• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > حلال خور مسلمان جماعت میں شامل ہو سکتا ہے؟

حلال خور مسلمان جماعت میں شامل ہو سکتا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/8/9 (1714 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ۸۷۰ : ازبلڈانہ ملک ابرار    مرسلہ شیخ فتح محمد صاحب حلال خور    ۱۹جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں مسلمان حلال خور جوپنج وقتہ نمازپڑھتاہو اس طرح پر کہ اپنے پیشہ سے فارغ ہوکر غسل کرکے طاہرکپڑے پہن کر مسجد میں جائے تو وہ شریک جماعت ہوسکتاہے یانہیں، اور اگرجماعت میں شریک ہو تو کیاپچھلی صف میں کھڑا ہو یا جہاں اس کو جگہ ملے یعنی اگلی صف میں بھی کھڑاہوسکتاہے اور اس طرف بعد نمازصبح وبعد نمازجمعہ نمازی آپس میں مصافحہ کرتے ہیں توکیا وہ بھی مسلمانوں سے مصافحہ اور مسجد کے لوٹوں سے وضو کرسکتاہے اور جو حلال خور اپنا پیشہ نہ کرتا ہو صرف جاروب کشی بازار وغیرہ کی کرتاہو اس کے واسطے شرع شریف کاکیاحکم ہے؟ ہردوصورتوں میں جو حکم شرع شریف کا ہو اس سے اطلاع بخشئے۔ بینواتوجروا

الجواب

بیشک شریک جماعت ہوسکتاہے اور بیشک سب سے مل کر کھڑا ہوگا اور بے شک صف اول یاثانی میں جہاں جگہ پائے گا قیام کرے گا، کوئی شخص بلاوجہ شرعی کسی کو مسجد میں آنے یاجماعت میں ملنے یا پہلی صف میں شامل ہونے سے ہرگزنہیں روک سکتا، اﷲ عزوجل فرماتاہے:ان المسٰجد ﷲ۱؎بیشک مسجدیں خاص اﷲ کے لئے ہیں۔

 (۱؎ القرآن    ۷۲ /۱۸)

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:العباد عباداﷲ ۲؎بندے سب اﷲ کے بندے ہیں۔

 (۲؎ مسند احمد بن حنبل    ازمسند الزبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ    مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۱ /۱۶۶)

جب بندے سب اﷲ کے، مسجدیں سب اﷲ کی، توپھرکوئی بندے کو مسجد کی کسی جگہ سے بے حکم الٰہی کیونکر روک سکتاہے۔ اﷲ عزوجل نے کہ ارشاد فرمایا:من اظلم ممن منع مسٰجد اﷲ ان یذکر فیھا اسمہ۳؎۔اس سے زیادہ ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کوروکے ان میں خداکانام لینے سے۔

(۳؎ القرآن    ۲ /۱۱۴)

اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے کہ بادشاہ حقیقی عزجلالہ کایہ عام دربار خاں صاحب، شیخ صاحب، مغل صاحب یا تجار زمیندار معافی دارہی کے لئے ہے کم قوم یاذلیل پیشہ والے نہ آنے پائیں، علماء جوترتیب صفوف لکھتے ہیں اس میں کہیں قوم یاپیشہ کی بھی خصوصیت ہے ہرگز نہیں، وہ مطلقاً فرماتے ہیں:

یصف الرجال ثم الصبیان ثم الخناثی ثم النساء۴؎۔یعنی صف باندھیں مردپھرلڑکے پھرخنثی پھر عورتیں۔

 (۴؎ درمختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱ /۸۴)

بیشک زبّال یعنی پاخانہ کمانے والا یاکناس یعنی جاروب کش مسلمان پاک بدن پاک لباس جبکہ مرد بالغ ہو تو وہ اگلی صف میں کھڑا ہوجائے گا اور خان صاحب اور شیخ صاحب مغل صاحب کے لڑکے پچھلی صف میں جو اس کا خلاف کرے گا حکم شرع کا عکس کرے گا شخص مذکور جس صف میں کھڑاہو اگر کوئی صاحب اسے ذلیل سمجھ کر اس سے بچ کر کھڑے ہوں گے کہ بیچ میں فاصلہ رہے وہ گنہگار ہوں گے اور اس وعید شدید کے مستحق کہ حضوراقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:من قطع صفا قطعہ اﷲ۵؎۔جو کسی صف کو قطع کرے اﷲ اسے کاٹ دے گا۔

 (۵؎ سنن ابوداؤد    باب تسویۃ الصفوف        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۷)

اور جو متواضع مسلمان صادق الایمان اپنے رب اکرم ونبی اعظم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاحکم بجالانے کو اس سے شانہ بشانہ خوب مل کر کھڑا ہوگا اﷲ عزوجل اس کا رتبہ بلند کرے گا اور وہ اس وعدہ جمیلہ کا مستحق ہوگا کہ حضورانورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:من وصل صفّا وصلہ اﷲ ۱؎۔جو کسی صف کو وصل کرے اﷲ اسے وصل فرمائے گا۔

 (۱؎ سنن ابوداؤد        باب تسویۃ الصفوف        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور        ۱ /۹۷)

دوسری جگہ ہمارے نبی کریم علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والتسلیم فرماتے ہیں:الناس بنواٰدم واٰدم من تراب۲؎۔ رواہ ابوداؤد والترمذی وحسنہ والبیھقی بسند حسن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔لوگ سب آدم کے بیٹے ہیں اور آدم مٹّی سے۔ اسے ابوداؤد وترمذی نے روایت کرکے حسن کہا اور بیہقی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔

 (۲؎ جامع الترمذی        سورہ الحجرات        مطبوعہامین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲ /۱۵۹)

دوسری حدیث میں ہے ، حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:یاایھا الناس ان ربکم واحد وان اباکم واحد ألا لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولالاحمر علی اسود ولالاسود علی احمد الا بالتقوی ان اکرمکم عنداﷲ اتقٰکم۳؎۔ رواہ البیہقی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔اے لوگو! بیشک تم سب کا رب ایک اور بیشک تم سب کا باپ ایک، سن لو کچھ بزرگی نہیں عربی کو عجمی پر، نہ عجمی کو عربی پر، نہ گورے کو کالے پر، نہ کالے کو گورے پر مگر پرہیزگاری سے، بیشک تم میں بڑے رتبے والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے اسے بیہقی نے حضرت جابربن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے۔

 (۳؎ شعب الایمان    فصل فی حفظ اللسان عن الفخربالابائ    حدیث ۵۱۳۷    مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت    ۴ /۲۸۹)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article امام کےساتھ ایک مقتدی ہوتواسےکس طرح پیچھےکھینچے نماز کے وقت موجود ہو مگر جماعت سے نہ پڑھے Next article
Rating 3.02/5
Rating: 3.0/5 (302 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu