• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > جماعت ثانی کے وقت کوئی اپنی الگ نماز پڑھے تو کیسا

جماعت ثانی کے وقت کوئی اپنی الگ نماز پڑھے تو کیسا

Published by Admin2 on 2012/8/15 (1683 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ ۹۳۶تا ۹۳۷: ازگونڈہ ملک اودھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالعزیز صاحب مدرس مدرسہ مذکورہ ۱۳جمادی الاخری ۱۳۱۸ھ

سوال اول: زید کی امامت سے جماعت ثانیہ مسجد، بازار یاسرائے میں ہورہی ہے اسی مسجد میں بکر بھی آیا اس کومعلوم ہوگیا کہ یہ جماعت ثانیہ ہے اس نے علیحدہ وتنہا جماعت کے قریب یا کسی قدر فاصلے سے اپنی نماز اداکی تونماز بکرکی ادا ہوگئی یانہیں؟

سوال دوم: ایک عالم صاحب فرماتے ہیں کہ جماعت ثانیہ کیا بلکہ جماعت اولٰی بھی ہوتی ہو تو اس وقت کوئی دوسراشخص اس مسجد میں آئے اور تنہا اپنی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ہوجائے گی جماعت کا پچیس۲۵ گناثواب نہ ملے گا، نماز ہوجانے کاسبب یہ بتایا کہ جماعت سنت مؤکدہ ہے نہ فرض ہے نہ واجب، اس بارے میں کیاارشاد ہے؟

الجواب

جواب سوال اول: نمازبایں معنی توہوگئی کہ فرض سرسے اترگیا مگرسخت کراہت ولزوم معصیت کے ساتھ کہ بے عذرشرعی ترک جماعت گناہ وشناعت ہے نہ کہ خود بحال قیام جماعت صریح خلاف و اضاعت، یہاں تک کہ اگر کسی نے تنہافرض شروع کردئیے ہنوزجماعت قائم نہ تھی اس کے بعد قائم ہوئی اور اس نے بھی پہلی رکعت کاسجدہ نہ کیا تو اسے شرع مطہر مطلقاً حکم فرماتی ہے کہ نیت توڑدے اور جماعت میں شامل ہوجائے بلکہ مغرب وفجر میں تو جب تک دوسری رکعت کاسجدہ نہ کیا ہو حکم ہے کہ نیت توڑکرمل جائے اور باقی تین نمازوں میں دوبھی پڑھ چکا ہوتو انہیں نفل ٹھہراکر جب تک تیسری کاسجدہ نہ کیا ہو شریک ہوجائے۔

فی التنویر شرع فیھا اداء منفردا ثم اقیمت یقطعھا قائما بتسلیمۃ واحدۃ ویقتدی بالامام ان لم یقید الرکعۃ الاولٰی بسجدۃ اوقیدھا فی غیرر باعیۃ اوفیھا وضم الیھا اخری وان صلی ثلثا منھا اتم ثم اقتدی متنفلا ویدرک فضیلۃ الجماعۃ الافی العصر۱؎۔تنویر الابصار میں ہے کسی نے تنہا نماز اداکرنا شروع کی پھر اسی فرض کی جماعت کھڑی ہوگئی تو وہ سلام واحد کے ساتھ کھڑے کھڑے نماز ختم کردے اور امام کی اقتدا کرے بشرطیکہ اس نے پہلی رکعت کاسجدہ نہ کیاہو یاپہلی رکعت کا سجدہ کرلیا ہے مگرنماز غیررباعی ہو(یعنی فجرومغرب کی نماز میں) یانماز رباعی ہومگر اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملاچکا ہے (ان صورتوں میں نمازتوڑکرامام کی اقتداکرے) اگرتین رکعت اداکرچکا ہے تونماز پوری کرے اس کے بعد بنیت نوافل امام کی اقتداکرے تواسے ثواب جماعت حاصل ہوجائے گا البتہ نمازعصر میں ایسا نہیں کرسکتا(کیونکہ بعدازعصرنفل پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ت)

 (۱؎ درمختار    باب ادراک الفریضۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۹۹)

جب پیش ازجماعت تنہاشروع کرنے والے کویہ حکم ہے حالانکہ اس نے ہرگز مخالفت جماعت نہ کی تھی اورنیت توڑنا بے ضرورت شرعیہ سخت حرام ہے

قال اﷲ تعالٰی لاتبطلوا اعمالکم۲؎اپنے عمل باطل نہ کرو،

 (۲؎ القرآن    ۴۷ /۳۳)

مگرشرع مطہرنے جماعت حاصل کرنے کے لئے نیت توڑنے کو ابطال عمل نہ سمجھا اکمال عمل تصورفرمایا تویہاں کہ جماعت قائمہ کے خلاف اپنی الگ پڑھتاہے کیونکر شرع مطہر کو گوارا ہوسکتاہے بلکہ جوشخص مسجد میں نمازتنہا پوری پڑھ چکا ہو اب جماعت قائم ہوئی ہے اگرظہر یاعشا ہے توشرعاً اس پرواجب ہے کہ جماعت میں شریک ہوکہ مخالفت جماعت کی تہمت سے بچے اور باقی تین نمازوں میں حکم ہے کہ مسجد سے باہر نکل جائے تاکہ مخالفت جماعت کی صورت نہ لازم آئے،

فی الدرالمختار من صلی الظھر والعشاء وحدہ مرۃ فلایکرہ خروجہ بل ترکہ للجماعۃ الاعند الشروع فی الاقامۃ فیکروہ لمخالفتہ الجماعۃ بلاعذر بل یقتدی متنفلا ومن صلی الفجر والعصر والمغرب مرۃ فیخرج مطلقا وان اقیمت، وفی النھر ینبغی ان یجب خروجہ لان کراھۃ مکثہ بلاصلاۃ اشد۱؎۱ھ

نہر میں ہے مناسب یہ ہے کہ جماعت ہونے کے وقت اس کانکل جانا واجب ہے کیونکہ بغیرنماز کے وہاں مسجد میں رکے رہنا زیادہ مکروہ ہے۱ھ مختصراً اگرچہ

 (۱؎ درمختار    باب ادراک الفریضہ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۹۹)

مختصرا فی ردالمحتار تحت قولہ الاعند الشروع فی الاقامۃ لان فی خروجہ تھمۃ قال الشیخ اسمٰعیل وھو المذکور فی کثیر من الفتاوٰی والتھمۃ ھنانشأت من صلاتہ منفردا فاذا خرج یؤیدھااہ۲؎

درمختار میں ہے جس نے ظہر وعشاء کی نمازتنہا ایک مرتبہ اداکرلی اس کے لئے مسجد سے نکلنا مکروہ نہیں بلکہ جماعت کاترک مکروہ ہوا مگر اس صورت میں جب اقامت شروع ہوگئی تومکروہ ہے بلاعذر نکلنا بسبب اس کی مخالفت جماعت کے، بلکہ وہ مسجد میں ٹھہرے اور بنیت نوافل امام کی اقتداء کرے، اور جس نے فجر، عصر اور مغرب کی نماز ادا کرلی تووہ ہرحال میں مسجد سے نکل سکتاہے اگرچہ تکبیر شروع ہوجائے،۔ ردالمحتار میں''الاعند الشروع فی الاقامۃ''کے تحت ہے کہ اس کے نکلنے میں تہمت ہے۔ شیخ اسمٰعیل فرماتے ہیں کہ بہت سے فتاوٰی میں یہی مذکور ہے اور یہ تہمت کاسبب اس کاتنہا نمازاداکرنا ہے اور جب وہ نکل کھڑا ہواتو اس سے تائید ہوجائے گی الخ

 (۲؎ ردالمحتارباب ادراک الفریضہ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی۱ /۵۲۸)

وفیہ عن المحیط مخالفۃ الجماعۃ وزرعظیم۳؎۔

اسی میں محیط کے حوالے سے ہے کہ مخالفت جماعت میں بہت بڑاگناہ ہے۔(ت)

 (۳؎ردالمحتارباب ادراک الفریضہ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی۱ /۵۲۹)

جب جماعت سے پہلے تنہا پڑھنے والا جماعت میں شریک نہ ہو تو متہم اور مخالف جماعت اور وزرعظیم میں مبتلا پاتاہے تو جوباوصف قیام جماعت قصداً مخالفت کرکے اپنی الگ شروع کردے کیونکر سخت متہم وصریح مخالف وگرفتار گناہ شدید نہ ٹھہرے گا بلکہ علمافرماتے ہیں کہ قیام جماعت کی حالت میں اگرکچھ لوگ آکردوسری جماعت جدا قائم کردیں مبتلائے کراہت ہوں گے کہ تفریق جماعت کی حالانکہ یہ نفس جماعت کے تارک نہ ہوئے نہ ان پر اصل جماعت سے مخالفت کی تہمت آسکتی ہے تواکیلا اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ بنانے والا کس قدر شدید مخالف ہوگا،

فی الخلاصۃ ثم الھندیۃ قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام امام من اھل الخارج فامھم وقام امام من اھل الداخل فامھم من یسبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم۱؎خلاصہ پھرہندیہ میں ہے کچھ لوگ داخل مسجد اور کچھ مسجد سے باہربیٹھے تھے کہ مؤذن نے اقامت کہی تو باہروالوں میں سے ایک شخص نے امامت کرائی اسی طرح اہل داخل میں سے ایک شخص نے امامت کرائی ان دونوں میں سے جو پہلےشروع ہوا وہ امام ہے اور اس کی اقتدا کرنے والے درست ہیں اور ان میں کوئی کراہت نہیں۔

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی    الفصل الخامس عشرفی الامامۃ والاقتدائ    مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱ /۱۱۴۵

خلاصہ ہندیہ    الفصل الثانی فی بیان من ہواحق بالامامۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۸۴)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article مسجد میں جماعت ثانی بلاوجہ ہوسکتی ہے یانہیں، امام مصلی پراور مقتدی بغیرمصلی ہوںتوکیا مکروہ ہے Next article
Rating 2.68/5
Rating: 2.7/5 (301 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu