• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Tayammum / تيمم > ران میں پھوڑا ہونے کے سبب تیمم کی اجازت ہے؟

ران میں پھوڑا ہونے کے سبب تیمم کی اجازت ہے؟

Published by admin on 2012/2/14 (1327 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۵:    از کلکتہ کوچہ ٹارنب ڈاکخانہ ویلزی اسٹریٹ نمبر۶ مرسلہ رشید احمد خان ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۰۹ھ

 زید کی ران میں پھوڑا یا اور کوئی بیماری ہے ڈاکٹر کہتا ہے پانی یہاں نقصان کرے گا مگر صرف اُسی جگہ مضر ہے اور بدن پر ڈال سکتاہے اس حالت میں وضویا غسل کے  لیےتیمم درست ہے یا نہیں؟ اگر درست ہے تو تیمم غسل کا ویسا ہی ہے جیسا وضو کا؟ یا کیا حکم ہے؟ باقی آداب۔

الجواب

صورتِ مسئولہ میں غسل یا وضو کسی کیلئے تیمم جائز نہیں وضو کیلئے نہ جائز ہوناتوظاہر کہ ران کو وضو سے کوئی علاقہ نہیں اور غسل کیلئے یوں نارواکہ اکثر بدن پر پانی ڈال سکتا ہے لہٰذا وضو تو بلاشبہ تمام وکمال کرے اور غسل کی حاجت ہوتواگر مضرت صرف ٹھنڈاپانی کرتا ہے گرم نہ کرے گا اور اسے گرم پانی پر قدرت ہے توبیشک پورا غسل کرے اتنی جگہ کو گرم پانی سے دھوئے باقی بدن گرم یاسرد جیسے سے چاہے ،اور اگر ہر طرح کا پانی مضر ہے یا گرم مضر تو نہ ہوگا مگر اسے اس پر قدرت نہیں توضرر کی جگہ بچا کر باقی بدن دھوئے اور اس موضع پر مسح کرلے اور اگر وہاں بھی مسح نقصان دے مگر دوا یا پٹی کے حائل سے پانی کی ایک دھار بہا دینی مضر نہ ہوگی تو وہاں اُس حائل ہی پر بہادے باقی بدن بدستور دھوئے اور اگر حائل پر بھی پانی بہانا مضر ہوتو دوا یا پٹی پر مسح ہی کرلے اگر اس سے بھی مضرت ہوتو اُتنی جگہ خالی چھوڑ دے جب وہ ضرر دفع ہوتوجتنی بات پر قدرت ملتی جائے بجالاتاجائے مثلاً ابھی پٹی پر سے مسح بھی مضر تھا لہٰذا جگہ بالکل خشک بچادی چند روز بعد اتنا آرام ہوگیا کہ یہ مسح نقصان نہ دے گا تو فوراً پٹی پر مسح کرلے اسی قدر کافی ہوگاباقی بدن تو پہلے کا دھویاہی ہواہے جب اتناآرام ہوجائے کہ اب بندش پر سے پانی بہانا بھی ضرر نہ کرے گا فوراً اس پر پانی کی دھار ڈال دے صرف مسح پر جو پہلے کر چکا تھا قناعت نہ کرے جب اتناآرام ہوجائے کہ اب خاص موضع کا مسح بھی ضرر نہ دے گا فوراً وہاں مسح کرلے پٹی کے غسل پر قانع نہ رہے جب اتناآرام ہو کہ اب خود وہاں پانی بہانا مضر نہ ہوگا فوراً اُس بدن کو پانی سے دھولے غرض رخصت کے درجے بتادئے گئے ہیں جب تک کم درجہ کی رخصت میں کام نکلے اعلٰی درجہ کی اختیار نہ کرے اور جب کوئی نیچے کا درجہ قدرت میں آئے فوراً اُس تک تنزل کرآئے۔ اسی طرح اگر یہ حالت ہو کہ اُس جسم پر پانی تو نقصان نہ دے گا مگر بندھا ہوا ہے کھولنے سے نقصان پہنچے گا یا کھول کر پھر باندھ نہ سکے گا تو بھی اجازت ہے کہ بندش پر سے دھونے یا مسح کرنے جس بات کی قدرت ہو عمل میں لائے جب وہ عذر جاتا رہے کھول کر جسم کو مسح یا غسل جو مقدور ہوکرے یہی سب حکم وضو میں ہیں اگر اعضائے وضو میں کسی جگہ کوئی مرض ہو الحاصل یہاں اکثر کیلئے حکم کُل کا ہے جب اکثر بدن پر پانی ڈال سکتا ہو تو ہرگز تیمم کی اجازت نہیں بلکہ یہی طریقے جو اوپر گزرے بجالائے ہاں اگر اکثر بدن پر پانی ڈالنے کی قدرت نہ ہو (خواہ یوں کہ خود مرض ہی اکثر بدن میں ہے یا مرض تو کم جگہ ہے مگر واقع ایسا ہوا کہ اُس کے سبب اور صحیح جگہ کو بھی نہیں دھو سکتا کہ اُس کا پانی اس تک پہنچے گا اور کوئی صورت بچا کر دھونے کی نہیں یوں اکثر بدن دھونے کی قدرت نہیں (مثلاً رانوں، پنڈلیوں ، بازوؤں ، کلائیوں ، پیٹھ پر جابجا دودو چارچار انگل کے فاصلے سے دانے ہیں کہ صرف دانوں کی جگہ جمع کی جائے تو سارے بدن کے نصف حصہ سے کم ہو مگر وہ  پھیلے ہوئے اس طرح ہیں کہ ان کے بیچ بیچ کی خالی جگہ پر بھی پانی نہیں بہاسکتے) تو ایسی حالت میں بیشک تیمم کی اجازت ہوگی اب یہ نہ ہوگا کہ صرف تھوڑا سا بدن دھو کر باقی سارے جسم پر مسح کرلے۔

درمختار میں ہے:تیمم لوکان اکثرہ ای اکثر اعضاء الوضوء عددا وفی الغسل مساحۃ مجروحا اوبہ جدری اعتبار اللاکثر وبعکسہ یغسل الصحیح ویمسح الجریح ۱؎۔

تیمم لوکان اکثرہ ای اکثر اعضاء الوضوء عددا وفی الغسل مساحۃ مجروحا اوبہ جدری اعتبار اللاکثر وبعکسہ یغسل الصحیح ویمسح الجریح ۱؎۔

(۱؎ الدرالمختار        کتاب الطہارۃ     آخر باب التیمم    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۴۵)

ردالمحتار میں ہے:لکن اذا کان یمکنہ غسل الصحیح بدون اصابۃ الجریح والاتیمم حلیہ ۲؎۔

لیکن اگر صحت مند حصے کو اس طرح دھوسکتا ہے کہ زخمی حصہ پر پانی نہ جائے تواسے دھوناہے ورنہ تیمم کرے ۔حلیہ (ت)

(۲؎ ردالمحتار         کتاب الطہارۃ     آخر باب التمیم    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۱۷۱)

درمختار میں ہے:الحاصل لزوم غسل المحل ولو بماء حارفان ضرمسحہ فان ضرمسحھافان ضرسقط اصلا ۳؎۔

حاصل یہ ہے کہ زخم کی جگہ کو دھونا لازم ہے اگرچہ گرم پانی سے دھوئے ۔ اگر دھونے سے ضرر ہوتو مسح کرے ، اگر جائے زخم پر مسح سے بھی ضرر ہو تو پٹی کرے ، اگر اس سے بھی ضرر ہوتو معافی ہے ۔(ت)

(۳؎ الدرالمختار     کتاب الطہارۃ     آخر مسح علی الخفین    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۵۰)

ردالمحتار میں ہے:قولہ ولو بماء حارنص علیہ فی شرح الجامع لقاضیخان واقتصر علیہ فی الفتح وقیدہ بالقدرۃ علیہ وفی السراج انہ لایجب والظاھر الاول بحر ۴؎۔

کلامِ شارح ''اگر چہ گرم پانی سے دھوئے'' اس کی تصریح قاضی خاں کی شرح جامع صغیر میں ہے اور فتح القدیر میں اسی پر اکتفا ہے اور اس میں اس حکم کو اس سے مقید کیاہے کہ اگر گرم پانی پر اسے قدرت ہو۔ اور سراج میں ہے کہ یہ واجب نہیں ۔اور ظاہر اول ہے ۔بحر۔

(۴؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     آخر باب المسح علی الخفین    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۱۸۶)

درمختار میں ہے:یمسح علی کل عصابۃ ان ضرہ الماء اوحلہاومنہ ان لایمکنہ ربطھا ۱؎۔

پوری پٹی پر مسح کرے اگراسے پانی سے یا پٹی کھولنے سے ضرر ہو، اسی ضرر کے تحت یہ بھی ہے کہ کھولنے کے بعد اسے باندھ نہ سکتا ہو ۔(ت)

(۱؎ الدرالمختار        کتاب الطہارۃ    آخرباب المسح علی الخفین    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۵۰)

ردالمحتار میں ہے:قولہ ان ضرہ الماء ای الغسل بہ اوالمسح علی المحل ط ۲؎۔

کلام شارح '' اگر پانی سے ضرر ہو'' ہے یعنی پانی سے دھونے میں'یا زخم کی جگہ مسح کرنے میں ضرر ہو۔طحطاوی۔ (ت)

(۲؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ    آخرباب المسح علی الخفین    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۱۸۷)

درمختار میں ہے:انکسرظفرہ فجعل علیہ دواء او وضعہ علی شقوق رجلہ اجری الماء علیہ ان قدر والا مسحہ والاترکہ ۳؎۔

ناخن ٹوٹ گیااس جگہ دوا لگائی،یا پیر کی پھٹن پر دوا لگائی تواس پر پانی بہائے اگر اس پرقدرت ہو ورنہ اس پر مسح کرے،یہ بھی نہ ہوسکے تو چھوڑدے۔( ت)

(۳؎ الدرالمختار    کتاب الطہارۃ آخرباب المسح علی الخفین        مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۵۰)

ردالمحتارمیں ہے:یمسح الجریح ان لم یضرہ والاعصبہابخرقۃ ومسح فوقھا خانیہ وغیرھاومفادہ کما قال ط انہ یلزمہ شد الخرقۃ ان لم تکن موضوعۃ ۴؎۔

زخمی حصہ پر مسح کرے اگر مسح سے ضرر نہ ہو، ورنہ اس پر کوئی پٹی باندھ کر اس کے اوپر مسح کرے خانیہ وغیرہا۔اس عبارت کا مفاد جیسا کہ طحطاوی نے بتایا یہ ہے کہ اس کے ذمہ پٹی باندھنا لازم ہے اگر پہلے بندھی نہ رہی ہو۔ (ت)

(۴؎ ردالمحتار         کتاب الطہارۃ     باب التمیم    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۱۷۱)

ہاں یہ بات کہ فلاں امر ضرر دے گا کسی کافر یاکُھلے فاسق یا ناقص طبیب کے بتائے سے ثابت نہیں ہوسکتی یا تو خود اپنا تجربہ ہوکہ نقصان ہوتاہے یاکوئی صاف علامت ایسی موجود ہو جس سے واقعی ظن غالب نقصان کا ہویاطبیب حاذق مسلم مستور بتائے جس کا کوئی فسق ظاہر نہ ہو۔

فی الدرالمختار و ردالمحتار :تیمم لمرض یشتد اویمتد بغلبۃ ظن(عن امارۃ اوتجربۃ شرح منیۃ) اوقول (طبیب)حاذق مسلم (غیر ظاھر الفسق)۱؎ اھ بالالتقاط ۔

جب ایسی بیماری ہو کہ( علامت یا تجربہ سے شرح منیہ)یا ایسے مسلمان ماہر طبیب کے بتانے سے جس کا فسق ظاہر نہ ہو غلبہ ظن ہو کہ پانی استعمال کرنے سے وہ بیماری اورسخت ہوجائے گی یا لمبی مدت لے لے گی تو تیمم کرے اھ ملتقطا۔( ت)

(۱؎ الدرالمختار        کتاب الطہارۃ     باب التیمم     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۴۱

ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     باب التیمم         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۱۵۶)

اورتیمم غسل ووضوکا ایک ہی ساہے بلکہ ایک ہی تیمم دونوں کے لئے کافی ہوسکتاہے خصوصا جبکہ نیت دونوں کو شامل ہو ۔

فی ردالمحتار عن الوقایۃ یکفی تیمم واحد عنہما ۲؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

ردالمحتار میں وقایہ سے منقول ہے کہ:ایک ہی تیمم غسل ووضودونوں کی جگہ کافی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)

(۲؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     باب التیمم         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۱۶۵)


Navigate through the articles
کسی نماز کے جانے کے خوف سے ترک ِوضو کی اجازت ہے؟ Next article
Rating 2.77/5
Rating: 2.8/5 (275 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu