• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > دو تین جماعتوں کایکے بعددیگرے ہوناکیسا ہے

دو تین جماعتوں کایکے بعددیگرے ہوناکیسا ہے

Published by Admin2 on 2012/8/14 (1044 reads)

New Page 1

مسئلہ ۹۲۴تا۹۲۷: ازغازی پورمحلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش صاحب محرر دفترججی غازی پور ۱۷/ذی القعدہ ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین:

(۱) ایک مسجد میں دو تین جماعتوں کایکے بعددیگرے ہوناکیسا ہے، چاہئے یانہیں؟

(۲) کراہت جماعت ثانیہ میں آپ کی کیاتحقیق ہے؟

(۳) ایک مسجد میں ایک ہی وقت دوتین آدمیوں کافرداً فرداً فرض پڑھنا کیسا ہے؟

(۴) اور اگرفرداً فرداً چندشخص فرض پڑھیں تونمازہوجائے گی یانہیں؟

الجواب

(۱) مسجد دوقسم ہے ایک مسجد عام جسے کسی خاص محلہ سے خصوصیت نہیں جیسے مسجد جامع یابازار یاسرایا اسٹیشن کی مسجد(۲) دوسری مسجد محلہ کہ ایک محلہ خاص سے اختصاص رکھتی ہو اس کی معمولی جماعت معین ہے اگرچہ کچھ راہگیر یامسافر بھی متفرق اوقات میں شریک ہوجایاکریں، اور یکے بعددیگرے چندجماعتیں کرنے کی بھی دوصورتیں ہیں، ایک یہ کہ جماعت موجودہ کے دویاچندحصے کردیں، جب ایک حصہ کرلے تودوسرا کرے۔ دوسرے یہ کہ وہ حاضر ہواپڑھ گیا دوسرا اس کے بعد آیا یہ اب جماعت کرتاہے تعدد جماعت کی پہلی صورت بلاضرورت شرعیہ مطلقاً حرام ہے خواہ مسجد محلہ ہو یامسجد عام، ہاں بضرورت جائز ہے جیسے صلوٰۃ الخوف میں۔ رہا یہ کہ مسجد میں کوئی بدمذہب گمراہ یافاسق معلن یاقرآن مجید کاغلط پڑھنے والا امامت کرتاہے کچھ لوگ براہ جہل یاتعصب اس کے پیچھے پڑھتے ہیں دوسرے لوگ اس کے روکنے پرقادرنہیں یہ اس کی اقتدا سے بازرہتے ہیں اور اس کے فراغ کے بعد اپنی جماعت جداکرتے ہیں جس کاامام سب بلاؤں سے پاک ہے یہ صورت مطلقاً جائز بلکہ شرعاً مطلوب ہے مسجد عام ہو خواہ مسجد محلہ۔ اور تعدد جماعت کی صورت ثانیہ کہ یہ گروہ پہلی جماعت کے وقت حاضرنہ تھا یہ مسجد عام میں مطلقاً جائزومطلوب ہے یہاں تک کہ کتابوں میں تصریح ہے کہ بازار وغیرہ کی عام مساجد میں افضل یہ ہے کہ جو گروہ آتاجائے نئی اذان نئی اقامت سے جماعت کرے سب جماعتیں جماعت اولٰی ہوں گیکما فی فتاوی الامام قاضی خاں وغیرہ (جیسا کہ فتاوٰی امام قاضی خاں وغیرہمیں ہے۔ت) اور مسجد محلہ میں بھی اگرپہلی جماعت کسی غلط خواں یابدمذہب یامخالف مذہب نے کی یا بے اذان دئیے ہوگئی یااذان آہستہ دی گئی دوسری جماعت مطلقاً جائز ومطلوب ہے اور اگر ایسانہیں بلکہ اہل محلہ موافق المذہب سنی صالح صحیح خواں امام کے پیچھے باعلان اذان کہہ کر پڑھ گئے اب باقی ماندہ آئے توانہیں دوبارہ اذان کہہ کر جماعت کرنی مکروہ تحریمی ہے اور بے اذان دیئے محراب جماعت اولٰی میں امامت کرنی مکروہ تنزیہی، اور اگرمحراب بدل دیں تواصلاً کراہت نہیں۔ اس مسئلہ کی تفصیل تام فقیر نے اپنے فتاوٰی میں ذکرکی۔

(۲) اس کاجواب اول میں آگیا۔

(۳) اگران میں کوئی شرعی حیثیت سے قابل امامت ہو اور دانستہ بلاوجہ شرعی ترک جماعت کریں توگ&#a1606;ہگار ہوں گے اگرچہ نمازہوجائے گی۔ اور نادانستہ ہو یعنی ایک شخص فرض پڑھ رہاہے دوسراآیا اسے معلوم نہیں کہ یہ فرض پڑھ رہاہے اس نے بھی فرض کی نیت الگ باندھ لی، اسی طرح تیسراآیا اس نے بھی فرض کی نیت باندھ لی یااُن میں کوئی قابل امامت نہیں تو حرج نہیں۔

(۴) نماز ہوجاتی ہے مگرترک جماعت سے گناہ ہوتاہے جبکہ کوئی عذرشرعی نہ ہو۔


Navigate through the articles
Previous article چند لوگ جماعت سے رہ جائیں تو دوسری جماعت کروا لیں امام کے انتظار میں تاخیرکرنا درست ہے یانہیں؟ Next article
Rating 2.94/5
Rating: 2.9/5 (299 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu