• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > مقیم مسافر کی اقتداء کرے تو بقیہ نماز کیسے پڑھے؟

مقیم مسافر کی اقتداء کرے تو بقیہ نماز کیسے پڑھے؟

Published by Admin2 on 2012/8/17 (1224 reads)

New Page 1

مسئلہ ۹۵۴: مرسلہ مرزاباقی بیگ صاحب رامپوری ۱۱/ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرمقیم نے امام مسافر کی اقتدا کی اور ایک یادونوں رکوع نہ پائے مثلاً دوسری رکعت یاصرف التحیات میں شریک ہوا تو بعد سلام امام کے اپنی نماز کس طرح ادا کرے؟ بینوا توجروا

الجواب

یہ صورت مسبوق لاحق کی ہے وہ پچھلی رکعتوں میں کہ مسافر سے ساقط ہیں مقیم مقتدی لاحق ہےلانہ لم یدرکھما مع الامام بعد مااقتدی بہ(اس لئے کہ اس نے اقتداء کے بعد امام کے ساتھ ان دورکعتوں کو نہیں پایا۔ت) اور اس کے شریک ہونے سے پہلے ایک رکعت یادونوں جس قدرنماز ہوچکی ہے اس میں مسبوق ہےلانھا فاتتہ قبل ان یقتدی(اقتدا سے قبل اس نے اسے فوت کیا ہے۔ت) درمختار و ردالمحتارمیں ہے:مقیم ائتم بمسافر فھو لاحق بالنظر للاخیرتین وقدیکون مسبوقا ایضا۱ھ کما اذافاتہ اول صلاۃ امامہ المسافر ۱؎ ط۔اگرمقیم نے مسافر کی اقتداء کی تو وہ آخری رکعتوں کے لحاظ سے لاحق ہے اور کبھی مسبوق بھی ہوسکتاہے جبکہ مسافر امام کی اقتدا ء پہلی رکعت میں نہ کی ہو۔ط(ت)

 (۱؎ ردالمحتار    باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۴۰)

اور حکم اس کا یہ ہے کہ جتنی نماز میں لاحق ہے پہلے اسے بے قراء ت اداکرے یعنی حالت قیام میں کچھ نہ پڑھے بلکہ اتنی دیر کہ سورہ فاتحہ پڑھی جائے محض خاموش کھڑا رہے بعدہ، جتنی نماز میں مسبوق ہوا اسے مع قراء ت یعنی فاتحہ وسورت کے ساتھ اداکرے،فی الدر المختار اللاحق یبدأ بقضاء مافاتہ بلاقراء ۃ ثم ماسبق بہ بھا ان کان مسبوقا ۲؎ ایضا ۱ھ ملخصا۔درمختار میں ہے کہ پہلے لاحق فوت شدہ رکعات بغیرقراء ت کے اداکرے پھر وہ رکعات جوامام کے ساتھ رہ گئی تھیں اگرمسبوق ہوا۱ھ ملخصاً(ت)

 (۲؎ درمختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۸۶)

ردالمحتارمیں ہے:قولہ ماسبق بہ بھا الخ ای ثم صلی اللاحق ماسبق بہ بقرأۃ ان کان مسبوقا ایضا بان اقتدی فی اثناء صلاۃ الامام ثم نام مثلا وھذا بیان للقسم الرابع وھو المسبوق اللاحق الخ۱؎پھر ماسبق رکعات الخ یعنی اگرمسبوق ہے تولاحق قرأت کے ساتھ سابقہ رکعات اداکرے مثلاً اس نے امام کے ساتھ دوران نماز اقتداء کی پھر مثلاً سوگیا اور یہ چوتھی قسم کابیان ہے جومسبوق لاحق ہے الخ۔(ت)

 (۱؎ ردالمحتار        باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱ /۴۴۰)

پس اگردونوں رکوع نہ پائے تھے تو پہلے دورکعتیں بلاقرأت پڑھ کر بعدالتحیات دورکعتیں فاتحہ و سورت سے پڑھے، اور اگرایک رکوع نہ ملاتھا توپہلے ایک رکعت بلاقرأت پڑھ کر بیٹھے اور التحیات پڑھے کیونکہ یہ اس کی دوسری ہوئی، پھر کھڑا ہوکر ایک رکعت اور ویسی ہی بلاقرأت پڑھ کر اس پربھی بیٹھے اور التحیات پڑھے کہ یہ رکعت اگرچہ اس کی تیسری ہے مگرامام کے حساب سے چوتھی ہے اور رکعات فائتہ کونماز امام کی ترتیب پراداکرنا ذمہ لاحق لازم ہوتاہے پھر کھڑا ہوکر ایک رکعت بفاتحہ وسورت پڑھ کر بیٹھے اور بعد تشہد نماز تمام کرے۔فی ردالمحتار عن شرحی المنیۃ والمجمع انہ لوسبق برکعۃ من ذوات الاربع ونام فی رکعتین یصلی اولامانام فیہ ثم ماادرکہ مع الامام ثم ماسبق بہ فیصلی رکعۃ ممانام فیہ مع الامام ویقعد متابعۃ لہ لانھا ثانیۃ امامہ ثم یصلی الاخری ممانام فیہ ویقعد لانھا ثانیتہ ثم یصلی التی انتبہ فیھا و یقعد متابعۃ لامامہ لانھا رابعۃ و کل ذلک بغیرقرأۃ لانہ مقتد ثم یصلی الرکعۃ التی سبق بھا بقرأۃ الفاتحۃ وسورۃ والاصل ان اللاحق یصلی علی ترتیب صلاۃالامام والمسبوق یقضی ماسبق بہ بعد فراغ الامام ۱؎۱ھردالمحتار میں شرح منیہ و مجمع سے ہے کہ اگر چاررکعات میں سے ایک رکعت گزرگئی اور پھر شریک ہوا پھر دومیں سوگیا تو اب جن میں سویا انہیں پہلے ادا کرے، پھر جس میں امام کے ساتھ اقتداء کی پھر چھوٹی ہوئی، پس وہ جس میں امام کے ساتھ سویا اس کی ایک رکعت پڑھے اور امام کی اتباع میں قعدہ کرے کیونکہ امام کی دوسری رکعات تھی، پھرسونے والی دوسری رکعات اداکرے اور قعدہ کرے کیونکہ اس کی دوسری رکعت ہے پھر وہ پڑھے جس میں بیدار ہوا اور اتباع امام کی وجہ سے بیٹھے کیونکہ یہ اس کی چوتھی ہے اور یہ تمام بغیرقرأت کے ہوں گے پھر وہ قرأت وفاتحہ کے ساتھ وہ رکعات پڑھے جوگزرچکی تھیں، ضابطہ یہ ہے کہ لاحق امام کی ترتیب پرنماز اداکرے لیکن امام کی فراغت کے بعد ماسبق کی ادائیگی کرے ۱ھ۔

 (۱؎ ردالمحتار        باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱ /۴۴۰)

اقول فھذہ ھی الصورۃ المسؤل عنہا بید ان مانحن فیہ اعنی اقتداء المقیم بالمسافر لایتحقق فیہ الادراک بعد ماصار لاحقالانہ انما یصیر لاحقا فی الاخیرین وذلک انما یکون بعد سلام الامام فلا تتأتی ھنا صورۃ المتابعۃ بعد اداء ماھو لاحق فیہ کمالایخفی ولذٰلک تغیر بعض الترتیب واﷲ تعالٰی اعلم۔اقول(میں کہتاہوں) صورت مسؤلہ یہی ہے علاوہ ازیں جس میں ہم بحث کررہے ہیں یعنی مقیم کا مسافر کی اقتدا کرنا اس میں لاحق سے ادراک امام پایانہیں جاتا کیونکہ آخری رکعتوں میں وہ لاحق ہی ہے اور یہ بات سلام امام کے بعد ہی ہوگی لہٰذا یہاں ایسی صورت نہ ہوگی کہ وہ کچھ ادائیگی کے بعد لاحق ہو جیسا کہ واضح ہے اسی لئے کچھ ترتیب میں تبدیلی آجاتی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)


Navigate through the articles
Previous article ظہر کی چوتھی رکعت ملی، بقیہ تین کیسے پڑھنی ہیں؟ مسبوق بقیہ رکعات میںفاتحہوسورت پڑھےیاخاموش رہے Next article
Rating 2.86/5
Rating: 2.9/5 (290 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu