• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > مسافر امام ایک رکعت پڑھ چکے تو مقیم کیسے آکر ملے؟

مسافر امام ایک رکعت پڑھ چکے تو مقیم کیسے آکر ملے؟

Published by Admin2 on 2012/8/17 (1391 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ ۹۵۷ :ازقصبہ میترانوالی ڈاک خانہ گھکرریلوی ضلع گوجرانوالہ مرسلہ حافظ شاہ ولی اﷲصاحب ۷محرم الحرام ۱۳۰۹ھ

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔بخدمت عالی جناب قدسی القاب مولوی احمدرضاخاں صاحب دام برکاتہ،، از فقیر حافظ ولی اﷲ شاہ بعد از تسلیمات وآداب ماوجب معروض آنکہ عرصہ ایک سال کا گزراہے کہ بندہ حضور کی قدم بوسی سے مشرف ہواتھا اور ایک مسئلہ حضور سے دریافت کیاتھا درباب اقتداء مقیم کامسافر کے ساتھ نماز رباعی میں اس حالت میں جومسافر ایک رکعت اداکرچکا ہو اور مقیم آکرملا توایک رکعت مقیم نے امام مسافر کے ساتھ پائی پھر وہ تین کس طرح پراداکرے، میں نے آپ سے یہ مسئلہ دریافت کیاتھا تو آپ نے فرمایاتھا کہ اول دورکعت جوخالی قرأت سے ہیں وہ ادا اس طرح پر کرے کہ بقدر الحمد کے قیام کرے اور اس میں قرأت نہ پڑھے بعدہ، ایک رکعت جو مسبوقانہ ہے اداکرے اور اس میں ثناء و فاتحہ وسورۃ پڑھے۔ اور یہی مسئلہ مسافر والے کا اس جگہ تنازع دومولوی صاحبوں کا آپس میں پڑاہواہے بلکہ بہت عالموں سے یہ مسئلہ دریافت کیاگیا ہے سب کے سب آپ کے برخلاف بیان کرتے ہیں اور یہی کہتے ہیں سوا سند کتاب کے ہم نہیں مانتے اور دوسری جگہ ہمیشہ جب امام سے علیحدہ ہوکرمسبوقانہ اداکرتاہے توپہلے ابتداء سے شروع کرتاہے یعنی ثناء وفاتحہ وسورۃ شروع کرتاہے کیاوجہ ہے کہ مقیم نماز رباعی میں امام مسافر کے ساتھ مسبوق ہوجائے تو اول خالی دورکعت اداکرے برخلاف ترتیب معمولہ کے، لہٰذا مہربانی فرماکر محض واسطے ثواب کے یہ مسئلہ مسافروالا مفصل معہ حوالہ کتب معتبرہ کے تحریر فرمائیں تاکہ تنازع رفع ہوجائے مگربجز حوالہ کتاب کے تسلی نہ ہوگی کیونکہ ہم نے اس جگہ بہت کتب سے معلوم کیاہے کچھ تسکین نہ ہوئی، اور اگرپہلی خالی دورکعت کواداکرے تو اس میں قعدہ ایک پرکرے یانہ؟ اور قرأت وسجدہ سہو بھی اداکرے یانہ؟ ازجانب نیازمند امیر احمد اگرچہ ظاہرآپ سے ملاقات حاصل نہیں مگرزبانی حافظ ولی اﷲ شاہ صاحب سے آپ کی تعریف سن کرشائق ہوں کہ آپ جیسا شاید ہندوستان میں کوئی عالم حنفی مذہب موجودنہیں، جو مسئلہ حافظ ولی اﷲ شاہ صاحب نے اوپرلکھاہے آپ پوراپورا بعینہٖ حوالہ کتب معتبرہ تحریرفرمائیں تاکہ اطمینان کلی حاصل ہو اور کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے اور دوسرا صرف نیازمند کو یہ شبہہ واقع ہوا ہے کہ مسافر کے ساتھ مقیم نے نماز چہارگانہ میں دوسری رکعت میں آکراقتداء کیا تواب پہلی رکعت جو بعد فراغ امام اٹھ کر پڑھے گا کس طرح پڑھے گا؟ کیونکہ اس کی تین رکعت باقی ہیں اور یہ جورکعت امام کے ساتھ اس نے پائی ہے مقتدی کی کونسی رکعت ہوگی؟ آیا بعموم قاعدہ کے جو رکعت امام کی وہی رکعت مقتدی کی، اس نماز میں تو یہ رکعت امام کی بلحاظ مسافر ہونے کے آخر کی ہے اور مقیم کی دوسری، اب وہ دوسری رکعت میں الحمدوقل پڑھے گایانہیں؟ ہرسہ رکعت میں جیسے قرأت پڑھنی کتب سے ثابت ہو تحریرفرمائیں مکلف اوقات گرامی امیراحمدعفی عنہ مکرر عرض یہ ہے کہ قیاس یہ چاہتاہے کہ جو رکعت امام کی قرأت والی ہے اس کی بھی قرأت والی رکعت اس کے ساتھ ملحق ہوجائے یا کہ پہلی دورکعت وہ اداکرے جوخالی سورۃ والی ہیں فقط بینواتوجروا

الجواب:بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ، ونصلی علی رسولہ الکریم۔(شاہ صاحب کرم فرمااکرمکم اﷲ تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،، حکم مسئلہ جو کہ فقیرغفراﷲ تعالٰی لہ نے بیان کیا صحیح ومطابق کتاب تھا منشا اشتباہ ناظرین یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں یہ مقیم بھی مسبوق ہے اور ہم مسبوق کو دیکھتے ہیں کہ حق قرأت میں اول نماز سے ابتداء کرتاہے، درمختارمیں ہے:المسبوق یقضی اول صلاتہ فی حق قرأۃ۱؎۔مسبوق قرأت کے حق میں اپنی پہلی رکعت تصور کرکے اداکرے گا۔(ت)

 (۱؎ درمختار        باب الامامۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۸۶)

توچاہئے تھا کہ یہ بھی بعد سلام امام رکعت اولٰی ہی اداکرتاجس میں اس کو حکم قرأت ہے مگرانہوں نے یہ خیال نہ فرمایا کہ صورت مسطورہ میں مقیم تنہامسبوق نہیں لاحق بھی ہے دورکعت اخیرہ کی نظر سے لاحق اور اولٰی کے اعتبار سے مسبوق، درمختارمیں ہے:اللاحق من فاتتہ الرکعات کلہا اوبعضھا بعد اقتدائہ کمقیم ائتم بمسافر ۱ ؎۔لاحق وہ ہوگا جس کی اقتداء کے بعد تمام یابعض رکعات(امام سے ) رہ گئی ہوں جیسا کہ وہ مقیم جس نے مسافر کی اقتداء کی۔(ت)

(۱؎ درمختار        باب الامامۃ        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱ /۸۶)

ردالمحتارمیں ہے:ای فھولاحق بالنظر للاخیرتین وقد یکون مسبوقا کما اذا فاتہ اول صلاۃ امامہ المسافر ۲؎ط۔یعنی وہ آخری رکعتوں کے لحاظ سے لاحق ہے اور کبھی مسبوق بھی ہوسکتاہے جب مسافر امام کے ساتھ اس کی پہلی رکعت رہ گئی ہوط۔(ت)

 (۲؎ ردالمحتار        باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۴۰)

اور مسبوق لاحق کو یہی حکم ہے کہ پہلے دورکعت بے قرأت اداکرے جن میں لاحق ہے ان سے فارغ ہوکر رکعت مسبوق بہاکی قضاء باقرأت کرے۔درمختارمیں ہے:اللاحق یبدأ بقضاء مافاتہ بلاقرأۃ ثم ماسبق بہ بھا ان کان مسبوقا ایضا۳؎۔ (ملخصا)لاحق پہلے بغیر قرأت کے فوت شدہ اداکرے اور اگرمسبوق بھی ہوتو اس کے بعد وہ پڑھے جس میں مسبوق ہوا(یعنی اول رکعت جوباقی تھی اس کو قرأت کے ساتھ پڑھے)۔(ت)

 ( ۳؎ درمختار        باب الامامۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۸۶)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article مسبوق التحیات کے بعد آخری رکعت میں کیا پڑھتا رہے؟ اگر امام کا وضو ٹوٹ جائے تو مقتدی کیا کریں؟ Next article
Rating 2.69/5
Rating: 2.7/5 (284 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu