• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > مکہ میں چار مصلے کس نے قائم کئے

مکہ میں چار مصلے کس نے قائم کئے

Published by Admin2 on 2012/8/15 (1175 reads)

New Page 1

مسئلہ ۹۴۱: ازجالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی محمدجان صاحب مرسلہ محمداحمدخان صاحب     ۲۰/شوال ۱۲۱۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی کتاب میں یہ عبارت لکھی ہے البتہ چارمصلّے جو کہ مکہ معظمہ میں مقرر کئے ہیں لاریب یہ امرزبون ہے کہ تکرارجماعت وافتراق اس سے لازم آگیا کہ ایک جماعت ہونے میں دوسرے مذہب کی جماعت بیٹھی رہتی ہے اور شریک جماعت نہیں ہوتی اور مرتکب حرمت ہوتے ہیں مگریہ تفرقہ نہ ائمہ دین حضرات مجتہدین سے ہے نہ علمائے متقدمین سے بلکہ کسی وقت سلطنت میں کسی وجہ سے یہ امرحادث ہواہے کہ اس کو کوئی اہل حق پسندنہیں کرتا پس یہ طعن نہ علمائے اہل حق مذاہب اربعہ پر ہے بلکہ سلاطین پرہے کہ مرتکب اس بدعت کے ہوئے فقط واﷲ تعالٰی اعلم۔ پس دریافت طلب یہ امر ہے کہ یہ چارمصلّے کس کی سلطنت میں ہوئے اور کس امروبنیاد پر قائم کئے گئے کہ جوزیدلکھتاہے کہ لاریب یہ امرزبون ہے صدہاعلمائے کاملین وصلحائے مقبولین گزرے کسی نے آج تک یہ اعتراض نہیں کیا کہ جواب زید یہ اعتراض کرتاہے اس کالکھنا درست ہے یاخلاف؟ اور زید کو شرعاً کیاکہناچاہئے؟ جواب مدلل مکمل صاف صاف تحریر فرمائیںبینوابالتفصیل جزاکم اﷲ الرب الجلیل۔

الجواب

حقیقت امر یہ ہے کہ حرمین طیبین زادہما اﷲ شرفاً وتعظیماً میں چاروں مذاہب حقہ اہلسنت حفظہم اﷲ تعالٰی کے لوگ مجتمع ہیں اور اُن میں باہم طہارت ونماز کے مسائل میں اختلاف رحمت ہے، ایک بات ایک مذہب میں واجب دوسرے میں ممنوع، ایک میں مستحب دوسرے میں مکروہ، ایک کے نزدیک ایک امرناقص طہارت دوسرے کے نزدیک نہیں، ایک کے یہاں کسی صورت میں وضو تمام دوسرے کے یہاں نہیں، تو جب امام کسی مذہب کا ہو اگر اس نے دوسرے مذہب کے فرائض طہارت وصلاۃ کی رعایت اور ان کے نواقض ومفسدات سے مجانبت نہ کی جب تو اس مذہب والوں کی نماز اس کے پیچھے باطل وفاسد ہی ہوگی اور اگرمراعات ومجانبت مشکوک ہو تومکروہ اور تلفیق مذاہب باجماع جمہورائمہ حرام وباطل اور بحال رعایت بھی ہرمذہب کے مکروہات سے بچنایقینا محال اور بعض امور ایک مذہب میں سنت اور دوسرے میں مکروہ ہیں اگربجالایا تومذہب ثانی اور تارک ہوا تو مذہب اول پر کراہت ولہٰذا غایت امکان قدرفرائض ومفسدات تک ہے، محققین نے تصریح فرمائی کہ بہرحال موافق المذہب کی اقتداء اکمل وافضل، تو انتظار موافق کے لئے نوافل یاذکروغیرہما میں مشغول رہنا جماعت سے اعراض نہیں بلکہ اکمل واعلٰی کی طلب ہے اور یہ تفریق جماعت نہیں بلکہ تکمیل وتحسین ہے خصوصاً ان دومسجد مبارک میں کہ مسجد محلہ نہیں ہرجماعت جماعت اولٰی ہے اس لئے آٹھ سوبرس یا زائد سے مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ و بیت المقدس و جدہ و مصرو شام وغیرہا بلاد ِاسلام میں عامہ مسلمین کاعمل اس پرجاری وساری رہا اور بعض کاانکار شاذومہجور قرارپایا تو بعد وضوح حق واستقرار امر اسے زبون وحرام وبدعت کہنا باطل وجہل وسفاہت ہے، چارمصلّے ہونا اسی طریقہ ا نیقہ سے عبارت جسے علمائے مذاہب نے بنظرمصالح جلیلہ مذکورہ پسند ومقرررکھا باقی کسی مکان یاعلامت کابننا کہ یہ بھی صدہاسال سے معہود ومقبول ہے نہ اس کے لئے ضرور نہ ان میں مخل بلکہ وہ بھی منافع پرمشتمل،

درمختارمیں ہے:یکرہ تطوع عند اقامۃ صلٰوۃ مکتوبۃ ای اقامۃ امام مذھبہ ۱؎۔نماز فرض کی اقامت کے وقت نوافل مکروہ ہیں یعنی اقامت سے مراد اپنے ہم مذہب امام کی اقامت ہے(ت)

 (۱؎ درمختار            کتاب الصلوٰۃ     مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱ /۶۲)

ردالمحتار میں :لوانتظر امام مذھبہ بعیدا عن الصفوف لم یکن اعراضا عن الجماعۃ للعلم بانہ یرید جماعۃ اکمل من ھذہ الجماعۃ ۲؎۔اگرکوئی شخص صفوں سے دور اپنے مذہب کے امام کاانتظارکرتارہا تو یہ جماعت سے اعراض نہ ہوگا کیونکہ یقینا معلوم ہے کہ وہ اس موجودہ جماعت سے اکمل جماعت کاارادہ رکھتاہے(ت)

 (۲؎ ردالمحتار            باب ادراک الفریضہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۲۵)

شیخ علمائے مکہ معظمہ مولانا علی قاری مکی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ رسالہ اہتداء میں فرماتے ہیں:لوکان لکل مذھب امام کما فی زماننا فالافضل الاقتداء بالموافق سواء تقدم اوتاخر علی مااستحسنہ عامہ المسلمین وعمل بہ جمہور المومنین من اھل الحرمین والقدس ومصر والشام ولاعبرۃ بمن شذ منھم۳؎۔اگرہرمذہب کاالگ امام موجود ہو جیسا کہ ہمارے دور میں ہے توپھر اپنے موافق کی اقتدا افضل ہے خواہ وہ پہلے ہو یا بعد جیسا کہ اس کو عامہ مسلمین نے پسند کیا، جمہورمومنین اہل حرمین، قدس، مصر اوراہل شام کا اسی پرعمل ہے، اس کی مخالفت کرنے والے شاذونادر کاکوئی اعتبارنہیں۔(ت)

 (۳؎ ردالمحتار بحوالہ رسالہ اہتدائ    باب الامامۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۱۷)

علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:قد سئل بعض العلماء عن ھذہ المقامات المنصوبۃ حول الکعبہ التی یصلون فیھا الاٰن باربعۃ ائمۃ علی مقتضی المذاھب الاربعۃ فاجاب بانھا بدعۃ ولکنھا بدعۃ حسنۃ لاسیئۃ لانھا تدخل بدلیل السنۃ الصحیحۃ و تقریرھا فی السنۃ الحسنۃ لانھا لم یحدث منہا ضرر ولاحرج فی المسجد ولافی المصلین من المسلمین لعامۃ اھل السنۃ والجماعۃ بل فیھا عمیم النفع فی المطروالحر الشدید والبرد وفیھا وسیلۃ للقرب من الامام فی الجمعۃ وغیرھا فھی بدعۃ حسنۃ و ویسمون بفعلھم للسنۃ الحسنۃ و ان کانت بدعۃ اھل السنۃ لااھل البدعۃ لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال من سن سنۃ ۱؎ حسنۃ الٰی اٰخرما اطال واطاب علیہ رحمۃ الملک الوھاب واﷲ تعالٰی اعلم۔بعض علماء سے کعبہ معظمہ کے اردگرد مقامات مخصوصہ میں مذاہب اربعہ کی اقتداء میں نماز اداکرنے کے بارے میں پوچھاگیاتوانہوں نے اسے بدعۃ کہا،لیکن یہ بدعت حسنہ ہے سیئہ نہیں کہ یہ سنت صحیحہ کی دلیل وتقریر پرسنت حسنہ میں داخل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے کوئی ضررنہیں ہوتا نہ مسجد میں کوئی تنگی ہے اور نہ عام اہل سنت کے نمازیوں میں کوئی حرج ہے بلکہ اس میں بارش اور سخت گرمی وسردی میں فائدہ وآسانی ہے اور اس میں جمعہ وغیرہ میں امام کاقرب بھی حاصل رہتاہے لہٰذا یہ بدعت حسنہ ہے اور فقہاء اپنے اس فعل کانام سنت حسنہ رکھتے ہیں اگرچہ اہلسنت کی بدعت ہے نہ کہ اہل بدعت کی، کیونکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ''من سن سنۃ حسنۃ'' (جس نے اچھا طریقہ ایجادکیا) الٰی آخرالعبارۃ، اﷲ تعالٰی ان پرلطف وکرم فرمائے، وا ﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

 (۱؎ حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ    وقدسئل بعض العماء عن ہذہ المقامات المنصوبۃ حول الکعبۃ     مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد۱ /۱۱۶)


Navigate through the articles
Previous article امام مصلی پراور مقتدی بغیرمصلی ہوںتوکیا مکروہ ہے اگرکوئی شخص وجہ جماعت ہووہ کہیں اورجاکرنمازپڑھے Next article
Rating 2.82/5
Rating: 2.8/5 (285 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu