• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > ناپسند امام کے باعث الگ جماعت کروانا کیسا

ناپسند امام کے باعث الگ جماعت کروانا کیسا

Published by Admin2 on 2012/7/29 (877 reads)

New Page 1

مسئلہ ۷۳۷: از شہر محلہ باغ احمد علی خاں مسئولہنیاز علی ۴ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ پانچ آدمی باوجود مسجد میں جماعت ہورہی ہے شامل نہیں ہوتے ،بعد ختم جماعت کثیر پانچوں آدمی علیحدہ جماعت پڑھتے ہیں یا مسجد میں پڑھنے آتے ہی نہیں۔ امام مسجد جو عرصہ سے امامت کررہا ہے اور اپنا عقیدہ ذیل بیان کرتا ہے اس کو وہ برا کہتے ہیں ایسے کے لئے کیا حکم ہے اور ان کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چاہے (عقیدہ پیش امام مسجد کایہ ہے )'' میں مذہب اہلسنت وجماعت پر عمل کرتا ہوں۔میرا یہی مذہب ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کا مقلد ہوں ،اﷲ عزوجل کی توحید اور جناب رسالتمآب صلی اﷲ علیہ وسلم کو بعد خدا کے تمام مخلوق سے افضل جانتا ہوں ،کرامات اولیاء و بزرگان دین کا قائل ہوں۔ ''ایسا امام اگر وہابی ( جو فی زمانہ مشہور کردئے گئے ہیں) کے مدرسہ میں پڑھنے کو چلا جائے اس کی امامت جائز ہے یا نہیں؟

الجواب: صورت مسئولہ میں پیش امام موصوف کی امامت بلاشبہ صحیح و درست ہے جب پیش امام اپنا حنفی ہونا بیان کرتا ہے اور عقیدہ مطابق اہلسنت وجماعت رکھنے کا مدعی ہے اور اس کے کسی قول وفعل سے اس کا خلاف ثابت نہیں ہوتا تو محض کسی وہا بی کے مدرسہ میں پڑھنا یا بالفرض کسی پاٹ شالہ یا اسکول میں تعلیم حاصل کرنا ہرگز صحت امامت کےلئے قادح نہیں ہو سکتا کیونکہ احکام شرعیہ کا مدار ظاہر پر ہے ہم شق قلب پر مامور نہیں ، وہ اشخاص جومختلف عن الجماعۃ ہیں اگر کوئی عذر شرعی رکھتے ہوں تو معذور رہیں گے اور اگر محض عصبیت ونفسانیت کی جہت سے شریک جماعت نہیں ہوتے تو وہ فاسق مردود الشہادۃ قابل تعزیز ہیں اہل محلہ کو ان سے سلام وکلام ترک کردینا چاہئے ۔ العبد المجیب محمد عبداﷲ کان اﷲ لہ ۔ صحیح ہے محمد منور العلی غفرلہ۔ الجواب صحیح محمد واحد نور عفی عنہ ۔

الجواب:یہ فتویٰ محض غلط ہے اس میں اصل بحث سے پہلو تہی کی گئی ہے اور بے علاقہ روایتیں محض فضول نقل کردیں اس پر انہی لوگوں کے دستخط ہیں جو خود دیوبندی خیال کے ہیں یا کم از کم دیوبندیوں کو کافر نہیں کہتے وہ تو ایسا کہا ہی چاہیں حالانکہ علمائے حرمین شریفین باتفاق فتویٰ دے چکے کہ گنگوہی ونانوتوی وانبیٹھی وتھانوی سب مرتد ہیں اور بحوالہ بزازیہ ومجمع الانہر ودُرمختار تحریر فرمایا ہے کہ جوان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ عقائد اہلسنت کا مدعی ہونا یا اپنے آپ کو حنفی کہنا یا توحید ورسالت وافضلیت وکرامت کا اپنے آپ کو قائل بتانا،ان میں سے کون سی بات کا وہابیہ ودیوبندیہ اقرار نہیں کرتے اور پھر کافر ہیں ایسے کہ جوان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کاف ،بلکہ چاروں باتوں کے مقرقادیانی تک ہیں اور اپنے آپ کو مقلدِ امام ابوحنیفہ بھی کہتے ہیں کیا اس سے ان کا کفر اُٹھ گیا۔ شریعت بیشک ظاہر پر حکم فرماتی ہے اور ظاہر یہی ہے کہ آدمی جسے کافر مرتد جا نے گا اس سے علم دین نہ پڑھے گا، پاٹ شالہ اور اسکول کی مثال جہالت ہے،کیا کوئی پنڈتوں ،پادریوں سے قرآن عظیم وحدیث و فقہ پڑھنے جاتا ہے اور بفرض غلط اگر وہابیہ سے پڑھنے والا عقائد وہابیہ کی طرف مائل نہ بھی ہو اور انھیں کافر مرتد جانتا ہو جب بھی انہیں استاد بنانا اُ ن کی تعظیم کرناتو ہے،اور ائمہ دین نے فرمایا جو کسی مجوسی کو تعظیماً''یا استاذ'' کہے وہ کافر ہوجاتا ہے،فتاویٰ ظہیریہ و اشباہ والنظائر و تنویر الابصار و منح الغفارودُرمختار وغیرہا میں ہے:

ولو قال لمجوسی یا استاذ تبجیلا کفر۱؎ (اگر کسی نے مجوسی کوتعظیماً ''یا استاذ'' کہا تو کافر ہوجائیگا ۔ت)

(۱؎ درمختار  ،  کتاب الحظر والا باحۃ    فصل فی البیع مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۲/۲۵۱)

جب صرف تعظیماً ''یا استاذ'' کہنے پر یہ حکم ہے تو مرتد حقیقۃً استاذ بنانا اور اقسامِ تعظیم بجالانا کیسا ہوگابلا شبہ ایسا شخص امام بنانے کے قابل نہیں جس کے دل میں دین کی عظمت ہے ہر گزاسے امام نہ بنائے گا نہ اس کے پیچھے نماز پڑھے گا ،ہاں جو شخص دین کوہنسی کھیل سمجھے وہ جو چاہے کرے ،اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت دے کہ اپنی نمازیں برباد نہ کریں ،ہم اس کی ایک آسان پہچان بتا دیتے ہیں اس فتویٰ میں جن جن لوگوں کے دستخظ ہیں ان سے سوال کرو کہ ''حسام الحرمین شریف'' میں تمام علمائے حرمین شریفین نے جن جن وہابیوں کونام بنام کافر و مرتد لکھا ہے اور فرمایا ہے جو ان کے کفر میں شک کرے وُہ بھی کافر،آیا تم لوگ بھی انھیں کافر و مرتد کہتے ہو، دیکھو ہر گز نہ کہیں گے، تو صاف معلوم ہوا کہ یہ بھی متہم ہیں تو ان سے فتوی لینا کس طرح حلال ہوا اور اس پر عمل کون سی شریعت نے جائز کیا۔واﷲ تعالیٰ اعلم


Navigate through the articles
Previous article حسد کرنے والے کی امامت کیسی ہے؟ مرزائیوں کی شادی میں شرکت کرنے والے امام کا حکم Next article
Rating 2.94/5
Rating: 2.9/5 (262 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu