• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > دوسری بار جماعت میں شامل ہونا کیسا ہے؟

دوسری بار جماعت میں شامل ہونا کیسا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/8/12 (2606 reads)
Page:
(1) 2 3 4 »

New Page 1

مسئلہ ۸۸۴: ازکان پور نئی سڑک مسئولہ حاجی فہیم بخش صاحب عرف چھٹن    ۱۳صفر ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین زید اور عمرو کے بارے میں، دونوں حنفیت کادعوٰی کرتے ہیں اور ترجمہ حدیث یزید بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاجوبابمن صلی الصلاۃ مرتین (جس نے نماز دوبارپڑھی۔ت)

میں ہے حسب ذیل کرتے ہیں زید آخری حصہ حدیث:

اذا جئت الصلٰوۃ فوجدت الناس فصل معھم وان کنت قدصلیت کن لک نافلۃ وھذہ مکتوبۃ۱؎۔جب تو نماز کے لئے آیا تو لوگوں کو نماز اداکرتے پایا تو ان کے ساتھ نماز میں شامل ہوجا اگر تونماز پڑھ چکا تو وہ نفلی ہوگی اور یہ فرضی ہوگی۔(ت)

 (۱؎ سنن ابوداؤد    باب من صلی فی منزلہ الخ        آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۸۵)

کاترجمہ یہ کرتاہے کہ پہلی نماز جو گھر میں پڑھی گئی ہو نفل ہوگی اور جوجماعت کے ساتھ پڑھی جائے وہ فرض ہوجائے گی دلیل یہ ہے:وان کانت قدصلیت تکن لک نافلۃمیں آیاکرتاہے اس کے بعد مستقل جملہ اور کلام مستانف ہواکرتاہے یہاں ایسا نہیں ، عمرو کہتاہے کہ زیدکا یہ ترجمہ مذہب حنفی کے موافق نہیں بلکہ مخالف ہے، عمرو آخری حصہ حدیث مندرجہ بالا کاترجمہ یوں کرتاہے کہ گھروالی نماز جوپہلے پڑھی ہے وہ فرض ہوگی اور جو بعد میں جماعت سے پڑھی ہے وہ نفل ہوگی، اس وجہ سے کہ ان وصلیہ ہے، دلیل یہ ہے کہ وان کنت قدصلیت میں اول واؤ داخل ہے دوسرے کنت موجود ہے جوماضی کے لئے مخصوص ہے اور قد تحقیق ماضی کے لئے نیز ھذہ اسم اشارہ قریب ذکری کے لئے ہے پس قدصلیت سے جوصلوٰۃ مدلول ہے وہ مشارٌ الیہ ہے اور یہ پہلی ہی ہوگی وہ فرض ہوگی اور جوصلوٰۃ فصل معھم سے مدلول وہ بعیدذکراً ہے وہ مشارٌ الیہ نہیں اگرخود کنت ماضی کو شرط بنایاجائے تو تکن جزاء مرتب کون مخاطب پرنہیں ہے نیز فصل معھم امربھی جواب کوچاہتاہے اور شرط بھی جزا کو علٰی سبیل التسلیم تب بھی تکن لک نافلۃ جواب امر کا ہے جزا نہیں بوجہ مقدم ہونے امر کے جیسے جملہ قسمیہ جب مقدم ہو شرط پرتوجزا نہیں ہوتی بلکہ جواب قسم سے استغنا ہوجاتاہے ان دونوں قائلوں میں کون ساقائل راستی پر ہے نیز اوپربیان کی ہوئی دلیلیں قابل قبول ہیں یانہیں؟ زید و عمرو کی دلیلوں میں سے کس کی دلیلیں زیادہ صحت کے ساتھ مانی جاسکتی ہیں اور قبول کی جاسکتی ہیں؟ دیگرجونماز رکوع وسجود والی علاوہ مجرد عصرومغرب جماعت سے پڑھی یاپڑھائی ہو عام ہے کہ نماز عید وجمعہ ہی کیوں نہ ہو دوبارہ جماعت ملنے پرنفلاً تکرارنماز کرسکتاہے یانہیں؟ اگراوپر بیان کی ہوئی حدیث سے تکرار نماز پر اس طور سے کہ پہلے پڑھی ہوئی نماز فرض یاواجب اقتدا یاامامت کرکے دوسری جماعت دوسرے روز ملنے پرتکرار نماز کرسکتاہے اور وہ نفل ہوگی استدلال لایاجائے تو صحیح ہے یانہیں؟ بینوا توجروا رحمکم اﷲ تعالٰی۔

الجواب

زید کا قول غلط اور دلیل باطل

اولاً ان وصلیہ کاآخر کلام ہی میں آنا اور اس کے بعد جملہ اور وہ بھی کلام مستانف ہی ہوناسب باطل وبے اصل ہے وہ کلام واحد کے وسط اجزا میں آتاہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔قولہ تعالٰی ومااکثر الناس ولوحرصت بمؤمنین۱؎۔اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے اگرچہ آپ (ایمان پر) حریص ہیں مگر اکثرلوگ ایمان نہ لائیں گے۔(ت)

 (۱؎ القرآن    ۱۲ /۱۰۳)

رضی میں ہے:قدتدخل الواو علی ان المدلول علی جوابھابما تقدم ولاتدخل الاذاکان ضدالشرط اولی بذلک المقدم والظاھر ان الواو فی مثلہ اعتراضیۃ ونعنی بالجملۃ الاعتراضیۃ مایتوسط بین اجزاء الکلام متعلقا بمعنی مستانفا لفظا کقولہ ع:

تری کل من فیھا وحاشاک فانیاکقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ''انا سیّد ولد اٰدم ولافخر'' فتقول فی الاول زید وان کان غنیا بخیل وفی الثانی زید بخیل وان کان غنیا والاعتراضیۃ تفصل بین ایّ جزئین من الکلام کانا بلاتفصیل اذا لم یکن احدھما حرفا۲؎۱ھ مختصراکبھی واؤ اس لئے آتاہے کہ اس جواب کا مدلول سابقہ ہے یہ وہیں ہوگا جہاں ضد شرط اس مقدم کے زیادہ مناسب ہو اور ظاہر یہ ہے کہ ایسے مقام پر واؤ اعتراضی ہوتی ہے او رجملہ معترضہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اجزائے کلام کے درمیان ایسے کلمات آجائیں جومعنی ومفہوم کے اعتبار سے اس سے متعلق ہوں اور لفظاً اس سے جدا ہوں جیسے شاعر کا یہ مصرعہ ہے: وہ دنیا میں ہرچیز کوفانی جانتاہے اور تومحفوظ رہے۔

بعض اوقات تمام کلام کے بعد واؤ آتی ہے، مثلاً حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے: میں اولاد آدم کاسردار ہوں مگرفخرنہیں، پہلے کی مثال ''زید بخیل وان کان غنیا'' ہے، جملہ معترضہ بلاتفصیل کسی بھی کلام کے دوجزوں میں فصل پیدا کرتاہے بشرطیکہ دونوں میں سے کوئی جز حرف نہ ہو ۱ھ مختصراً (ت)

 (۲؎ شرح رضی مع الکافیۃ، بیان المضارع    مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲ /۵۸، ۲۵۷)

لاجرمصحیحین میں ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:مامن عبد قال لاالٰہ الا اﷲ ثم مات علی ذلک الادخل الجنّۃ وان زنی وان سرق وان زنی وان سرق وان زنی و ان سرق علی رغم انف ابی ذر۱؎۔جس بندے نے بھی لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کہا پھر اسی پرفوت ہوا وہ جنت میں داخل ہوگا اگرچہ اس نے زنا وچوری کی ہو، اگرچہ اس نے زنا وچوری کی، اگرچہ اس نے زناوچوری کی، ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔(ت)

 (۱؎ صحیح البخاری    کتاب اللباس باب الثیاب البیض    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲ /۸۶۷)

ثانیا حدیث کی بہتر تفسیر حدیث ہے امام مالک و احمد و نسائی نے محجن بن اورع دیلمی  رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:اذا جئت المسجد وکنت قدصلیت فاقیمت الصلاۃ فصل مع الناس و ان کنت قد صلیت۲؎۔جب تو مسجد میں آئے اور نماز پڑھ چکاتھا اور جماعت کھڑی ہوئی تو تو لوگوں کے ساتھ نمازپڑھ اگرچہ تو نماز پڑھ چکاتھا۔

 (۲؎ مؤطا امام مالک        اعادۃ الصلوٰۃ مع الامام    مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی        ص۱۱۵)

(مسند احمد بن حنبل        حدیث محجن الدیلمی        مطبوعہ دارالفکربیروت        ۴ /۳۴)

(سنن النسائی        اعادۃ الصلوٰۃ مع الجماعۃ    مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور        ۱ /۹۹)

یہاں یقینا وصلیہ ہے، مرقاۃ میں ہے: (فصل) ای نافلۃ لاقضاء ولااعادۃ (مع الناس وان) وصلیۃ ای ولو (کنت قدصلیت)۳؎۔ (تونماز پڑھ) یعنی نفل نماز نہ قضاء اور نہ اعادہ (لوگوں کے ساتھ اگرچہ) ''ان'' وصلیہ ہے یعنی اگرچہ (تونماز پڑھ چکا تھا)۔(ت)

 (۳؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثالث من باب من صلی صلوٰۃ مرتین مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان    ۳ /۱۰۶)

ثالثا صرف ''ان'' کاوصلیہ یاشرطیہ ہونا یہاں احد المعنیین کی تعیین نہیں کرتا تو اس میں بحث فضول اور اس سے استناد

نا مقبول مدارضمیر تکن کے مرجع اور ھذہ کے مشارالیہ پر ہے اگرضمیر ثانیہ کے لئے ہے اور اشارہ اولٰی کی طرف کہ وہی اقرب ذکراً ہے کما قالہ عمرو(جیسا کہ عمرو نے کہا۔ت) تو اولٰی فرض اور ثانیہ نفل ہوگی اگرچہ ''اِن'' شرطیہ ہو اور عکس ہے توعکس اگرچہ ''اِن'' وصلیہ ہو وھذا ظاھرجدا(اور یہ بہت واضح ہے۔ت) ۔ اشعہ اللمعات میں ہے:

(وان کنت قدصلیت) و اگرچہ ہستی تو کہ بتحقیق نماز گزارد (تکن لک نافلۃ) باشد نمازیکہ دوم بارمیکنی بامردم نفل مرترا (وھذہ مکتوبۃ) وباشد ایں نماز کہ نخست گزاردہ فرض وایں معنی موافق است بظاہر احادیث کہ دلالت داردبربودن نمازدوم نفل ازجہت سقوط ذمہ بادائے اولٰی۱؎۔

(وان کنت قدصلیت) اگرچہ تونے نماز اداکرلی ہو(تکن لک نافلۃ) دوسری دفعہ لوگوں کے ساتھ جو تونے نماز پڑھی وہ تیری نفل نماز ہوگی (وھذہ مکتوبۃ) اور جوتونے پہلے پڑھی وہ فرض نماز ہوگی اور یہ معنی ومفہوم ان ظاہر احادیث کے موافق ہے جو اس بات پر دال ہے کہ دوسری نماز نفل ہوگی کیونکہ فرضی نماز پہلی نماز اداکرنے سے ساقط ہوگئی ۔(ت)

 (۱؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ الفصل الثالث من باب من صلی صلوٰۃ مرتین مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۴۹۵)

پھر طیبی شافعی سے دوسرے معنی نقل کئے، دیکھو اِنْ شرطیہ لیا اور نماز دوم کو نافلہ قراردیا، مرقاۃ میں ہے:

 (فصل معھم وان کنت قدصلیت) لیحصل لک ثواب الجماعۃ وزیادۃ النافلۃ (تکن) ای صلاتک الاولی (لک نافلۃ وھذہ) ای التی صلیتھا الاٰن قیل ویحتمل العکس (مکتوبۃ۲؎) (لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ اگرچہ تونماز پڑھ چکا ہو) تاکہ تجھے جماعت کاثواب اور نوافل میں اضافہ حاصل ہوجائے، یعنی تیری پہلی نماز(تیرے لئے نفل اور یہ) یعنی وہ نماز جوتونے ابھی پڑھی، بعض محدثین نے فرمایا کہ معاملہ میں اس کے عکس کا احتمال ہے(تیرے لئے فرض)۔

 (۲؎ مرقاہ شرح مشکوٰۃ الفصل الثالث من باب من صلی صلوٰۃ مرتین مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان   ۳ /۱۰۷۹)

Page:
(1) 2 3 4 »

Navigate through the articles
Previous article اونچی آواز میں آمین کہنا کیادرست ہے؟ احتیاطا قربانی ایک روز لیٹ کرنے والے کے بارے حکم Next article
Rating 2.77/5
Rating: 2.8/5 (302 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu