• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > امام کو نوکر کہنے اور گالیاں دینے والے کا حکم

امام کو نوکر کہنے اور گالیاں دینے والے کا حکم

Published by Admin2 on 2012/7/25 (866 reads)

New Page 1

مسئلہ ۶۶۵: از ڈاکخانہ چویکہ تحصیل وضلع مٹر پور موہرہ کنھیالالمسئولہغلام محمد صاحب ۲۸ صفر ۱۳۲۱ھ

مسند نشین شریعت غراجناب مولینا صاحب دام ظلکم بعد حصول سعادت قدمبوسی عرض یہ ہے کہ جو کہ کمترین کے آباؤ اجداد تھے وہ سب گاؤں کے امام تھے اور قدیم ایّام سے امامت کرتے چلے آئے ہیں اور کمترین کے جناب دادا صاحب بھی خود گاؤں کے استاد تھے اور کتمرین کے جناب والدبزرگوار بھی استادہی اور امامت کرتے تھے اور ان کے بعد میں بھی استادی طریقہ رکھتا ہوں کہ گاؤں کے بہت سے لڑکوں کو قرآن مجید کی تعلیم اور کتابوں وغیرہ کی بھی دی ہے اور پانچ نماز بھی ہم امام ہوکر پڑھواتے رہے ہیں اور اب گاؤں کے ایک شخص زمیندار نے کہا اگر مرضی ہو تو امام رکھیں ورنہ نہ رکھیں کہ امام نوکر کی جگہ ہوتا ہے خواہ نوکر کے پیچھے نماز ادا کریں یا نہ کریں اور غرضیکہ ا س نے بہت بیہودہ گالی بھی نکالی ہیں اور بے ادب لفظ بو لے ہیں اور اب کمترین جناب کی جانب دراز دست ہے اس شخص کی نسبت فتویٰ حدیث اور شریعت کے تحریر کرکے ارسال فرمائیں کہ اس کو تعزیر لگائی جائے ازحد مہربانی ہوگی اور کمترین کا حق گاؤں پر ہے یا نہیں اور شریعت میں اس کے واسطے کیا حکم ہے وہ اب امامت سے برخاست کرنا چاہتے ہیں فتویٰ مع آیات واحادیث کے ارسال فرمائیں۔

الجواب: کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادینا حرام ہے اور گالی دینا سخت حرام ہے اور بعض گالیاں تو کسی وقت حلال نہیں ہوسکتی اور ان کا دینے والا سخت فاسق اور سلطنت اسلامیہ میں اس (۸۰)کوڑوں کا مستحق ہو تا ہے ان سے ہلکی گالی بھی بلاوجہ شرعی حرام ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

من اذٰی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ۱؎ ۔جس نے کسی مسلمان کو بلا وجہ شرعی ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دی۔

 (۱؎ کنز العمال        الباب الثانی فیالترہیبات  ، مؤسستہ الرسالہ بیروت        ۱۶/ ۱۰)

اور علم دین کے استاد کا حق باپ سے بھی زائد ہے ستانے والا عاق ہوتا ہے اور بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کے رزق میں خلل اندازی بہت سخت بے جا اور بلاوجہ ایذا ہے اور ایسوں کو خوف نہیں آتا کہ وہ کسی مسلمان کے رزق میں بلاوجہ خلل ڈالیں، اﷲ قادر مطلق ان کی روزی میں خلل ڈالے ان کا رزق تنگ کردے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ رتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

کما تدین تدان۲؎( جیسا تو اوروں کے ساتھ کرگا ویسا ہی اﷲ تیری ساتھ کریگا ) ان لوگوں پر لازم ہے کہ امام سے معافی مانگیں، استاد سے خطا بخشوائیں اور اگر کوئی حرج شرعی نہ ہو تو بے سبب اسے موقوف نہ کریں ، ہاں اگر سبب شرعی ہو توبہ نرمی ، اس سے کہیں اگر وہ اس کا علاج نہ کرے یا نہ کرسکے تو نرمی کی ساتھ الگ کردیں اس وقت اس امام کو بھی بے جا ہٹ مناسب نہیں ، امامت کسی کا حق و میراث نہیں، اور وجہ شرعی کے سبب اہل جماعت جس کی امامت سے ناراض ہوں اسے امام بننا گناہ ہوتا ہے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

 (۲؎ کنز العمال        الباب الاول فی مواعظ الترغیبات         مؤسستہ الرسالہ بیروت     ۱۵/۷۷۲)


Navigate through the articles
Previous article وہابی کے لڑکے کے پیچھے تراویح پڑھنا کیسا ہے؟ دو بہنیں ایک کےنکاح میں ہوںاسکےبیٹےکی امامت کیسی Next article
Rating 2.93/5
Rating: 2.9/5 (235 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu