• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Imam / امامت > جس پر رافضی ہونے کا شبہ ہو اسکی امامت کیسی؟

جس پر رافضی ہونے کا شبہ ہو اسکی امامت کیسی؟

Published by Admin2 on 2012/8/16 (1918 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

الجواب: جبکہ ثابت و محقق ہو کہ رافضیوں رافضی اور سنیوں میں ،ُسنی بنتا ہے جب تو ظاہر ہے کہ وہ رافضی بھی ہے اور منافق بھی اور اس کے پیچھے نماز باطل محض، جیسے کسی یہودی نصرانی ہندو مجوسی کے پیچھے

کما بیناہ فی النھی الا کید( جیسا کہ ہم نے اسے النہی الاکید میں بیان کیا ہے۔ ت) بلکہ تبرائی روافض زمانہ ان سے بھی بدتر ہیں کہ وہ کافران اصلی ہیں اور یہ مرتد ، اور مرتد کا حکم سخت تر و اشد

کما حققناہ فی المقالۃ المسفرۃ ( اس کی تحقیق ہم نے اپنے مقالے مسفرہ میں کی ہے۔ ت) اور اگر صرف اسی قدر ہو کہ اس کی حالت مشکوک و مشتبہ ہے جب بھی اسے امامت سے معزول کرنا بدلائل کثیرہ واجب ہے۔

فاقول وبا ﷲ التوفیق ( پس میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں)

دلیل اول علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جب کسی امر کے بدعت وسنت ہونے میں تردد ہوتو وہاں سنت ترک کی جائے ۔

بحرالرائق پھر ردالمحتار مکروہات الصلاۃ میں ہے:اذا تردد الحکم بین سنۃ وبدعۃ کان ترک السنۃ راجحا علی فعل البدعۃ ۱؎ ۔مختصراًجب حکم سنت اور بدعت کے درمیان متردد ہو تو بدعت پر عمل کی بجائے ترک سنت راجح ہے (ت)

 (۱؎ ردالمحتار    مطلب اذاترددالحکم بین سنۃ وبدعت     مطبوعہ مصطفی الباب مصر        ۱/ ۴۷۵)

المحیط پھر فتح القدیر اواخر سجودالسہو میں ہے:ما تردد بین البدعۃ والسنۃ ترکہ لان ترک البدعۃ لازم واداء السنۃ غیر لازم ۲؎۔جب بدعت اور سنت کے درمیان تردد ہو تو سنت کو ترک کردیا جائے کیونکہ ترک بدعت لازم اور اداء سنت غیر لازم ہے ۔ (ت)

 (۲؎ فتح القدیر    باب سجود السہو             مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/ ۴۵۵)

ظاہر ہے کہ اگر یہ شخص واقع میں سُنی ہو تو خاص اسی کو امام کرنا کچھ سنت بھی نہیں اور رافضی ہو تو اسے امام کرنا حرام قطعی جب سنت ومکروہ کے تردد میں ترک سنت کی علم ہو ا تو جائز وحرام قطعی کے تردد میں وہ جائز کیوں نہ واجب الترک ہوگا۔

دلیل دوم علماء فرماتے ہیں کہ جب کسی بات کے واجب و بدعت ہونے میں تردد ہو توترک نہ کی جائے ۔

فتح وحلیہ و بحر وردالمحتار وغیرہ میں ہے:واللفظ لھذا فی النوافل قد تقرر ان مادار بین وقوعہ بدعۃ اوواجبا لا یترک ۱؎۔بیان نوافل میں اس ( ردالمحتار) کے الفاظ یہ ہیں کہ یہ بات مسلمہ ہے جس کام کا وقوع بدعت اور واجب کے درمیان متردد ہو تو اسے ( یعنی واجب کو ) ترک نہیں کیا جائے گا ۔ (ت)

 (۱؎ ردالمحتار ، باب الوتر والنوافل،  مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۱۶)

ظاہر ہے کہ یہ شخص سنی ہو تو اس کی جگہ دوسرا امام مقرر کرنا کچھ بدعت بھی نہیں اور رافضی ہو تو اسے معزول کرنا فرض قطعی جب بدعت و واجب کے تردد میں فعل ضروری ہوتاہے تو جائز و فرض قطعی کے تردد میں اسے معزول کرنا کیوں نہ اشد ضروری ہوگا۔

دلیل سوم: شرع مطہر کا قاعدہ مقرر ہے کہا

اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام ۲؎ ۔جب ایک چیز میں حلت وحرمت دونوں وجہیں جمع ہوں توغلبہ حرمت کورہے گا اور وہ شے حرام سمجھی جائے گی ۔

کما فی الاشباہ والنظائر ( جیسا کہ اشباہ والنظائر میں ہے۔ت) یہ سنی ہو تو امامت حلال اور رافضی ہو تو حرام ، تو غلبہ حرمت ہی کو دیا جائےگا۔

 (۲؎ الاشباہ والنظائر    القاعدۃ الثانیۃ اذا اجتمع الحلال الخ    ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۴۴)

دلیل چہارم: عبادات میں احتیاط مطلقاً واجب ہے نہ کہ نماز کہ اہم واعظم عبادات ہے جس کے لئے علماء فرماتے ہیں کہ اگر اس کی صحت و فساد میں اشتباہ پڑے ایک وجہ سے فاسد ہوتی ہو اور متعدد وجوہ سے صحیح تو اس ایک ہی وجہ کا اعتبار کر کے اس کے فساد ہی کا حکم دیں گے ،

فتح القدیر صلاۃ المسافر میں ہے:ھذہ مسائل الزیادات ، مسافر ومقیم ام احد ھما الاخر فلما شرعا شکافی الامام استقبلا لان الصلوۃ متی فسدت من وجہ وجازت من وجوہ حکم بفسادھا وامامۃ المقتدی مفسدۃ، واحتمال کون کل منھامقتدیا قائم فتفسد علیھما ۱؎۔یہ مسائل زیادات کے ہیں مسافر اور مقیم میں سے ایک نے دوسرے کی امامت کی جب دونوں نے نماز شروع کی تو انھیں امام کے بارے میں شک ہوگیا کہ میں امام ہوں یا دوسرا تو نماز نئے سرے سے ادا کریں کیونکہ نماز جب ایک جہت سے فاسد اور کئی وجوہ کی بناء پر صحیح ہو تو نماز کے فاسد ہونے کا حکم دیا جائیگا،

اور مقتدی کا امام ہونا مفسد نماز ہے اور ایسی صورت میں یہاں ہر ایک کے مقتدی ہونے کا احتمال باقی ہے لہٰذا دونوں کی نماز فاسد ہوجائےگی۔ (ت)

 (۱؎ فتح القدیر        باب صلوٰۃ المسافر            مطبوعہ نوریہ رجویہ سکھر        ۲/ ۱۴)

ظاہر ہے کہ بر تقدیر سنیّت اس کے پیچھے نماز صحیح اور بر تقدیر رفض فاسد، تو اس کی امامت کیونکر جائز ہوسکتی ہے،

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article انکار رسالت اور استخفاف نماز جماعت فجر میں ہاتھ اٹھا کر قنوت پڑھنا کیسا ہے؟ Next article
Rating 2.77/5
Rating: 2.8/5 (295 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu