• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > اخلاقی خرابیوں والے حافظ قرآن کو امام بنانا کیسا

اخلاقی خرابیوں والے حافظ قرآن کو امام بنانا کیسا

Published by Admin2 on 2012/7/25 (1034 reads)

New Page 1

مسئلہ ۶۸۷ : از ضلع بھنڈارہ محلہ کم تالاب مرسلہ حکیم ہدایت اﷲ خاں صاحب متولی مسجد ۶۷ صفر المظفر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) ایک شخص حافظ قرآن ہے اور جبراً پیش امام بننا چاہتا ہے حالانکہ جماعت مسلمین اسکی مندرجہ ذیل باتوں سے ناخوش ہے اور اپنا پیش امام نہیں بنانا چاہتے ، حافظ صاحب پہلے گورنمنٹی ملازم تھے رشوت کھا کرسزا پائی مگر قسمت کے زور سے اپیل میں رہائی پائی۔

(۲) اس حافظ صاحب نے ایک سے آٹھ آنہ لے کر رسید لکھ دی تھی بعد میں دھوکا دے کر رسید جلادی کچہری میں انکار کیا کہ آٹھ آنہ نہیں لیا جس سے اس شخص کو بڑابھاری نقصان ہوا حالانکہ یہ بات سچ تھی کہ پیسے حافظ صاحب لے چکے تھے اور صاف انکار کردیااور اسی معاملہ میں پہلے بھی قسم قرآن شریف کی کھا چکے تھے۔

(۳) حافظ صاحب نے اپنے پیر و مرشد پر طعن وتشنیع کرتاہے کہ محلہ میں یا مدرسہ اسلامیہ میں جو خاص ان کے پیر ومرشد کا ایجاد کردہ ہے کہتے ہیں کہ ان کے باپ دادا کا میراث ہے کیا اور اپنے پیر کی بات پر فتوٰی بلواتا ہے حالانکہ پیر مرحوم نے ان کو اپنا خلیفہ زبانی مقرر کیا ہے نہ کہ تحریری ، بعد اس طعنہ تشنیع کے پیر مرحوم پر حافظ صاحب کی خلافت باقی ہے یا باطل ہوئی یا خلافت سے نکل گئے۔

(۴) حافظ صاحب نے چمڑا قربانی کا جو کہ صاحب نصاب ہیں مدرسہ اسلامیہ میں دینے کو کہا تھا دھوکا دے کر اپنے صرف میں لے آئے

(۵) اور سید کو زکوٰۃ کا پیسہ لینا درست ہے یا نہیں؟ اتنی باتیں ٖحافظ بنو علی صاحب میں موجود ہیں جس کو ہر فردبشر اس محلہ کا بخوبی جانتا ہے تو اس پر بھی وہ پیش امام بننا چاہتے ہیں جبراً اور فساد برپا کرتے ہیں کہ میں حافظ ہوں خلیفہ ہوں میرا حق زیادہ ہے پیش امام میں بنوں گا اور جماعت کثیرہ کی رائے نہیں ہے کہ اس کو اپنا پیش امام بنائے اس لئے جناب والا کی خدمت میں ناقابل یہ تحریر ارسال کرتا ہوں کہ تکلیف گوارا فرماکر اس کاجواب تفصیل وار ہر ایک سوال کا تحریر فرمائیں گے کہ ایسی زبردستی پیش امام جس سے مقتدی ناراض ہوں درست ہے یا نہیں ؟ زیادہ کیا عرض کروں زیادہ حد ادب۔

الجواب: جس سے مقتدی اس کے کسی عیب کی وجہ سے ناراض ہوں اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ حدیث میں ارشاد فرمایا:ثلثۃ لا ترفع صلاتھم فوق اذانھم شبراوعد منھم من اما قوما وھم لہ کارھون ۱؎۔تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے بالشت بھر بھی اونچی نہیں ہوتی یعنی بارگاہ عزت تک رسائی تو بڑی چیز ہے ایک وہ جو کچھ لوگوں کی امامت کرے اور وہ لوگ اس ناراض ہوں یعنی اس میں کسی قصور شرعی کے سبب۔وغیرہ

 (۱؎ سنن ابن ماجہ  باب من امّ قوما وھم لہ کارھون     مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص ۶۹)

ف؎:جس کتب سے حدیث کا حوالہ دیا ہے اس میں ''فوق اذانھم'' کی جگہ ''فوق روسھم '' ہے ۔ نذیر احمد سعیدی

اونچی نہیں ہوتی یعنی بارگاہ عزت تک رسائی تو بڑی چیز ہے ایک وہ جو کچھ لوگوں کی امامت کرے اور وہ لوگ اس ناراض ہوں یعنی اس میں کسی قصور شرعی کے

والا فالو بال علیھم کما فی الدر المختا ر وغیرہ ۲؎ ( ورنہ وبال ان لوگوں پر ہوگا جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے ۔ ت) اور ظاہر ہے کہ صورت مستفسرہ میں اس شخص میں معتدد قصور ہیں رشوت لینا اگر ثابت ہو تو وہ گناہ کبیرہ ہے ،

(۲؎ درمختار  باب الامامۃ   مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱/۸۳)

حدیث میں فرمایا:الراشی والمرتشی کلا ھما فی النار ۳؎۔رشوت لینے والااور رشوت دینے والا دونوں دوزخی ہیں۔

(۳؎ کنز العمال   الفصل الثالث فی الہدیۃ والرشوۃ   مبطوعہ مؤ سسۃ الرسالۃ بیروت    ۶/۱۱۳ )

ف: جس کتاب سے حوالہ دیا ہے اس میں '' کلاھما'' کا لفظ نہیں ہے ۔نذیر احمد سعیدی

پیسے لے کر مکر جانا اور اس پر قرآن عظیم کی جھوٹی قسم کھانہ اور رسید جلا کر مسلمان پر جھوٹا دعوٰی کرنا اور اسے نقصان پہنچانا یہ سب گناہ کبیرہ ہیں، ان وجوہ سے حافظ مذکور کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اور اسے امام بنا نا گناہ ، اور جبراً امام بننے میں خود اس کی نماز بھی تباہ جب تک وہ ان تمام افعال شنیعہ سے علانیہ توبہ نہ کرے ، قربانی کی کھال اگر دوسرے نے اسے مدرسہ میں دینے کو دی تھی اور اس نے دھوکا دے کر اپنے صرف میں کرلی تو یہ بھی دغا اور خیانت اور گناہ کبیرہ ہے ، اور اگر اپنی قربانی کی کھال مدر سہ میں دینے کو کہی تھی پھر نہ دی تو بیجا ہے مگر چنداں الزام نہیں جبکہ کسی عذر شرعی سے ایسا کیا ہو ورنہ اﷲ عزوجل سے وعدہ خلافی ہے ، چنانچہ نتیجہ بہت شدید ہے

قال اﷲ تعالٰی

فاعقبھم نفاقا فی قلو بھم الی یوم یلقونہ بما اخلفواﷲ ما وعدوہ وبما کانو ایکذبون۴؎اﷲ تعالیٰ دا رشاد ہے: تو اس کے پیچھے اﷲ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انھوں نے اﷲ تعالیٰ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے (ت)

 (۴؎ القرآن     ۹/۷۷)

پیر پر طعنہ وتشنیع ارتداد طریقت ہے اس سے خلافت درکنار بیعت سے بھی خارج ہوجاتا ہے ۔ سید حاجت مند کو زکوٰۃ دینے میں بعض نے اجازت لکھی ہے اور صحیح و معتمد ظاہر الروایہ

عدم جواز کما بیناہ فی الزھر الباسم ( جیسا کہ ہم نے اس کو الزہر الباسم میں بیان کیا ہے ۔ ت) واﷲ تعالیٰ اعلم


Navigate through the articles
Previous article تھانیدار رجسٹرار وغیرہ جماعت کروا سکتے ہیں؟ جو گناہ کبیرہ سے توبہ کر لے اسکی امامت کیسی ہے؟ Next article
Rating 2.65/5
Rating: 2.6/5 (293 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu