• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > امام کی حرکتیں اچھی نہ ہوں اسکی امامت کا حکم؟

امام کی حرکتیں اچھی نہ ہوں اسکی امامت کا حکم؟

Published by Admin2 on 2012/7/29 (1690 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ ۷۰۳: از بمبئی محلا قصابان پوست ۳۰ مرسلہ عبدالرزاق ۱۷ شعبان ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید چند ماہ تک پہلے ایک مسجد میں امامت کرتا رہا اور وہاں پر زید کی کئی حرکتیں معلوم ہوئیں کہ پیشاب کرکے ڈھیلا نہ لینا بلکہ پیشاب و پاخانہ کرکے اسی وقت اسی جگہ پانی سے استنجاء کرکے اور لنگوٹ باند کر نماز پڑھنا اور بازاری عورتوں کے ساتھ خلاملا مزاح و تمسخر کرنا، ان باتوں کا چرچا اہل جماعت میں ہونے کو تھا کہ زید دوسری مسجد میں منتقل ہوگیا وہاں بھی اس کی وہی حرکتیں بدستور قائم رہیں ، جب لوگوں نے اس کو لنگوٹ باندھنے اور ڈھیلا نہ لینے کی نسبت پوچھاتو کہا میں معذور ہوں ڈھیلا نہیں لے سکتا اور لنگوٹ میں بوجہ عذر کے باندھتا ہوں مگر نماز کے وقت صرف کپڑے بدل لیتا ہوں ۔ اور خلا ملا عورتوںسے بدستور سے، لوگ اس کی ایسی حرکتوں سے سخت بے زار ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی سخت ناراض ہیں، بلکہ لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک کردیا چند لوگ اپنی نفسانیت سے اس مکار کی حمایت پراڑے ہیں باوجود اس کے معذور ہونے اور یہ حرکتیں معلوم ہونے کے بھی اس کو علیحدہ اس منصب سے نہیں کرنا چاہتے اب زید نے اپنی سفاکی اور بے دینی کی وجہ ان کو یہ سبق پڑھا رکھا ہے کہ حدیث میں ہے:دع مایریبک الی مایریبک وان افتاک المفتون ۱؎۔کہ تجھے کسی چیز میں شک یا شبہ آجائے تو اس کو چھوڑ دے اگر چہ مفتی لوگ فتوٰی دیں

 (۱؎ المعجم الکبیر         مااسند واثلۃ بن اسقع    مطبوعہ المکتبہ الفصلیہ بیروت    ۲۲/۷۸)

(مجمع الزوائد        باب التورع عن الشہادت    مطبوعہ دالاتاب بیروت        ۱۰/ ۲۹۴)

تو تو اس کو نہ مان غرض اس کی اس بیان سے یہ ہے کہ میری نسبت اگر کوئی شخص فتوٰی طلب کرے تو اس فتوے کو قبول مت کرو اور چھوڑ دو اور اثنائے بیان میں یہ افتراء اہل اسلام پر مجلس وعظ میں کیا کہ بمبئی میں کوئی مکان یا کوئی گلی کوچہ ایسا نہ ہوگا کہ جس میں شبانہ روززنانہ ہوتا ہو۔ اب بتلائے کہ جس شخص کی ایسی حالت ہو کہ ڈھیلا نہ لیتا ہو معذور ہو نجس کپڑوں سے نماز پڑھاتا ہو، دروغ گو ہو، مفتری ہو اور مسلمانوں کو ٹھگنے والا فریبی ہو ذکر خیر سے مانع ہو، ایسے کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہیے ؟ اور جو اس کی حمایت کرے اس کا کیا حکم ہے اور ایسے کو اس منصب سے خارج کرنا چاہیے یانہیں ؟ اور اس حدیث دع ما یریبک الخ کا کیا مطب ہے ؟ جو ایسے مسئلے سے اپنی گھڑت لگا کر لوگوں کو گمراہ کرے اس کا کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا

الجواب

ہاں چند امور قابل لحاظ :

(۱) مرد کو پیشاب کے بعد استبراء کہ اثر بول منقطع ہوجانے پر اطمینان قلب حاصل ہوجائے فرض ہے یعنی عملی کہ واجب کی قسم اعلیٰ ہے جس کے بغیر عمل صحیح نہیں ہوتا ولہٰذا بعض نے فرض بعض نے واجب بعض نے لازم فرمایا کہ فرض و واجب دونوں کو شامل ہے، پھر اس میں طبائع مختلف ہیں، بعض کو وہ نم کہ سوراخ ذکر پربعدبول زائل ہوتے ہی اطمینان ہوجاتا ہے کہ اب کچھ نہ آئےگا ،بعض کو صرف دوتین بار کھنکھار نا کافی ہوتا ہے بعض کو ذکر کا دو یا ایک بار اوپر سے نیچے کو مل دینا اور بعض کو ٹہلنے کی حاجت ہوتی ہے دس قدم سے چار سو قدم تک بعض کو بائیں کروٹ پر لیٹنا ،بعض کو ران پر ران رکھ کر ذکر کو دبانہ ، غرض مختلف طریقے ہیں اور ہر شخص اور اس کی طبیعت ( مختلف ہوتی ہے)

درمختار میں ہے:یجب الاستبراء بمشی او تنحنح او نوم علی شقہ الایسر ویختلف بطبائع الناس۲؎۔بول کا اثر ختم کرنا لازم ہے خواہ پیدل چلنے ، خواہ کھنکھار نے یا بائیں جانب لیٹنے سے ہو اور لوگوں کی مختلف طبائع کی وجہ سے حکم مختلف ہو تا ہے ( یعنی کسی کو جلد پاکیزگی حاصل ہوتی ہے کسی کو دیر سے ) ۔(ت)

 (۲؎ درمختار  ،  فصل فی الاستنجاء     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی،  ۱/ ۵۷)

ردا لمحتار میں ہے :فی الغزنویۃالمرأۃ اکالرجل الا فی الاستبراء فانہ لا استبراء علیھا بل کما فرغت تصبر ساعۃ لطیفۃ ثم تستنجی ومثلہ فی الامداد وعبر بالوجوب تبعا للدرر وغیرھا وبعضھم عبر بانہ فرض وبعضھم بلفظ ینبغی وعلیہ فھو مندوب کما صرح بہ بعض الشا فعیۃ ومحلہ اذا امن خروج شیئ بعدہ فیند ب ذلک مبالغۃ فی الا ستبراء اوالمراد الا ستبراء بخصوص ھذہ الاشیاء من نحوالمشی والتنحنح اما نفس الا ستبراء حتی یطمئن قلبہ بزوال الرشح فھوفرض ، وھو المراد بالوجوب ولذا قال الشرنبلا لی یلزم الرجل الاستبراء حتی یزول اثرالبول ویطمئن قلبہ وقال عبرت باللزوم لکونہ اقوی من الواجب لان ھذا یفوت الجواز لفوتہ فلا یصح لہ الشروع فی الوضو، حتی یطمئن بزوال الرشح۱؎ اھغزنویہ میں ہے عورت مرد کی طرح ہے البتہ عورت پر استبراء لازم نہیں بلکہ جیسے ہی فارغ ہو تھوڑی دیر کے بعد استنجاء کرسکتی ہے۔ اس کی مثل امداد میں بھی ہے اس نے درر وغیرہ کی اتباع کرتے ہوئے لفظ وجوب سے تعبیر کیا ہے اور بعض لوگوں نے لفظ فرض بعض نے لفظ '' ینبغی'' اور'' علیہ'' سے تعبیر کیا ہے پس یہ مندوب ہے جیسا کہ بعض شوافع نے تصریح کی ہے اس کا محل یہ ہے کہ جب اس کے بعد کسی شئی کے خروج کا خوف نہ ہو تو یہ استبراء میں مبالغہ کے لئے مندوب ہے ، یا استبراء سے مراد یہ مخصوص اشیاء ہیں مثلاً چلنا اور کھنکارنا ، رہا نفس استبراء یہاں تک کہ قطروں کے زائل ہونے کے ساتھ دل مطمئن ہوجائے تووہ فرض ہے اور وجوب سے بھی یہی مراد ہے اس لئے شرنبلالی نے کہا آدمی پر استبراء لازم ہے یہاں تک کہ بول کا اثرزائل ہو جائے اور دل مطمئن ہوجائے اور کہا کہ میں نے اسے لفظ ''لزوم'' کے ساتھ اس لئے تعبیر کیا کہ یہ واجب سے اقوٰی ہے کیونکہ اس کے فوت ہونے سے جواز فوت ہوجاتا ہے پس نمازی کے لئے وضو میں شروع ہونا اس وقت تک درست نہیں جب تک کہ پیشاب کی چھینٹو ں کے زائل ہونے سے دل مطمئن نہ ہوجائے(ت)

 (۱؎ ردالمحتار    فصل الاستنجاء        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۲۵۳)

زید اگر ایسا ہوکہ وہیں بیٹھے بیٹھے کھنکھارنے یا ملنے سے اسے اطمینان صحیح ہوجاتا ہو اوربعد استبراء صرف پانی سے استنجاء کرے جب تو یہ فرض ادا اور وضو صحیح ہوجاتا ہے اور اگر مثلاً ٹہلنا وغیرہ اسے درکار ہے بے اسے ادا کئے پانی سے دھولیتا ہے تو فرض کا تارک ہے اور اسی حالت میں وضو کرے تو وضو ناجائز اور اس کی نماز باطل امامت تو دوسری چیز ہے تو حالت زید مشکوک ہوئی بلکہ دریافت کرنے پر اس کا یہ نہ بتانا کہ مجھے جتنے خفیف استبراء کی حاجت ہے کر لیتا ہوں زیادہ کی ضرورت نہیں بلکہ اپنی معذوری کا عذر پیش کرنا اس کی حالت کو مشتبہ تر کر تا ہے اور وہ خود حدیث پڑھ چکا ہے کہ شبہ کی بات چھوڑو اگر چہ لوگ کچھ فتوٰی دیں تو اس نے خود مان لیا کہ مسلمانوں کو اس امامت سے احتراز کا حکم ہے اور اگر کوئی مفتی اس کی امامت پر فتوٰی بھی دے تو نہ مانا جائے

(۲) یہاں تک تو اس کی امامت صرف مشتبہ ٹھہری اور خود اس کی پڑھی ہوئی حدیث سے اس کے چھوڑنے کا حکم ہوا مگر اگلا بیان صراحۃً اس کی امامت کو باطل محض کررہا ہے اوروہ اپنے آپ کو ڈھیلا لینے سے معذور بتاتا ہے اور عادت کوئی عذر ڈھیلا لینے سے مانع نہیں مگر یہ کہ محل استنجاء پر زخم ہو یا دانے پکے یا پکنے پر ہیں جن میں ریم ہے ان کے سبب ڈھیلے کی رگڑ کی تاب نہیں زخم کی حالت تو ظاہر تھی کہ اس سے نہ وضو رہتا نہ کپڑے پاک ،دانوں میں احتمال تھا کہ شاید ابھی آب وریم نہ دیتے ہوں مگر اس کا کہنا کہ لنگوٹ بھی بوجہ عذر کے باندھتا ہوں مگر نماز کے وقت صرف کپڑے بدل لیتا ہوں صاف دلیل روشن ہے کہ وہ دانے آب وریم دیتے ہیں اور اتنا جس سے ہر وقت کپڑا نجس ہوتا ہے جب تو نماز کے وقت اسے کپڑے بدلنے کی ضرورت پڑتی ہے تو اب کھل گیا کہ وہ معذور شرعی ہے اور معذور کی امامت غیرمعزوروں کے لئے یقینا باطل محض ہے

کما نص علیہ فی الکتب کلھا( جیساکہ تمام کتب میںاس پر تصریح موجود ہے ۔ت)

 (۳)اس شنا عت کبریٰ کے بعد باقی امور کی طرف توجہ کی زیادہ حاجت نہیں ورنہ اس میں اور بھی وجوہ ہیں جن پر شرع مطہر اسے امام بنانے سے منع فرماتی ہے مثلاً فاحشہ عورتوں سے خلا ملا مزاح تمسخر۔ اشباہ وغیر ہامیں ہے :الخلوۃ بالا جنبیۃ ۱؎ حرام ( اجنبی عورت کے ساتھ خلوت ( یعنی تنہائی میں ملنا) حرام ہے ۔ت) تو یہ حرم کا مرتکب پھر اس پرمصر پھر اس میں مشتہر ہے توفاسق معلن ہے اور فاسق معلن کاامام بناناگناہ۔

فتاوی حجہ وغنیہ میں ہےلوقدموا فاسقا یأثمون۲؎ ( اگر لوگوں نے فاسق کو مقدم کیا تو وہ گنہ گار ہوں گے۔ت)

 (۱؎ الاشباہ ولانظائر   کتاب الحظرہ والاباحۃ        مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی     ۲/۱۱۱/۵۱۲)

(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الامامۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور            ص ۵۱۳)

تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے:لان فی تقد یمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا۳؎۔کیونکہ امامت کے لئے اس کو مقدم کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعاً اس کی اہانت لازم ہے (ت)

 (۳؎ تبیین الحقائق  باب الامامۃ والحدث فی الصلوٰۃ  مطبوعہ المطبعۃ الکبریٰ الامیر یہ بولاق مصر        ۱/۱۳۴)

اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی

کما فی الغنیۃ وغیرھا واقرہ فی ردالمحتار(غنیۃ وغیرہ میں اسی طرح ہے اور ردالمحتار میں اس کو ثابت رکھا ہے ۔ت) تو جتنی نماز اس کے پیچھے اس حالت میں پڑھیں ہوں سب مقتد یوں پر ان سب کا پھیرنا واجب اگر نہ پھیریں گے گنہگار رہیں گے اگر چہ دس برس کی نمازیں ہوں

کما حکم کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم ۱؎۔کما فی الدرمختار وغیرہ ( جیسا کہ کہ کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہر نماز کا حکم ہے ، درمختار میں ہے)

 (۱؎ درمختار        باب صفۃ الصلٰوۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۷۱)

 (۴) مقتدیوں کا اس کے عیوب کے باعث اس کی امامت سے ناراض ہونا ایسے کی نماز اس کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی یعنی آسمانوں پر جانا اور بارگاہ عزت میں حاضر ہونا توبڑی بات ہے وہیں کی وہیں پرانے چیتھڑے کی طرح لپیٹ کر اس کے منہ پر ماردی جاتی ہے اور اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔رسول اﷲ صلیٰ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:ثلثۃ لاترفع صلاتھم فوق رؤسھم شبرا رجل ام قوما وھم لہ کارھون وامراۃ باتت وزوجھا علیھا ساخط واخوان متصارمان۲؎ رواہ ابن ماجۃ وابن حبان عن ابن عباس رضی اﷲ عنھا بسند حسن۔تین آدمیوں کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت برابر اوپر نہیں اٹھائی جاتی ، ایک(۱) وہ شخص جو قوم کا امام بنے مگر لوگ اسے پسند نہ کرتے ہوں ۔ ایک (۲) وہ وعورت جو اس حال میں رات بسر کرے کہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو۔ اور (۳) دو بھائی جو آپس میں جھگڑا کرنے والے ہوں اس کو ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔

 (۲؎ سنن ابن ماجہ  باب من ام قوماً وہم لہ کارھون      مطبوعہ ۤافتاب عالم پریس لاہور    ص ـ ۶۹)

دوسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:ثلثۃ لا یقبل اﷲ منھم صلاۃ من تقدم قوما وھم لہ کارھون ، ورجل اتی الصلوٰۃ دبارا والد بار ان یاتیھا بعد ان تفوتہ ورجل اعتبد محررا۔۱؎ رواہ ابوداؤ و ابن ماجۃ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما۔تین اشخاص کی نماز اﷲ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا ایک وہ شخص جو قوم کا امام بنا حالانکہ لوگ اسے پسند نہ کرتے ہوں ۔ دوسرا وہ شخص جو نماز کی طرف ( جماعت کے) فوت ہونے کے بعد یا نماز کا وقت فوت ہونے کے بعد آئے تیسرا وہ شخص جو آزاد کو غلام بنائے۔ اسے ابو داؤد اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے ۔ (ت)

 (۱؎ سنن ابو داؤد    باب الرجل یوم وہم لہ کارھون        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۸۸)

(سنن ابن ماجہ    باب من ام قوماً وہم لہ کارھون          مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ص ۶۹)

تیسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ رتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:ایما رجلا ام قوما وھم کرھون لم تجز صلاتہ اذنہ ۲؎ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن طلحۃ ابن عبیدا ﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ۔جو شخص بھی قوم کا امام بنے حالانکہ وہ اسے نا پسند کرتے ہوں تو اس کی نماز کانوں سے اوپر نہیں جاتی اسے طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے (ت)

 (۲؎ المعجم الکبیر ، ما اسند طلحۃ بن عبیداﷲ حدیث ۲۱۰،  مطبوعہ مکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ، ۱/۱۱۵)

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article امام نےاپنی زانی بیوی کو طلاق دی اسکی امامت کیسی وہابی المذیب جو سنی بنتا ہو اسے امام بنانا کیسا ہے؟ Next article
Rating 2.71/5
Rating: 2.7/5 (285 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu