• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > جو اپنی اولاد کو غلط کام سے نا روکے اس کی امامت کیسی

جو اپنی اولاد کو غلط کام سے نا روکے اس کی امامت کیسی

Published by Admin2 on 2012/7/26 (983 reads)

New Page 1

مسئلہ ۷۰۲ : از قصبہ لبی یررہ اسٹیشن سربند گورنمنٹ پٹیالہ مسئولہشیخ شیر محمد صاحب ۱۶ صفر ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر کی نسبت یہ مشتہر کیا گیا ہے کہ ہر دو باہم فاعل ومفعول تھے یعنی اغلام کرتے تھے زید مفعول کے دیگر رشتہ داران مثل پدر و برادر قصبہ ہذا میں امامت کرتے میں زید کے افعال قبیحہ کی خبر اس کے پدر و برادر اور دیگر رشتہ داران کو بھی تھی جس کی اطلاع ان کو بذریعہ تحریرات کے دی گئی مگر بانیہمہ انھوں نے کبھی زید کو اس فعل ناجائز سے نہیں روکا اور نہ کسی قسم کی زجر و توبیح کی بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ زید کی ناجائز آمدنی سے وہ خود بھی فائدہ اٹھاتے تھے فاعل ومفعول کو ہنگام اختلاط کسی شخص نے بچشم خود نہیں دیکھا مگر واقعات اس امر کو پایہ ثبوت پر پہنچارہے ہیں مثلاً برا در بکر کا تمام شب دونوں کو ایک جا دیکھنا اور بکر کی گوشمالی کرنا اور تحریرات کا عام لوگوں میں بذریعہ ڈاک روانہ کیا جانا اور زید کا عام لوگوں میں اپنی مفعولیت کا اقرار کرنا اور رہا یہاں پولیس کے روبرو زید کا اقبال بیان تحریر کرانا اور اس کے برادر کا تائید کرنا زید کا معمولی حیثیت کا آدمی ہونا مگر زیب وزینت اس درجہ رکھنا اوراس کے پدر وبرادرکا اس طرف توجہ نہ کرنا ،پس دریافت طلب یہ امر ہے کہ جو شخص خلاف وضع وحرام فعل کریں یا کرائیں ان کی امامت شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور اگرمفعول کے پدر و برادر وغیرہ کو اس امر کی خبر ہو اور وہ چشم پوشی کرکے ان کو منع نہ کریں تو ان کی امامت کے متعلق شرعاً کیا حکم ہے ؟ امید کہ قول مفتی بہ بحوالہ کتب تحریر فر ماکر مشکور فرمائیں۔

الجواب: یہ سخت شدید گناہ کبیرہ ہے اور فاعل ومفعول بھی اگر بالغ وغیر مجبور ہوں فاسق ہیں ان کی یہ حالت اگر صحیح طور پر معروف مشہور ہو یا وہ خود اقرار کرتے ہوں جس طرح یہاں زید کا اقرار مذکور ہے نہ صرف قیاسات وسوسے ظن جن کا شرع میں اعتبار نہیں بلکہ ان وجوہ پر کبیرہ کی نسبت کرنے والے خود ہی مرتکب کبیرہ ہوتے ہیں اﷲ عزوجل فرماتے ہیں:لولا اذسمعتموہ ظن المؤمنین و المؤ منات بانفسہم خیرا ۱؎۔کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا کہ مومن مردوں اور خواتین نے اپنوں پر نیک گمان کیا ہوتا ۔ (ت)

 (۱؎ ا لقرآن        ۲۴/۱۲)

ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۲؎۔بدگمانی سے بچا کر و کیونکہ بدگمائی سب سے بڑا جھوٹ ہے الحدیث (ت)

(۲؎ صحیح البخاری باب قول اﷲ عزوجل من بعد وصیۃ یوصی بہا اودین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۳۸۴)

اس پر لحاظ و کار روائی جائز نہیں بلکہ وجہ صحیح شرعی سے ثابت ومعروف ہو تو فاسق معلن ہیں ان کو امام بنانا گنا ہ ، ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنا گناہ اور پھیرنا واجب ، اور اگر ثبو ت شرعی واقرا ر معروف نہ ہو مگر لوگوں میں افواہ اڑگئی ہو جن کے سبب ان سے نفرت اور ان کی امامت میں جماعت کی قلت ہو تو اس حالت میں ان کی امامت مکروہ تنزیہی ہے،

وان لم یثبت الذنب بل لولم یکن لان المناط النفرۃ کمن شاع برصہ و العیاذ باﷲ تعالٰی ۔اگر چہ گناہ ثابت نہ ہو بلکہ ہو ہی نہ کیونکہ بنیاد تو نفرت ہے اس شخص کی طرح جس کا برص پھیل گیا ہو ، والعیاذ باﷲ تعالیٰ ۔(ت)

پدرو برادر اگر اس کے روکنے پر قادر ہیں اور نہیں روکتے یا اس فعل پر راضی ہیں وہ بھی فاسق ہیں:

قال اﷲ تعالیٰ

یا ایھاالذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۱؎ وقودھاا لناس والحجارۃ۲؎ وقال تعالیٰ کانوا لایتنا ھون عن منکر فعلوہ۳؎اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے : اے اہل ایمان اپنے آپ کو اور پنے اہل کو اس اگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ اور اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے : وہ اس برے کام سے منع نہیں کرتے تھے جو برا کام لوگ کرتے تھے (ت)

 (۱؎ القرآن    ۶۶/۶)

(۲؎ القرآن   ۲/۲۴)

(۳؎ القرآن  ۵/۷۹)

ان کی یہ حالت اگر معروف ہو تو ان کا بھی وہی حکم ہے کہ نہیں امام بنانا گناہ اور ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی۔

فتاوٰی حجہ و غنیـہ میں ہے:لو قد موا فاسقا یاثمون۴؎ ( اگر انھوں نے فاسق کو مقدم کردیا تو وہ گنہگار ہوں گے ۔ت)

 (۴؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الامامۃ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۱۳)

اور اگر اس حرام کمائی سے ان کا فائدہ لینا اسی طرح بہ ثبوت شرعی ثابت ہو نہ فقط اتنا کہ کہا جاتاہے یہ کوئی چیز نہیں۔

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:بئس مطیۃ الرجل زعموا۵؎۔ رواہ حمد و ابوداؤ عن حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہشک اور تخمینہ کی بنیاد پر خبر دینا قبیح ہے۔

اس کو امام احمد اور ابوداؤد نے حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ہے۔

(۵؎ مسنداحمد بن حنبل         ماروی عن حذیفۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۵/۴۰۱)

(سنن ابوداؤد        باب فی الرجل یقول زعموا        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/۳۲۳ )

تو حرام خور بھی ہیں اوراول سے سخت تر ، دور کرنے کے سزاوار ، اور اگر بقدر قدرت منع کرتے ہوں اور وہ بازنہیں آتا اور یہ اس ملعون کمائی سے فائدہ نہیں لیتے تو ان پر الزام نہیں:قال ﷲ تعالٰی

لا تزر وازرۃ  وزراخری ۱؎۔اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی (ت)

 (۱؎ القرآن         ۶/۱۶۴)

لیکن افواہ عام کی بنا پر نفرت وتقلیل جماعت ہو تو ان کی امامت مکروہ تنزیہی ہے اور نامناسب ہوگی اگر چہ پہلی صورت کی طرح مکروہ تحریمی اور گنا نہیں ، یہاں بحمد اﷲ تعالیٰ فتوٰی پر کوئی فیس نہیں لی جاتی بفضلہ تعالیٰ بفضلہ تعالیٰ تمام ہندستان ودیگر ممالک مثل چین و افریقہ و امریکہ وخود عرب شریف وعراق سے ا ستفتا آتے ہیں اور ایک وقت میں چار چار سوفتوے جمع ہوجاتے ہیں بحمد اﷲ تعالیٰ حضرت جد امجد قدس سرہ العزیز کے وقت سے اس ۱۳۳۷؁ھ تک اس دروازے سے فتوے جاری ہوئے اکانوے (۹۱)برس اور خود اس فقیر غفرلہ کے قلم سے فتوے نکلتے ہوئے اکاون(۵۱) برس ہونے آئے یعنی اس صفر کی ۱۴ تاریخ کو پچاس(۵۰) برس چھ (۶)مہینے گزرے، اس نو۹ کم سو۱۰۰ برس میں کتنے ہزار فتوے لکھے گئے ، بارہ مجلد تو صرف اس فقیر کے فتاوے کے ہیں بحمد اﷲ یہا ں کبھی ایک پیسہ نہ لیا گیا نہ لیا جائے گا بعونہٖ تعالیٰ ولہ الحمد معلوم نہیں کون لوگ ایسے پست فطرت و دنیٰ ہمت ہیں جنھوں نے یہ صیغہ کسب کا اختیار کر رکھا ہے جس کے باعث دور دور کے ناواقف مسلمان کئی بار پوچھ چکے ہیں کہ فیس کیا ہوگی؟ مااسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین ۲؎ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا میرا اجر تو سارے جہاں کے پرور دگار پر ہے اگر وہ چاہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

(۲؎ القرآن        ۲۶/۲۷ا)


Navigate through the articles
Previous article جسکے والدین کہیںوہ انکے جنازہ پرنہ آئے اسکی امامت چکڑالوی مذہب والا کہے میں نے توبہ کر لی اسکی امامت Next article
Rating 2.70/5
Rating: 2.7/5 (284 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu