• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > مقتدیوں سے آگے جگہ نہ ہو توامام کہاں کھڑا ہو

مقتدیوں سے آگے جگہ نہ ہو توامام کہاں کھڑا ہو

Published by Admin2 on 2012/8/14 (954 reads)

New Page 1

مسئلہ ۹۲۳: ازچاند پارہ ڈاک خانہ شہرت گنج ضلع بستی مسؤلہ محمدیار علی نائب مدرس ٹریننگ اسکول۱۸/ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرامام کو مقتدی کی صف کے آگے کھڑاہونے کی جگہ نہیں ہے تو امام صف مقتدی میں کس صورت سے کھڑا ہو، آیا امام مقتدی سے کچھ امتیاز کے واسطے آگے کھڑا ہو یامقتدی امام کی دونوں جانب یعنی دہنی بائیں امام کے پیر کے برابرکھڑے ہوں؟ بینواتوجروا

الجواب

جب صرف ایک مقتدی ہو تو سنت یہی ہے کہ وہ امام کے برابر دا ہنی طرف کھڑا ہو مگر اس کا لحاظ فرض ہے کہ قیام، قعود، رکوع، سجود کسی حالت میں اس کے پاؤں کاگِٹّا امام کے گِٹّے سے آگے نہ بڑھے۔ اسی احتیاط کے لئے امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ یہ فرماتے ہیں کہ یہ اپنا پنجہ امام کی ایڑی کے برابررکھے، اور اگردومقتدی ہوں تواگرچہ سنت یہی ہے کہ پیچھے کھڑے ہوں، پھر بھی اگرامام کے دہنے بائیں برابر کھڑے ہوجائیں گے حرج نہیں مگردو سے زیادہ مقتدیوں کاامام کے برابرکھڑا ہونا یاامام کاصف سے کچھ آگے بڑھا ہونا کہ صف کی قدر جگہ نہ چھوٹے یہ ناجائز وگناہ ہے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی، اگرمقتدیوں کی کثرت اور جگہ کی قلت ہے باہم صفوں میں فاصلہ کم چھوڑیں پچھلی صف اگلی صف کی پشت پرسجدہ کرے اور امام کے لئے جگہ بقدرضرورت پوری چھوڑیں اور اگر اب بھی امام کو جگہ ملنا ممکن نہ ہو نہ ان میں کچھ لوگ دوسری جگہ نماز کوجاسکیں مثلاً معاذاﷲ کسی ایسی کوٹھڑی میں محبوس ہیں جس کاعرض جانب قبلہ گزسواگز ہے تویہ صورت مجبوری محض ہے اس میں قواعد شرع سے ظاہر یہ ہے کہ جماعت کریں امام بیچ میں کھڑا ہو پھر تنہاتنہا اس کااعادہ کریں جماعت اقامت اشعار کے لئے او ر اعادہ رفع خلل کے واسطے۔ درمختار میں ہے:کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھ ۱؎ ۔جونماز کراہت تحریمی کے ساتھ اداکی گئی ہو اس کا اعادہ واجب ہے۔(ت)

 (۱؎ درمختار    باب صفۃ الصلوٰۃ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۷۱)

اسی میں ہے:لوتوسط اثنین کرہ تنزیھا وتحریما لواکثر ۲؎۱ھاگرامام دومقتدیوں کے درمیان کھڑاہوا تو یہ مکروہ تنزیہی ہے اگردو سے زیادہ مقتدی ہوں تو مکروہ تحریمی۱ھ

 (۲؎ درمختار    باب الامامۃمطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۸۳)

ولایقال الجماعۃ واجبۃ بل قیل سنۃ موکدۃ وکراھۃ التحریم فی جانب النھی کالوجوب فی جانب الامر، والاجتناب عن المناھی اھم من ایتان الاوامر، فی الحدیث لترک ذرۃ مما نھی اﷲ خیرمن عبادۃ الثقلین، لانانقول اقامۃ الشعار اھم من کل شیئ حتی اباحوا للختان ولیس الاسنۃ صریح المحرمات من النظر والمس قیل فی الھندیۃ عن العتابیۃ فی ختان الکبیر اذا امکن ان یختن نفسہ فعل والالم یفعل الا ان یمکنہ ان یتزوج اویشتری ختانۃ فتختنہ وذکر الکرخی فی الجامع الصغیر ویختنہ الحمامی ۱؎۔یہ نہ کہاجائے کہ جماعت واجب ہے بلکہ اسے سنت مؤکدہ کہاگیاہے اور جانب نہی میں کراہت تحریمی، جانب امر میں وجوب کی طرح ہے اور مناہی سے اجتناب اوامر پرعمل سے اہم ہے۔ حدیث شریف میں ہے: اﷲ تعالٰی کے منع کردہ ایک ذرہ کاچھوڑدینا تمام جن وانس کی عبادت سے افضل ہے۔ کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ شعار کی اقامت ہرشے سے اہم ہے حتی کہ علمانے ختان کے لئے صریح محرمات پرنظرمس کومباح قراردیا حالانکہ ختنہ صرف سنت ہے۔ فتاوٰی ہندیہ میں عتابیہ کے حوالے سے کبیر کے ختنے کے بارے میں کہاگیا ہے کہ اگراس کیلئے اپنا ختنہ کرناممکن ہو توخود کرے ورنہ نہ کرے مگر اس صورت میں کہ جب اس کے لئے شادی ممکن ہو یا ایسی لونڈی خریدناممکن ہو جو اس کاختنہ کردے تو ایسا ہی کرے۔ امام کرخی نے جامع صغیرمیں فرمایا اس کا ختنہ حجام کردے۔

 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    الباب التاسع عشرفی الختان الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور        ۵ /۳۵۷)

اقول ویؤیدہ ماعن الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم انھم کانوا لایختنون اولادھم الابعد البلوغ وقال فی الدر وقتہ غیرمعلوم وقیل سبع سنین کذا فی الملتقی وقیل عشر وقیل اقصاہ اثنتا عشرۃ سنۃ ۲؎

اقول(میں کہتاہوں) اس کی تائید صحابہ کرام رضوا ن اﷲ علیہ اجمعین کے اس عمل سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کاختنہ بلوغت کے بعد کرتے تھے۔ درمختار میں ہے کہ ختنہ کاوقت مقرر نہیں، بعض نے سات سال، بعض نے دس سال، اور بعض نے کہا ہے کہ آخری وقت بارہواں سال ہے۔

 ( ۲؎ردالمحتار        مسائل شتّی             مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۲ /۳۴۹)

زاد الشامی عن الطحطاوی وقیل لایختن حتی یبلغ لانہ للطھارۃ ولاتجب علیہ قبلہ۳؎

شامی نے طحطاوی کے حوالے سے اضافہ کیاہے کہ بلوغ سے قبل ختنہ نہ کیاجائے کیونکہ اس کا مقصد طہارت ہے اور وہ بلوغ سے پہلے لازم نہیں ہوتی۔

 (۳؎ درمختار        مسائل شتّی            مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۵ /۵۳۰)

قال فی الدر وقیل العبرۃ بطاقتہ وھوالاشبہ۴؎درمختار میں ہے اعتبار طاقت وقوت کا ہے، اور یہی مختار ہے۔

 (۴؎ درمختار        مسائل شتّی            مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۲ /۳۵۰)

قال ش ا ی بالفقہ زیلعی وھذہ من صیغ التصحیح ۵؎۱ھشارح شامی نے فرمایا یعنی یہی عقل و دانش کے زیادہ قریب ہے زیلعی، اوریہ (اشبہ) تصحیح کے صیغوں میں سے ایک ہے۱ھ

 (۵؎ ردالمحتار        مسائل شتّی             مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۵ /۵۳۰)

فشمل اذا لم یلق الابعد البلوغ لایقال فلیصل ثلثۃ ثلثۃ تتری یؤم کل اثنین امام فالجماعۃ یحرزون وعن الکراھۃ یحترزون لانا نقول لا اصل فی الشریعۃ الطاھرۃ لتفریق الجماعۃ الحاضرۃ ولم یرض اﷲ بہ للمسلمین وھم فی نحرالعدو فما ظنک بسائر الاحوال ھذا ماظھر لی وعند ربی علم حقیقۃ کل حال۔ واﷲ تعالٰی اعلم

یہ اس صورت کوبھی شامل ہے جب بلوغ کے بعد ہی طاقت رکھتاہو، یہ بھی نہیں کہاجاسکتا کہ تین تین الگ ہوکرنماز اداکریں اور امام ہردوکی امامت کرائے توجماعت حاصل کرلیں گے اور کراہت سے بچ جائیں گے کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ شریعت طاہرہ میں جماعت حاضر ہمیں تفریق کی اجازت نہیں ہے حتی کہ دشمنوں کے سامنے بھی اﷲ تعالٰی نے مسلمانوں کے لئے ایسے عمل کو پسند نہیں کیا تو دیگر حالات میں یہ کیسے ہوسکتاہے، یہ بات مجھ پر آشکار ہوئی ہے حقیقت حال کاعلم میرے رب کریم کے پاس ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)


Navigate through the articles
Previous article ایک مسجد میں ایک ساتھ دو جماعتیں کرنا کیسا ہے؟ دو تین جماعتوں کایکے بعددیگرے ہوناکیسا ہے Next article
Rating 2.88/5
Rating: 2.9/5 (251 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu