• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > اکیلا نمازی بلند آواز سے تکبیر کہے تو نماز ہوگی؟

اکیلا نمازی بلند آواز سے تکبیر کہے تو نماز ہوگی؟

Published by Admin2 on 2012/8/24 (1516 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ ۹۶۴: ازکلکتہ نل موتی گلی نمبر۱۸ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب۲۱ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں اکثرلوگ بے پڑھے نمازظہروعصرومغرب وعشاکے فرض تنہا پـڑھنے کی حالت میں تکبیرات انتقالیہ بجہر اس غرض سے کہتے ہیں کہ دوسرے نمازی معلوم کرلیں کہ یہ شخص فرض پڑھتاہے اور شریک ہوجائیں اس صورت میں جہر کے ساتھ تکبیرکہنے سے نمازمیں فساد ہوتاہے یانہیں؟ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص نمازپڑھ رہاہے دوسراشخص آیا اورمنتظراس امرکاہے کہ یہ نمازی بجہرتکبیر کہے تو میں شریک ہوجاؤں، چنانچہ اس نے اس کی اطلاع کی غرض سے تکبیرجہر کے ساتھ کہ اس صورت نماز فاسد ہوگی یاصحیح؟ بینواتوجروا۔

الجواب

دونوں صورتوں میں اگرنمازیوں نے اصل تکبیرات انتقال بہ نیت ادائے سنت وذکرالٰہی عزوجل ہی کہیں اور صرف جہربہ نیت اطلاع کیا تونماز میں کچھ فسادنہ آیا، ردالمحتارمیں ہے:وقال فی البحر ومما الحق بالجواب مافی المجتبی لوسبح اوھلل یرید زنجرا عن فعل اوامرابہ فسدت عندھما ۱ھ قلت والظاھر انہ لولم یسبح ولکن جھر بالقراء ۃ لاتفسد لانہ قاصد للقرائۃ وانما قصد الزجر اوالامربمجرد رفع الصوت تأمل ۱؎۱ھ۔بحرمیں ہے کہ ان چیزوں میں سے جن کا جواب سے تعلق ہے وہ ہیں جو مجتبٰی میں ہیں اگرمقتدی نے سبحان اﷲ کہا یا ؎ لاالٰہ الااﷲ کہا اور اس سے مقصد کسی عمل پر زجریاکسی عمل کا حکم تھا توان دونوں (طرفین) کے نزدیک نمازفاسد ہوجائے گی۱ھ میں کہتاہوں ظاہریہی ہے کہ اگر اس نے سبحان اﷲ نہیں کہا لیکن قرأت بلندآواز سے کی تو نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ اس سے مقصد قرأت ہے اور آواز کی بلندی کے ذریعے توصرف زجریا حکم مقصود ہے تأمل ۱ھ(ت)

 (۱؎ ردالمحتار    باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۵۹)

اور شک نہیں کہ واقعایسا ہی ہوتاہے نہ یہ کہ نفس تکبیرہی سے ذکروغیرہ کچھ مقصودنہ ہو صرف بغرض اطلاع بہ نیت مذکورہ کہی جاتی ہو، ہاں اگرکوئی جاہل اجہل ایساقصد کرے تو اس کی نمازضرور فاسد ہوجائے گیعلی قول الامام والامام محمد خلافا للامام ابی یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ (یہ امام اعظم اور امام محمدکے قول کے مطابق ہے بخلاف امام ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے۔ت)اقول وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت) تحقیق مقام یہ ہے کہ ان مسائل میں حضرات طرفین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے نزدیک اصل یہ ہے کہ نمازی جس لفظ سے کسی ایسے معنی کا افادہ کرے جو اعمال نماز سے نہیں وہ کلام ہوجاتا اور مفسد نماز قرارپاتا ہے اگرچہ لفظہ فی نفسہٖ ذکر الٰہی یا قرآن ہی ہو اگرچہ اپنے محل ہی میں ہو، مثلاً کسی موسٰی نامی شخص سے نمازی نے کہا:ماتلک بیمینک یاموسٰی (اے موسٰی!تیرے تھ میں کیاہے؟ نماز جاتی رہی، اگرچہ یہ الفاظِ آیہ کریمہ ہیں۔ یا التحیات پڑھ رہاتھا جب کلمہ تشہد کے قریب پہنچا مؤذن نے اذان میں شہادتیں کہیں اس نے نہ بہ نیت قرأت تشہد بلکہ بہ نیت اجابت مؤذناشھد ان لاالٰہ الا اﷲ واشھد ان محمداً عبدہ، ورسولہ،کہا نمازجاتی رہی، اگرچہ یہ ذکر اپنے محل ہی میں تھا۔ بحرالرائق میں ہے:اذا ذکر فی التشھد الشھادتین عند ذکر المؤذن الشھادتین تفسد ان قصد الاجابۃ ۱؎۱ھجب دورانِ تشہد شہادتین کاذکر مؤذن کے ذکرِ شہادتین کے موقع پرکرتاہے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ اگراذان کاجواب مقصود ہو۱ھ(ت)

 (۱؎ بحرالرائق        باب ما یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ ایچ اہم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۶)

مگرجبکہ ایسا قصد بضرورت اصلاح نماز ہو جیسے مقتدیوں کاامام کوبتانا یا اس کے جواز میں خاص نص آگیا ہو جیسے کوئی دروازے پر آواز دے یہ نماز پڑھتاہو اس کو مطلع کرنے کے لئےسبحان اﷲ یا لاالٰہ الااﷲ یا اﷲ اکبرکہے توصرف ان صورتوں میں نماز نہ جائے گی اور ان کے ماوراء میں مطلقاً اسی اصل کلی پر عمل ہو کر فساد نماز کاحکم دیاجائے گا۔ فتح القدیرمیں ہے:قلنا خرج قصد اعلام الصلاۃ بقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذنابت احدکم نائبۃ وھو فی الصلاۃ فلیسبح الحدیث اخرجہ الستۃ لالانہ لم یتغیر بعزیمتہ کما لم یتغیر عند قصد اعلامہ فان مناط کونہ من کلام الناس کونہ لفظا افید بہ معنی لیس من عمال الصلاۃ لاکونہ وضع لافادۃ ذٰلک فیبقی ماوراء ہ علی المنع۲؎ الخ  قلت وقد اوضحنا المسألۃ بنقولھا فیما تقدم من فتاوٰنا۔ہم کہتے ہیں کہ نماز میں اصلاح کاقصد، حضورعلیہ السلام کے ارشاد مبارک کہ ''جب کسی کو نماز میں کوئی واقعہ پیش آجائے تو وہ تسبیح کہے'' کے تحت اس حکم سے خارج ہے۔ اس حدیث کو صحاح ستّہ نے بیان کیاہے اس لئے نہیں کہ اس میں تبدیلی بالارادہ نہیں کیونکہ لوگوں کے کلام میں سے ہونے کامدار اس پر ہے کہ وہ الفاظ ہوں جو ایسے معانی کا فائدہ دیں جو اعمال نماز میں سے نہیں، نہ کہ وہ الفاظ ان معانی کے افادہ کے لئے موضوع ہوں لہٰذا اس کے علاوہ ممنوع ہی رہیں گے الخ قلت ہم نے اس مسئلہ کو سابقہ گفتگو میں خوب واضح کیاہے۔(ت)

 (۲؎ فتح القدیر    باب ما یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۳۴۹)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article امام قعدہء اولیٰ میں دیر لگائے تو اسے یاد کروائیں امام نے آیت دورد پڑھی، مقتدی نے درود پڑھ دیا تو؟ Next article
Rating 2.77/5
Rating: 2.8/5 (306 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu