• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > امام کا مسجد پر حق وراثت جمانا کیسا ہے؟

امام کا مسجد پر حق وراثت جمانا کیسا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/7/29 (970 reads)

New Page 1

مسئلہ ۷۲۱: از باندی کوئی مرسلہ منشی عبدالرحمن ملازم ڈاک سفری ۸شعبان ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علماتے دین اس مسئلہ میں کہ زید بسبب ہونے حافظ قرآن ایک مسجد میں بخدمت پیش امامی وبرائے تعلیم قرآن طفلان اہل اسلام سنت وجماعت کے مقرر کیا گیا چند عرصہ بعد تک بظاہر کسی قسم کا فرق نہ معلوم، ہونے سے ایک گروہ جاہلوں کے معتقد ومطیع زید ہوگئے ۔ جب زید دو تین لڑکوں کا حافظہ ختم کراچکا اور اپنا رسوخ پورا پورا جما چکا تو اپنے منصب امامت پر فخر کرنے لگا اور مسجد کو اپنی میراث جان کر کہنے لگا کہ مجھ کو اس مسجد سے کوئی ہٹانہیں سکتا ، غرض زید کا ایک شاگرد رشید بکر نامی جس کا حافظہ ختم ہوچکا تھا اس کی شادی ہوجانے کے بعد اس کے والد نے زید ہی کو زوجہ بکر کی تعلیم قرآن کے لئے مقرر کیا چند ہی عرصہ میں انگشت نمائی ہونے لگی یہاں تک کہ برسوں کے بعد معاملہ طول ہو کر ظاہر ہوا تو بکر سے طلاق دلایاگیا اور زید نے مطلقہ کو خود نکاح میں لاکر فخر یہ کہتا ہے اب تو موافق شرع کے حرام نہیں ہے چونکہ عورت جو ان زید سن رسیدہ تھا زید کے دباؤ میں نہ رہ کر آزادانہ روش اختیار کرکے پردہ بھی بالا ئے طاق رکھا اور زید کے جو جو ان پرانے شاگرد تھے ان سے خلا ملا رہنے لگا ، چونکہ زید دیکھنے والا نواب صدیق حسن بھوپالی کا ہے ہر موقع پر حق کو ناحق اور ناحق کو حق بتا کر جاہلوں کی سیدھا کرلیا کرتا تھا اس پر تھوڑے لوگ حق شناس تھے ان سے الگ رہنے لگا اس کے درمیان ایک لڑکا ولد الزنا پیدا ہوا اس کا عقیقہ کیا گیا یہی زید پیش امام صاحب شریک عقیقہ ہو کر بکرے کی کھال کی غرض سے خوب پلاؤ پر ہاتھ مارکر پکارنے لگے کہ عقیقہ کھاناجائز تھا ہرگز حرام نہیں جب اس پر بھی لوگ ان کی پیش امامی پر معترض ہوئے تو خودہی زید صاحب غیظ وغضب میں آکر چلاّ اٹھے کہ پیش امامی کرنے پر لعنت ہے میں تو ہرگز نماز نہیں پڑھاؤں گا جو مجھ پر اعتراض کرتے ہیں وہی پڑھائیں قہر درویش برجان درویش ایک ہفتہ تک نماز پڑھانے سے رکے رہے آخر جھک مارکر خود ہی نماز پڑھانے لگے اور لوگوں نے نماز پڑھی، پس ان سب باتوں پر نظر ڈالتے ہوئے معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟

الجواب: اگر چہ لوگوں کی انگشت نمائی کا اعتبارنہیں اکثر محض باطل بدگمانی پر ہوتی ہے مگر زید کا بعد نکاح کہنا اب تو حرام نہیں ظاہراً اس پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے حرام تھا تو یہ اقرار حرام ہوا ، اگر چہ یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کے پہلے تم مجھ پر ناحق بدگمانی حرام کرتے تھے اب تو حرام نہیں۔ زن زید کی نسبت جو لکھا گیا ہے اگر برضائے زید ہے یا زید بقدر قدرت بندوبست نہیں کرتا تو دیوث ہے اور دیّوث سخت اخبث فاسق ، اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ۔ اسے امام بنانا حلال نہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ ،اور پڑھی تو پھیرنا واجب ، سائل نے کچھ نہ لکھا کہ زنا سے لڑکا کس کے پیدا ہوا ، اگر کسی دوسرے کے یہاں کایہ واقعہ ہے اور وہ عورت شوہردار ہے ، شوہر نے اسے اپنا بچہ ٹھہراکر عقیقہ کیا توبیشک اس میں کوئی حرج نہ تھا، نہ اس کے کھانے میں کوئی حرج ۔

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:الولد للفراش وللعاھر الحجر۱؎۔صاحب نکاح کیلئے ولد (نسب) اور زانی کےلئے پتھر ہے (ت)

 (۱؎ صحیح مسلم        باب الولد للفراش        مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱/۴۷۰)

اور اگر عورت بے شوہر تھی اور اس نے عقیقہ کیا تو ازانجا کہ اس سے نسب قطعاً ثابت ہے اور نسب فی نفسہٖ نعمت ہے

جعلہ نسبا وصھرا۲ ؎

 ( اﷲ تعالیٰ نے آدمی کےلئے رشتے اور سسرال بنائے)

( ۲ ؎ القرآن ،   ۲۵/۵۴)

اگر چہ جہت سبب سے یہ صورت سخت بلا ہے، اس عقیقہ کی تحریم یا اس کے کھانے کی حرمت ظاہر نہیں ہوتی خصوصاً جبکہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ شراب پینے پر بسم اﷲ کہے توکافر ہے اور پی کر الحمداﷲ کہے تو نہیں کہ شراب اگر چہ بلا ہے مگر اس کا حلق سے اتر جانا اور اسی وقت گلے میں پھنس کر دم نہ نکال دینا، اس شدید عصیان کی حالت میں رب عزوجل کی نعمت ہے۔

فصول عمادی و فتاوی ہندیہ میں ہے:من اکل طعاماحراما وقال عند الاکل بسم اﷲ حکم الامام المعروف بمشتملی ( ھندیہ) انہ یکفر ولوقال عند الفراغ الحمدﷲ قال بعض المتاخرین لایکفر ۳جس نے حرام کھایا اور کھانے کے وقت ''بسم اﷲ ''پڑھی امام معروف مشتملی( ہندیہ) نے کہا کہ وہ کافر ہے اور فراغت کے بعد اگر ''الحمد ﷲ'' کہا تو بعض متاخرین نے کہا کہ اس سے وہ کافر نہیں ہوگا۔ (ت)

 (۳؎ فتاوی ہندیہ    الباب التاسع فی احکام المرتدین         مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/۲۷۳؎۔)

البتہ اگرزانی نے عقیقہ کیا تو وجہ نعمت اصلاً منتفی ہے پھر بھی زنا پر شکر اس سے مفہوم نہیں ہوتا بلکہ بہت جہال یہ جانتے بھی نہیں کہ عقیقہ سے شکر مقصود ہے ایک رسم سمجھ کر کرتے ہیں اس صورت میں شرکت اور اس کا کھانا ضرور معیوب و شینع تھا۔ امامت پر لعنت توصریح کفر ہے مگر اس سے یہ مقصود ہوسکتا ہے کہ اگر یہ شخص امامت کرے تو اس شخص پر لعنت ہے یہ کیا تھوڑا ناپاک لفظ ہے ، زید کی امامت نامناسب ، خصوصا اگر صدیق حسن خاں کے مذہب پر ہو کہ ان حالات میں ضرور بددین ہے اور اسے امام بنانا حرام ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم


Navigate through the articles
Previous article امام کی حرکتیں اچھی نہ ہوں اسکی امامت کا حکم؟ اپنے بیٹے کا دوسرا نکاح کرنے والے کے پیچھے نماز Next article
Rating 2.88/5
Rating: 2.9/5 (266 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu