• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > کیا امامت خاندانی کام ہے اور وراثت اس میں جاری ہے؟

کیا امامت خاندانی کام ہے اور وراثت اس میں جاری ہے؟

Published by Admin2 on 2012/7/24 (1960 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۶۴۴: از پیلی بھیت محلہ منیرخاں مرسلہ جناب مولانا مولوی وصی احمد صاحب محدّث سُورتی رحمہ اﷲ تعالٰی : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :

(۱) کیاامامت میں شرعاً وراثت جاری ہے کہ امام مرجائے تو اُس کے بعد اُسی کی اولاد یاخاندان سے امام ہونا ضرور ہے ، غیر شخص امام ہوتو اُن کے حق میں دست اندازی ہو۔

(۲) کیا اہلسنّت کے مذہب میں امامت حق خاندانی ہے کہ امام کے بعد اُس کے خاندان سے باہر جانا اُن کی حق تلفی ہے۔

(۳) امامت اصل حق علمائے دین کا ہے یا جاہلوں کا۔

(۴) اگر امامت کے شرعاً احق والیق علماء ہیں تو جو لوگ عالم دین،صالح ،متدّین ، جامع جملہ شرائط امامت کے ہوتے ہوئے جاہلوں کو امام بنائیں یا بنانا چاہیں یا اس میں کوشش کریں اُن پر شرعاً الزام ہے یا نہیں۔

(۵) امامت پنجگانہ وامامت جمعہ و عیدین کا ایک ہی حکم ہے یا کیا فرق ہے۔

(۶) اگر کسی گھرانے میں سابق سے امامت رہی پھر ان کے ایک شخص سے مسلمانوںنے ناراض ہوکر اسے امامت سے معزول کیاہواور باآنکہ اس خاندان میں دو تین شخص اور اسی کے مثل موجود ہوںاُن کے ہوتے ہوئے ایک عالم دین کو امامت کے لئے منتخب کیا اور برسوں اس عالم یااُس کے نائب نے جمعہ پڑھایا اوراس گھرانے والوں نے بھی بلا نزاع اُس کے پیچھے نمازِ جمعہ پڑھی ہو پھر کئی سال کے بعد دفعۃً وہ لوگ مدعی ہوں کہ امامت ہمارا حق خاندانی ہے اوراس بنا پر عالم کی امامت چھیننا چاہیں تو اُن کا یہ فعل محمود یا مذموم وممنوع ، اور یہ دعوٰی مسموع ہے یاممنوع و مدفوع ،اور اگر اب یہ لوگ زمانہ ریاست اسلام کی کوئی سند مہری ظاہر کریں کہ امامت ہمارے ہی خاندان کی ہے تو وہ سند شرعاً مستند ہے یا نہیں۔

(۷) اگر یہ لوگ اپنے اوپر علمِ دین کی ترجیح دفع کرنے کو حدیث صلواخلف کل بروفاجر (ہر نیک اورفاجر کے پیچھے نماز ادا کرلو۔ت) پیش کریں تو ان کا استدلال صحیح ہے یا باطل۔بینوا توجروا۔

الجواب

(۱) امامت میں وراثت جاری نہیں ورنہ سہام فرائض پرتقسیم ہو اوربحکم آیہ کریمہیوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل خط الانثیین۱؎اﷲ تعالٰی تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ دو بیٹیوں کے برابر بیٹے کا حصہ ہوگا۔(ت)

 (۱؎ القرآن        ۴/۱۱)

دوہراحصہ بیٹوں کو ملے اور اکہرا بیٹیوں کو اور بحکم آیہ کریمہولھن الثمن مماترکتم ان کان لکم ولدا۲؎

(ان بیویوں کے لئے آٹھواں حصہ ہے اگر خاونداولاد چھوڑ گئے ہوں۔ت)

(۲؎القرآن        ۴/۱۲)

آٹھویں دن کی امامت بی بی کو ملے بلکہ پیٹ کے بچّے بھی امامت کا حصہ پائیں کہ شرعاً وارث تو وہ بھی ہیں،عورات واطفال کا اصلاً اہلِ امامت نہ ہونا ہی دلیل واضح کہ امامت میں وراثت نہیں کہ وراثت خاندانی اُسی شیئ میں جاری ہوسکتی ہے جو ہر وارث کو پہنچ سکے بلکہ سب کو معاً پہنچنا لازم ،اور امامت میں تعدد محال ،تو کس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ امام کے بعد اُس کے وارثوں ہی میں امامت ضرور ہے ،یہ صریح جہل مبین ہے ۔

ردالمحتار میں ہے :اعتقادھم ان خُبزالاب لابنہ لایفید لمافیہ من تغیر حکم الشرع ومخالفۃ شرط الواقف واعطاء الوظائف من تدریس وامامۃ وغیرھا الی غیر مستحقھا۳؎ان کا یہ اعتقاد کہ باپ کی روزی بیٹے کے لئے ہے مفید نہیں،کیونکہ اس میں حکمِ شرع کی تبدیلی ہے اور واقف کی شرط کی مخالفت ہے اور تدریس ،امامت وغیرہ پر غیر مستحق کے لئے وظائف کا عطا کرنا ہے۔

(۳؎ ردالمحتارمطلب فیما شاع فی زماننا من تفویض نظر الاوقاف للصغیر   مطبوعہ مصطفی البابی مصر  ۳ /۴۲۲)

وکذلک اعتقادھم ان الارشد اذا فوض واسند فی مرض موتہ لمن اراد صح لان مختار الارشد  ارشد فھو باطل لان الرشد صفۃ قائمۃ بالرشید لاتحصل لہ بمجرد اختیار غیرہ لہ کما لا یصیرالشخص الجاھل عالما بمجرد اختیار الغیرلہ فی وظیفۃ التدریس وکل ھذہ امورنا شئۃ عن الجہل واتباع العادۃ المخالفۃ لصریح الحق بمجرد تحکیم العقل المختل ولاحول ولا قوۃ الّا باﷲ العلی العظیم ۱؎ (ملخصا) واﷲ تعالٰی اعلماسی طرح ان کا یہ اعتقاد کہ زیادہ صاحب عقل اپنی مرضِ موت میں جب اپنی مرضی کے مطابق کسی کوک حقوق تفویض کردیتاہے توصحیح ہے کیونکہ عقلمند کا اختیار درست ہی ہوتا ہے ،پس یہ باطل کیونکہ وقف کے معاملات میں رشد ایسی صفت ہے جو رشید کے ساتھ قائم ہوتی ہے ،یہ محض غیر کی پسندیدگی کی وجہ سے کسی کو حاصل نہیں ہوجاتی ،جیسا کہ جاہل شخص کے لئے غیر کے محض وظیفہ تدریس پسند کرنے سے جاہل عالم نہیں بن سکتا ،یہ تمام امور جہالت اور ایسی عادت پر مبنی ہیں جو عقل میں خلل کی بنا پر صریح حق خلاف حکم جاری کرتی ہے لاحول لاقوۃالّا باﷲالعلی العظیم (ملخصاً) واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

( ۱؎ ردالمحتار مطلب فیما شاع فی زماننا من تفویض نظر الاوقاف للصغیر  مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳/۴۲۲ )

 (۲) اہلسنت کے مذہب میں امامت حق خاندانی نہیں کہ یہ رافضیوں میں جاہل رافضیوں کاخیال ہے۔ اسی بنا پر ان کے نزدیک امامت بعد حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حق امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ تھی۔ شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کو معاذ اﷲ ناحق پہنچی کہ مولٰی علی حضور کے خاندان اقدس میں سے تھے نہ شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ،آج تک اُن کے جہال عوام کو یہی بہکاتے ہیں کہ خاندان کی چیز خاندان سے باہر نہیں جاسکتی صدیق و فاروق کیونکر مستحق ہوگئے، اور اہلسنت یہی جواب دیتے ہیں کہ یہ دنیوی وراثت نہیں دینی منصب ہے اور میں وہی مستحق ومقدم رہے گا جو افضل ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم

(۳) امامت اصل حق حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ہے کہ نبی اپنی امّت کا امام ہوتاہے

قال اﷲ تعالٰی

انّی جاعلک للنّاس اماما۲؎ (اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے بلا شبہ میں آپکو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ت)

 (۲؎ القرآن    ۲/۱۲۴)

اب حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تو نبی الانبیاء وامام الائمہ ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، اور ہرعاقل جانتا ہے جہاں اصل تشریف فرما نہ ہو وہاں اُس کا نائب ہی قائم ہوگا نہ کہ غیر اور تمام مسلمان آگاہ ہیں کہ علمائے دین ہی نائبانِ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں نہ جہال ،تو امامت خاص حقِ علماء ہے اس میں جہال کواُن سے منازعت کا اصلاً حق نہیں ،ولہذا علمائے کرام نے تصریح فرمائی ہے احق بالامامۃ اعلم قوم ہے:

تنویرالابصار ودُرمختار وغیرہما میں ہے:الاحق بالامامۃ تقدیما بل نصبا مجمع الانھر الاعلم باحکام الصلٰوۃ۱؎۔امامت کے لئے مقدم ہونے بلکہ مقرر کرنے میں زیادہ حقدار وہ ہے مجمع الانہر جو شخص احکامِ نماز سے زیادہ آگاہ ہو۔(ت)

(۱؎ دُرمختار             باب الامامۃ             مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۸۲)

 (۴) بیشک جو عالمِ دین کے مقابل جاہلوں کو امام بنانے میں کوشش کرے وہ شریعتِ مطہرہ کا مخالف اور اﷲ ورسول اور مسلمانوں سب کا خائن ہے۔حاکم،وعقیلی ،طبرانی وابن عدی وخطیب بغدادی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی حضورپُر نور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:من استعمل رجلا من عصابۃ وفیھم من ھوارضی اﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین ۲؎۔جوکسی جماعت سے ایک شخص کو کام مقرر کرے اور اُن میں وُہ موجود ہو جو اﷲ عزوجل کو اس سے زیادہ پسندیدہ ہے بیشک اس نے اﷲ ورسول اور مسلمانوں سب کے ساتھ خیانت کی۔(ت)

 (۲؎ المستدرک علی الصحیحین الامارۃ امانۃ                مطبوعہ دارلفکر بیروت    ۴/۹۲)

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article جھوٹ بولنے والے کی امامت کا حکم نماز میں سستی کرنے والے امام کا حکم Next article
Rating 2.66/5
Rating: 2.7/5 (267 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu