• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > دو آدمیوں کی جماعت میں تیسرا شخص آئے تو کیا کریں؟

دو آدمیوں کی جماعت میں تیسرا شخص آئے تو کیا کریں؟

Published by Admin2 on 2012/8/9 (1080 reads)

New Page 1

مسئلہ ۸۷۲ : ازبنگالہ ضلع ڈھاکہ موضع چیتارچر    مرسلہ نواب عبدالواحدصاحب    ۱۰جمادی الاخری۱۳۲۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نے مع ایک مقتدی کے نماز شروع کی، بعد ایک رکعت کے دوسرااور ایک شخص آیاتواس صورت میں امام سامنے بڑھے گایاوہ شخص مقتدی کو پیچھے کی طرف کھینچے گا،اگرامام سامنے بڑھے توقبل اشارہ کے یابعد اشارہ کے،اگربعد اشارہ کے توقبل تکبیر تحریمہ کے اشارہ کرے گا یابعد،اگرقبل تکبیر تحریمہ کے اشارہ سے امام بڑھے گا یا مقتدی کو قبل تحریمہ کے وہ شخص اپنی جانب کھینچے گا تو اس صورت میں نماز فاسد ہوگی یانہیں؟

الجواب

جب امام کے ساتھ ایک مقتدی ہو اور دوسرا آئے توافضل یہ ہے کہ مقتدی پیچھے ہٹے،ہاں اگرمقتدی مسئلہ نہ جانتاہویاپیچھے ہٹنے کو جگہ نہیں تو ایسی صورت میں امام کوبڑھنا چاہئے کہ ایک کابڑھنادوکے ہٹنے سے آسان ہے پھر اگر(مقتدی) مسئلہ جانتاہو توجب کوئی دوسرا ملاچاہتاہے توخودہی پیچھے ہٹنا چاہئے خواہ امام خود ہی آگے بڑھ جائے ورنہ اس آنے والے شخص کو چاہئے کہ مقتدی کو اور وہ مسئلہ نہ جانتاہو تو امام کواشارہ کرے،انہیں مناسب ہے کہ معاً اشارہ کے ساتھ ہی حرکت نہ کریں کہ امتثال امرغیر کا شبہہ نہ ہو بلکہ ایک تامل خفیف کے بعد اپنی رائے سے اتباع حکم شرع وادائے سنت کے لئے،نہ اس کااشارہ ماننے کی نیت سے حرکت کریں،اس صورت میں برابر ہے کہ یہ آنے والا مقتدی نیت باندھ کر اشارہ کرے خواہ بلانیت کے بہرحال وہ اطاعت حکم شرع کریں گے،نہ اس کے حکم کی اطاعت اور جو جاہل اس کا حکم ماننے کی نیت کرے گا تو اس کاتکبیر تحریمہ کے بعداشارہ کرنا کیا نفع دے گا کہ امام یامقتدی کودوسرے مقتدی کاحکم ماننا کب جائز ہے، لقمہ قرأت میں یا افعال میں لینا کہ امام کو جائز ہے وہ بھی بحکم شرع ہے نہ کہ اطاعت حکم مقتدی جو اس کی نیت کرے گا اس کی نماز خود ہی فاسد ہوجائے گی اور جب وہ امام ہے تواس کے ساتھ سب کی جائے گی۔فی الدر المختار لوامتثل امرغیرہ فقیل لہ تقدم فتقدم اودخل فرجۃ الصف احد فوسع لہ فسدت بل یمکث ساعۃ ثم یتقدم برأیہ قہستانی معزیاللزاھدی۱؎ وفی ردالمحتار عن المنح لوجذبہ اٰخر فتاخرالاصح لاتفسد صلاتہ۱ھ۔درمختار میں ہے اگرنمازی نے کسی غیرنمازی کاحکم مان لیا مثلاً کہاگیا آگے ہو، وہ آگے ہوگیا یاکوئی صف کے اندرداخل ہوا اور نمازی نے اس کے لئے جگہ کشادہ کی تو نماز فاسد ہوجائے گی، بلکہ وہ ایک ساعۃ ٹھہرارہے پھراپنی رائے سے آگے ہوجائے، قہستانی نے زاہدی کے حوالے سے یہی بیان کیاہے، ردالمحتار میں منح کے حوالے سے ہے اگرنمازی کو دوسرے نے کھینچا اور وہ پیچھے ہوگیا تواصح مذہب پر اس کی نماز فاسد نہ ہوگی ۱ھ

 (۱؎ درمختار    باب مایفسد الصلاۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۸۹)

وعن الشرنبلالی فی تیسرالمقاصد ان امتثالہ انماھولامررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلایضر۱ھ وعن الطحطاوی لوقیل بالتفصیل بین کونہ امتثل امرالشارع فلاتفسدوبین کونہ امتثل امرالداخل مراعاۃ لخاطرہ من غیرنظر لامرالشارع فتفسد لکان حسنا۱؎۱ھ۔ رأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول وھو من الحسن بمکان بل ھوالمحمل لکلمات العلماء و بہ یحصل التوفیق وباﷲ التوفیق۲؎

 (۱؎ ردالمحتار        باب الامامت     ۱ /۴۲۲)

(۲؎ جدالممتار علٰی ردالمحتار        ۱ /۲۷۳)

شرنبلالی سے ہے تیسرالمقاصد کے حوالہ سے ہے کہ اس کا امتثال (حکم بجالانا) حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حکم کی بناپر ہے لہٰذا فساد کا سبب نہیں اہ۔ اور طحطاوی سے ہے کہ اگرتفصیل کرتے ہوئے کہا جائے کہ شارع کے حکم پرعمل کرتے ہوئے کسی کا حکم بجالایا تونماز فاسد نہ ہوگی اور اگروہ بغیر رعایت امرشارع کے فقط آنے والے نمازی کوخوش کرنے کے لئے کرتاہے تو نماز فاسد ہوجائے گی تویہ تفصیل کرنانہایت ہی اچھا تھا۱ھ مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے یہاں یہ لکھا ہے اقول (میں کہتاہوں) یہ صرف حسن ہی نہیں بلکہ کلمات علماء کامحمل بھی ہے اور اسی کے ساتھ ان میں موافقت بھی پیداہوجائے گی اور اﷲ ہی اس کی توفیق دینے والا ہے۔وفی الھندیۃ رجلان صلیا فی الصحراء وائتم احدھمابالاخروقام عن یمین الامام فجاء ثالث وجذب المؤتم الی نفسہ قبل ان یکبر للأفتتاح حکی عن الشیخ الامام ابی بکر طرخان انہ لاتفسدصلاۃ المؤتم جذبہ الثالث الی نفسہ قبل الکتبیر اوبعدہ کذا فی المحیط وفی الفتاوی العتابیۃ ھو الصحیح کذا فی التاتارخانیۃ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

فتاوٰی ہندیہ میں ہے دوآدمیوں نے صحرا میں نماز ادا کی ایک نے دوسرے کی اقتدا کی اور امام کے دائیں طرف کھڑا ہوگیا اب تیسراآیا تو اس نے مقتدی کو تکبیر افتتاح سے پہلے اپنی طرف کھینچ لیا، تو امام ابوبکر طرخان سے منقول ہے کہ اس صورت میں مقتدی کی نماز فاسد نہ ہوگی خواہ اسے تیسرا شخص تکبیر سے پہلے کھینچے یابعد میں، اسی طرح محیط میں ہے۔ فتاوٰی عتابیہ میں ہے کہ یہی صحیح ہے اور تاتارخانیہ میں بھی اسی طرح ہے، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ     الفصل الخامس فی بیان مقام الامام الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۸۸)


Navigate through the articles
Previous article امام انتظارکا کہہ جائے اور دوسرا جماعت کرادے تو امام کا مصلیٰ مقتدیوں کی صف سے ملا ہویا الگ؟ Next article
Rating 2.97/5
Rating: 3.0/5 (291 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu