفی اس مسئلہ میں کہ ایک صاحب نواجون ،خوبصورت ،لائقِ امامت،قرأت سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں اور مسائل ماتجوزبہ الصلٰوۃ سے واقف مذہب حنفی کے تابع ہیں،دوسرے صاحب حال میں مذہب حنفی ترک کرکے مذہب حنبلی اختیار فرمائے ہیں ،فنِ قرأت سے بمقابلہ صاحب اوّل کے ناواقف ہیںمگر مسائل ماتجوزبہ الصلٰوۃ اور قدرے ریش بھی رکھتے ہیں پس حالت مندجہ بالا میں حسبِ قواعدِ حنفیہ بغرضِ امامت بلا کسی علّت وکراہت کے ہر دو صاحب میں سے کس کو ترجیح دی جاسکتی ہے جس مقام پر کثرت سے مقتدی تابعین مذہب حنفی کے بوقتِ جماعت موجود ہوں۔السائل حسین خاں حنفی

الجواب:  عبارت سوال ابہام واجمال وتعداد احتمال رکھتی ہے دوسرے صاحب فنِ قرأت سے بمقابلہ صاحب اوّل کے ناواقف ہیں ممکن یہ ناواقفی صرف امور زائدہ میں ہو جن پر صحت وفسادِ نماز مبنی نہیں اگرچہ واجباتِ تجوید بلکہ واجباتِ شرع سے بھی ہوں یا شرعاً خواہ تجویداً بھی صرف محسّنات ومستحسنات ہوں جیسے وقف ووصل ومدوقصر و اظہار واخفاء وتفخیم وترقیق وروم واشمام وغیرہا کہ اکثر ان میں واجبات ِتجوید سے ہیں اورامثال ومدمتصل کی رعایت شرعاً بھی واجب اور ترک حرام مگر ان میں کسی کا ترک اصلاً مفسدِ نماز نہیں اور ممکن کہ امور لازمہ میں ہو جیسے تمایزِ حروف جہاں تغیر موجبِ فسادمعنی ہو ، صورت ِثانیہ میں صاحب دوم کے پیچھے نماز باطل وفاسد ہوگی بخلاف صورت اولٰی ،اور دوسرے صاحب قدرے ریش بھی رکھتے ہیں اس میں بھی دو احتمال ہیں ایک یہ کہ ان کے تھوڑی تھوڑی داڑھی نکلی ہے، پہلے صاحب محض امرد ہیں اس تقدیر پر پہلے صاحب کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہوگی،

فی الدرالمختار تکرہ خلف امرد۱؎  درالمختار میں ہے بے ریش لڑکے کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔

(۱؎ درمختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۸۳)

فی ردالمحتار الظاہر انھا تنزیہیۃ والظاھر ایضاکما قال الرحمتی ان المراد بہ الصبیح الوجہ لانہ محل الفتنۃ ۲؎۔ردالمحتار میں ہے ظاہر یہی ہے کہ یہ مکروہِ تنزیہی ہے۔اور یہ بھی ظاہر ہے جیسے کہ شیخ رحمتی نے کہا کہ وہ لڑکا مراد ہے جو خوبصورت چہرے والا ہو کیونکہ وہ فتنے کا محل ہے۔(ت)

(۲؎ ردالمحتار        باب الامامۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۱۵)

دوسرے یہ کہ دوسرے صاحب قدرے ریش باقی رکھتے ہیں اگرچہ زیادہ کتروادیتے ہیں بخلاف صاحب اول کہ اصلاً نہیں رکھتے اس تقدیر پر دونوں کے  پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوگی اور انھیں امام بنانا گناہ کہ داڑھی منڈانا اور کترواکر حدِ شرع سے کم کرانا دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق بالاعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے اور فاسق معلن کی امامت ممنوع وگناہ ہے

کما نص علیہ فی الغنیۃ عن الحجۃ وحققناہ فی فتاوٰنا(غنیـہ میںحجہ کے حوالے سے اس پر تصریح ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ت) اور مذاہب اربعہ حقّہ سے کسی دوسرے مذہب والے کے پیچھے حنفی کی اقتداء میں بھی چند صورتیں ہیں:

(۱) اس خاص نماز میں معلوم ہو کہ امام نے کسی فرض یا شرطِ وضو یانماز یا امامت مطابق مذہب حنفی کی رعایت نہ کی

وقد المسناببیان بعضہ مع مالہ وعلیہ فی فتاوٰنا (ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس پر کچھ تفصیل سے اعتاضات مع جوابات ذکر کئے ہیں۔ت)اس صورت میں اُس کے پیچھے حنفی کی نماز محض باطل

(۲) خاص نماز کا حال معلوم نہ ہو مگر اس کی عادت معلوم ہے کہ غالباً امورمذکورہ میں مذہب حنفی کی مراعات نہیں کرتا تواس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔

(۳) عادت بھی معلوم نہیں تو اس کی امامت مکروہ ہے اور ارجح یہ کہ اب یہ کراہت تحریمی نہیں۔

(۴) عادت یہ معلوم ہے کہ ہمیشہ مراعات کا التزام کرتا ہے تو صورت سوم سے حکم اخف ہے مگر ایک گُونہ کراہت سے ہنوز خالی نہیں۔

(۵) خاص اس نماز کا حال معلوم ہے کہ اس میںاس نے جمیع امور مذکورہ کی رعایت کی ہے تو اب عندالجمہور کراہت اصلاً نہیں اگرچہ پہلے عادت عدم مراعات رکھتا ہو پھر بھی افضل یہی ہے کہ مل سکے تو موافق المذہب کی اقتداء کرے،

فی الدرالمختار تکرہ خلف مخالف کشافعی لکن فی وترالبحر ان تیقن المراعاۃ لم یکرہ او عدمھالم یصح وان شک کرہ۱؎ اھ وقد فصلنا القول فیہ فیما علی ردالمحتار۔دُرمختار میں ہے مخالف مذہب کے پیچھے نماز مکروہ ہے مثلاً شافعی المسلک -------بحرالرائق کی وتر کی بحث میں یوں تفصیل ہے اگر مقتدی کو اس بات کا یقین ہو کہ شافعی المذہب دوسرے مسلک کی شرائط وارکان کی رعایت کرتا ہے تو اقتداء میں کراہت نہیں،اور عدم رعایت کایقین ہو تو اقتداء صحیح نہیں ہے اور اگر رعایت اور عدمِ رعایت میں شک ہوتو مکروہ اھ اس بارے میں ہم نے ردالمحتار پر اپنے حاشیہ میں تفصیلاً گفتگو کے ہے۔(ت)

(۱؎ دُرمختار        باب الامامۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۸۳)

ردالمحتار میں ہے :قولہ فی وتر البحر الخ ھذا ھوالمعتمد لان المحققین جنحوا الیہ وقواعد المذہب شاھدۃ علیہ وقال کثیرمن المشائخ ان عادتہ مراعاۃ مواضع الخلاف جاز والا فلا، قولہ ان تیقن المراعاۃ ای فی الفرائض من شروط وارکان فی تلک الصلاۃ وان لم یراع فی الواجبات والسنن کماھوظاھر سیاق کلا م البحر وظاہر کلام شرح المنیۃ ایضا وفی رسالۃ الملّا علی قاری ذھب عامۃ مشائخنا الی الجواز اذاکان یحتاط فی موضع الخلاف والا فلاوالمعنی انہ یجوزفی المراعی بلاکراھۃ وفی غیرمعھا۲؎ اھ مختصراماتن کا قول فی وترالبحرالخ یہی قول معتمد ہے کیونکہ محققین کااس کی طرف میلان ہے اور قواعد مذہب بھی اسی پر شاہد ہیں اور کثیر مشائخ کا قول ہے اگر اس امام کی عادت موضع اختلاف میں رعایت کرنا ہو تو اقتداء جائز ورنہ جائز نہیں ،ماتن کا قول ان تیقن المراعاۃسے مراد یہ ہے کہ وہ فرائضِ نماز یعنی شروط و ارکان کی رعایت کرتا ہوا اگر چہ واجبات وسنن کی رعایت نہ کرتا ہو اجیسا کہ بحرالرائق کے سیاقِ کلام سے ظاہر ہے شرح المنیہ کی عبارت سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ملّا علی قاری کے رسالے میں ہے کہ جو امام مواضع اختلاف میں احتیاط اوررعایت کرتا ہو تو ہمارے اکثر مشائخ جوازِاقتداء کے قائل ہیں ورنہ اقتداء جائز نہیں اور معنی یہ ہےکہ رعایت کرنے والے کی اقتداء بلا کراہت جائز اور نہ رعایت کرنے والے کی اقتداء کراہت کے ساتھ جائز ہے اھ مختصراً(ت)

(۲؎ ردالمحتار     باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی        ۱/۴۱۶)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article تعزیوں میں مرثیے پڑھنے والے امام کے بارے حکم وہ شافعی حاجی جو پکا نمازی نہ ہو اسکی امامت کا حکم Next article
Rating 2.73/5
Rating: 2.7/5 (274 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu