• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > جماعت ثانی میں قول بلا دلیل کی ترجیح کیسی؟

جماعت ثانی میں قول بلا دلیل کی ترجیح کیسی؟

Published by Admin2 on 2012/8/16 (3285 reads)
Page:
(1) 2 3 4 ... 6 »

New Page 1

مسئلہ ۸۸۲: ازریاست الورراجپوتانہ محلہ قاضی واڑہ مرسلہ مولوی محمد رکن الدین صاحب نقشبندی ۲۲ذی الحجہ ۱۳۲۴ہجری

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔ قاطع بدعت وضلالت جامع معقول ومنقول جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب ادام فیوضہم وبرکاتہم!

السلام علیکم ورحمۃ ا ﷲ وبرکاتہ فقیر حقیر مسکین محمد رکن الدین حنفی نقشبندی مجددی نادیدہ مشتاق زیارت (عـہ)دومسئلہ خدمت شریف میں پیش کرکے امیدوار ہے کہ جناب اپنی تحقیق سے اس عاجز کو ممنون فرمائیں اﷲ تعالٰی اس کااجرعظیم عطافرمائے گا، ایک مسئلہ تو جماعت ثانی کا ہے اس میں گزارش یہ ہے کہ ردالمحتار میں جواقوال کراہت وعدم کراہت کے نقل کئے ہیں ان میں سے کراہت کاقول اس محلہ کی مسجد کی نسبت کہ جس میں امام اور مؤذن اور نمازی معین ہوں ظاہر الروایۃ بیان کیا ہے اور اس کو مدلل بھی کردیا ہے اور عدم کراہت کے قول کی صحت بھی منقول ہے کہ جو منسوب امام ابویوسف رحمۃاﷲ تعالٰی علیہ سے ہے وہ بھی اس میں موجود ہے اب یہ فرمائیے کہ ظاہرالروایۃ کے مقابلہ میں جبکہ وہ مدلل بھی ہو دوسرے قول بلاد دلیل کی ترجیح کس طرح ہوسکتی ہے۔ بینواتوجروا

(عـہ) اول یہ ہے دوسرانوافل میں مسطورہے۱۲ (م)

الجواب

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ، ونصلّی علی رسولہ الکریم

بملاحظہ مولانا المبجل المکرم المکین جعلہ اﷲ تعالٰی ممن شیدبہم رکن الدین۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ہمارے امام ہمام سراج الامہ امام الائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا مذہب مہذب وظاہر الروایۃ یہ ہے کہ مسجد محلہ جس کے لئے اہل معین ہوں جب اس میں اہل محلہ باعلان اذان وامام موافق المذہب صالح امامت کے ساتھ جماعت صحیحہ مسنونہ بلاکراہت اداکرچکے ہوں توغیراہل محلہ یاباقی ماندگان اہل محلہ کو اذان جدید کے ساتھ اس میں اعادہ جماعت مکروہ وممنوع وبدعت ہے۔ مجمع البحرین و بحرالرائق میں ہے:لاتکررھا فی مسجد محلۃ باذان ثان۱؎محلہ کی مسجد میں دوسری اذان کے ساتھ تکرارجماعت جائز نہیں۔(ت)

(۱؎ بحرلرائق            باب الامامۃ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۴۵۔۳۴۶)

شرح المجمع للمصنف و فتاوٰی علمگیریہ میں ہے:المسجد اذاکان لہ امام معلوم وجماعۃ معلومۃ فی محلۃ فصلی اھلہ فیہ بالجماعۃ لایباح تکرارھا فیہ باذان ثان۲؎۔جب مسجد کاامام اورجماعت محلہ میں متعین ہو اور اہل محلہ نے جماعت کے ساتھ نمازادا کرلی تو دوسری اذان کے ساتھ اس میں تکرار جماعت مباح نہ ہوگی(ت)

(۲؎ فتاوٰی ہندیہ        الفصل الاول فی الجماعۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور        ۱ /۸۳)

اسی طرح فتاوی بزازیہ و شرح کبیرمنیہ و غرر و درر و خزائن الاسرار و درمختار و ذخیرۃ العقبٰی وغیرہا میں ہے اور اس کا حاصل حقیقۃ کراہت اعادئہ اذان ہےفان الحکم المنصب علی مقید انما ینسحب علی القید کما قدعرف فی محلہ ولھذا۔وہ حکم جو کسی مقید پر ہو وہ قید پر وارد ہوتاہے جیسا کہ یہ ضابطہ اپنے مقام ومحل پرمعروف ہے(ت)

امام محقق ابن امیر الحاج حلبی ارشد تلامذہ ابن الہمام نے حلیہ میں اسی مذہب مہذب کو اس عبارت سے ادا فرمایا:المسجد اذاکان لہ اھل معلوم فصلوا فیہ اوبعضھم باذان واقامۃ کرہ لغیراھلہ والباقین من اھلہ اعادۃ الاذان والاقامۃ۳؎۔جب مسجد کے اہل معلوم ہوں اور ان تمام یابعض نے اذان واقامت کے ساتھ نماز اداکرلی تو اب غیراہل اور بقیہ لوگوں کے لئے اذان واقامت کا اعادہ جائز نہیں(ت)

(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

ولہٰذا کتب مذہب طافحہ ہیں کہ بے اعادہ اذان مسجد محلہ میں جماعت ثانیہ بالاتفاق مباح ہے اس کے جواز واباحت پرہمارے جمیع ائمہ کااجماع ہے عباب و ملتقط و منبع و شرح در البحار و شرح مجمع البحرین للمصنف و شرح المجمع ابن ملک ورسالہ علامہ رحمت اﷲ تلمیذ امام ابن الہمام و ذخیرۃ العقبٰی و خزائن الاسرار شرح تنویر الابصار و حاشیۃ البحر للعلامۃ خیرالدین رملی و فتاوٰی ہندیہ وغیرہا کتب معتمدہ میں اس پر اتفاق واجماع نقل فرمایا، خزائن میں ہے:لوکرر اھلہ بدونھمااوکان مسجدطریق جاز اجماعا۱؎۔اگراذان واقامت کے بغیر اہل محلہ تکرارجماعت کریں یا وہ مسجد راستہ کی ہو تو یہ تکرار جماعت بالاجماع جائز ہے(ت)

(۱؎ ردالمحتار بحوالہ خزائن الاسرار        باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۰۸)

علمگیریہ و شرح المجمع للمصنف میں ہے:اما اذا صلوا بغیر اذان یباح اجماعا۲؎۔ہاں اگر انہوں نے نماز بغیر اذان کے ادا کی تو یہ بالاجماع جائز ہے(ت)

 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ            الفصل الاول فی الجماعۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۸۳)

ردالمحتار میں منبع سے ہے:التقیید بالمسجد المختص بالمحلۃ احتراز عن الشارع وبالاذان الثانی احتراز عما اذا صلی فی مسجد المحلۃ جماعۃ بغیر اذان حیث یباح اجماعا۳؎۔مسجد کو محلہ کے ساتھ مختص کرنے سے مسجد شارع اس سے خارج ہوگئی اور اذان ثانی کی قید سے وہ صورت خارج ہوجاتی ہے، جب اہل محلہ نے اذان ثانی کے بغیر جماعت کروائی ہو کیونکہ اس صورت میں تکرارجماعت بالاجماع مباح ہے(ت)

 (۳؎ ردالمحتار                باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۰۸)

حاشیۃ علامہ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:اما اذا کررت بغیر اذان فلاکراھۃ مطلقا وعلیہ المسلمون۴؎۔جب بغیر اذان کے تکرار جماعت ہو تو اب بہرحال کراہت نہیں اور تمام مسلمان اسی پرہیں(ت)

 (۴؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار        باب الامامۃ        مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۲۴۰)

Page:
(1) 2 3 4 ... 6 »

Navigate through the articles
Previous article اگرکوئی شخص وجہ جماعت ہووہ کہیں اورجاکرنمازپڑھے جماعت ہونے کے دوران اگر کوئی اپنی نماز الگ پڑھے Next article
Rating 2.72/5
Rating: 2.7/5 (313 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu