• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > زنا، چوری کے الزام کے باعث معزول امام کے بارے حکم

زنا، چوری کے الزام کے باعث معزول امام کے بارے حکم

Published by Admin2 on 2012/7/26 (972 reads)

New Page 1

مسئلہ ۶۹۵: از میر ٹھ چھاؤنی ویلر کلب مرسلہ عمر بخش خانساماں ۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایک شخص عرصہ چند سال سے امام مسجد رہ کر ببا عث وجوہات ذیل کے معزول کردیا گیاہے:

( ۱)ا تہام زنا

(۲) اتہام سرقہ دریہائے مسجد وغیرہ اسباب مسجد جو متعلق مسجد اس کے ماتحت تھا۔

(۳) یعمل عمل قوم لوط ، جس کے مشاہدہ ومعائنہ کے چند اشخاص معتبران شاید ہیں وغیرہ وغیرہ ، اب وہ شخص بغیر اجازت بانی مبانی مسجد ومتولی مسجد چند اشخاص کے کہنے پر جو ساکنان غیر محلہ اس مسجد کے ہیں امام ہونا چاہتا

ہے علاوہ اس کے جو بالفعل امام مسجد بانی ومتولی مسجد نے مقرر کیا ہوا ہے اعلم بالسنّتہ والحدیث ہو نے پر سوا جامع عالم جید ہے اور معزول شدہ کا مبلغ علم صرف کنز الدقائق ۔ ایسے شخص کا امام ہونا باوجود جمیع وجوہات بالا کے جائز ہے یا نہ فقط

الجواب: اتہام اور بدگمانی تو شرعاً جائز نہیں:

قال اﷲ تعالیٰ

الذین امنو اجتنبوا کثیر من الظن ان بعض الظن اثم۱؎اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے : اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔

 (۱؎ القرآن         ۴۹ /۱۲)

وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ ولسم ایا کم والظن فان الظن اکذب الحدیث۔رسالت مآب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہوتی ہے الحدیث (ت)

 (۲؎ صحیح البخاری        کتاب الوصایا    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۳۸۴)

مگرجس بات کے معاینہ کے گواہان ثقہ بتائے جاتے ہیں وہی ممانعت امامت کو بس ہیں بلکہ ایسے افعالہ شنیعہ سے متہم ہو چکا اور طبائع اس سے نفرت کرنے لگتیں اگر اگر ثبوت نہ بھی ہو تاہم اس کی امامت میں تقلیل جماعت ضرور ہے اور اسی قدر کراہت امامت کو بس ہے اگر چہ وہ واقع میں بے قصور ہو کما نصوا علیہ فی من شاع برصہ والعیاذباﷲ تعالیٰ کما فی الدر وغیرہ ( جیسے کہ فقہاء نے اس مسئلہ کی تصریح کی ہے اس شخص کے بارے میں جس کا برص پھیل گیا ہو والعیاذ باﷲ تعالیٰ۔ جیسا کہ درمختار میں ہے۔ت) بہر حال وہ علم متقی صحیح خوں کے مقابل کسی طرح مستحق امامت نہیں ہوسکتا خصوصاً جبکہ بانی مسجد واہل محلہ کو اس سے کراہت ہے فان امرا لامامۃ مفرض الی البانی ثم الی الجماعۃ ولا دخل فیہ للا جانب( کیونکہ امام کا مقرر کرنا بانی کا حق ہے پھر مقتدی حضرت کا امام مقرر کرنے میں اجنبی لوگوں کا کوئی حق نہیں ۔ت) تو غیر اہل محلہ کا اسے مقر کرنا اصلا معتبر نہیں ہوسکتا نہ حالت مذکور میں کہ قوم بروجہ شرعی اس سے کراہت رکھتی ہے خود اسے امام بننا نا جائز ۔

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:ثلثۃ لا ترفع صلاتھم فوق اذانھم شبرا وعدمنھم من ام قوما وھم لہ کارھون ۱؎۔تین آدمیوں کی نماز ان کے کانوں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی ( یعنی بارگاہ عزت میں رسائی تو بڑی چیز ہے) ان میں ایک شخص ہے جو کچھ لوگوں کی امامت کرے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں۔ (ت) واﷲ تعالیٰ اعلم

 (۱؎ سنن ابن ماجہ    باب من ام قوماً وہم لہ کارھون    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص ۶۹)

ف: جس کتاب سے حوالہ دیا ہے اس میں '' فوقھم اذنھم '' کی جگہ '' فوقھم رؤ سھم'' ہے ۔ نذیر احمد سعیدی


Navigate through the articles
Previous article جسکے والدین کہیںوہ انکے جنازہ پرنہ آئے اسکی امامت چکڑالوی مذہب والا کہے میں نے توبہ کر لی اسکی امامت Next article
Rating 2.78/5
Rating: 2.8/5 (266 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu