• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Taharat / Purity / کتاب الطہارت > پانی مکروہ کس طرح سے ہوتا ہے

پانی مکروہ کس طرح سے ہوتا ہے

Published by Admin2 on 2012/2/25 (1244 reads)

New Page 1

مسئلہ ۴۰: ازموضع موہن پور تھانہ وڈاک خانہ دیورنیا مسئولہ محمد شاہ بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ پانی مکروہ کس کس طرح سے ہوجاتا ہے بینوا توجروا۔

الجواب : عوام میں یہ مشہور ہے کہ بے وضو کا ناخن ڈوبنے سے پانی مکروہ ہوجاتا ہے اور مسئلہ ہے یوں کہ بے وضو کے اعضائے وضو میں جو کوئی بے دُھلا حصّہ سر کے سوا آبِ قلیل سے بے ضرورت مس کرے گا وہ پانی قابل وضو نہ رہے گا اور اس کا پینا مکروہ۔اسی طرح بلّی اور چھوٹی ہوئی مرغی اور حشرات الارض دموی جیسے سانپ، گرگٹ، چھپکلی، چُوہے، گھونس، چھچھوندر اور شکاری پرندوں جیسے باز، جرے، شکرے، بہری نیز چیل،کوّے اور ان کے امثال جانوروں کا جوٹھا بھی مکروہ ہے جو نجاست سے پرہیز نہیں کرتے جبکہ نہ بالفعل نجاست معلوم ہو جیسے بلّی نے اُسی وقت چوہا کھایا اور ہنوز اتنی دیر نہ گزری کہ لعاب سے لب و زبان صاف ہوجائے کہ اس صورت میں اُس کا جوٹھا مکروہ نہیں بلکہ نجس ہے نہ طہارت معلوم ہو جیسے بند مرغی کہ نجاست کے پاس جانے نہیں پاتی یا شکاری پرند جسے پاک گوشت کھلایا جاتا ہے اور مدت سے اُس نے شکار نہ کیا کہ اس صورت میں اس کاجوٹھا بلاکراہت پاک ہے نیز اجنبی عورت کا پیا ہوا پانی پینا مرد کو اور اجنبی مرد کا عورت کو بھی مکروہ ہے جبکہ مظنہ لذت نفسانی ہو نورالایضاح ومراقی الفلاح میں ہے:

الماء (طاھر مطھر مکروہ) استعمالہ تنزیھا علی الاصح وھو ماشرب منہ الھرۃ الاھلیۃ اذ الوحشیۃ سؤرھا نجس (ونحوھا) ای الاھلیۃ الدجاجۃ المخلاۃ وسباع الطیر والحیۃ والفأرۃ لانھا لاتتحامی عن النجاسۃ ۱؎۔

پانی (طاہر مطہر مکروہ ہے) اس کا استعمال مکروہ تنزیہی ہے،اصح یہی ہے ،یہ وہ پانی ہے جس سے بلّی نے پیا ہو یعنی پالتو بلّی نے،کیونکہ جنگلی بلّی کا پانی نجس ہے (اور اسی کی مثل) یعنی پالتو بلّی کی طرح کھُلی پھرنے والی مرغی، شکاری پرندے، سانپ اور چوہا کیونکہ وہ نجاست سے نہیں بچتی ہے۔ (ت)

 (۱؎ مراقی الفلاح    کتاب الطہارت    مطبع الامیر ببولاق مصر    ص۱۳)

حاشیہ طحطاویہ میں ہے:قولہ نجس ای اتفاقا لماورد السنور سبع فان المراد بہ البری ۲؎ اھاس کا، قول نجس یعنی اس پر اتفاق ہے کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ بلّی درندہ ہے، اس سے مراد جنگلی بلّی ہے اھ (ت)

 (۲؎ حاشیہ طحطاوی کتاب الطہارت    مطبع الامیر ببولاق مصر    ص۱۳)

اقول: ھذا عجب(۱) بل کان الکلام فی الاھلی کما فی الحدیث وقد بیناہ مع الکلام علیہ فی سلب الثلب نعم نجاستہ مصرح بھا فی جامع الرموز معزیا للکشف ونص فی الدر المختار انہ نجس مغلظ فالکلام فی التعلیل۔

میں کہتا ہوں یہ عجیب بات ہے گفتگو گھریلو بلّی میں تھی جیسا کہ حدیث میں ہے،ہم نے اس کو پوری بحث کے ساتھ ''سلب الثلب'' میں بیان کیا ہے، ہاں اس کی نجاست جامع الرموز میں مصرح ہے،اس کو کشف کی طرف منسوب کیا ہے، اور درمختار میں صراحت ہے کہ وہ نجاست غلیظہ ہے، تو گفتگو تعلیل میں ہے۔ (ت)

تین قسم کے پانی مکروہ ہوئے:

۱۔ مائے مستعمل یہ ہمیشہ مکروہ ہے،

۲۔ اور اجنبی کاجوٹھا، صرف بحالت لذّت،

۳۔ اور ان جانوروں کا جھوٹا جبکہ صاف پانی موجود ہو ورنہ نہیں۔

درمختار میں ہے: سؤرھرۃ ودجاجۃ مخلاۃ وسباع طیرلم یعلم ربھا طھارۃ منقارھا وسواکن بیوت طاھر مکروہ تنزیھا فی الاصح اذوجد غیرہ والالم یکرہ اصلا ۱؎۔

بلّی کا جھُوٹا، کھلی مرغی، پرندوں کے درندوں کا جوٹھا، جن کے بارے میں مالک کو معلوم نہیں کہ ان کی چونچ پاک ہے، گھر میں رہنے والے جانوروں (چوہا، چھپکلی وغیرہ) کا جوٹھا اصح قول کے مطابق مکروہ تنزیہی ہے یہ اس وقت ہے جبکہ دوسرا پانی موجود ہو ورنہ کراہت بھی نہ ہوگی۔ (ت)

 (۱؎ درمختار    فصل فے البئر    مجتبائی دہلی        ۱/۴۰)

جو جانور دموی نہیں یعنی خون سائل نہیں رکھتے خواہ حشرات الارض سے ہوں یا نہیں جیسے بچھو، مکھی، زنبور اور تمام دریائی جانور اُن کاجوٹھا مکروہ بھی نہیں۔ درمختار میں ہے:سؤر مالادم لہ طاھر طھور بلاکراھۃ ۲؎۔جس جانور میں خُون نہ پایا جاتا ہو اس کا جُھوٹا بلاشبہ طاہر وطہور ہے بلاکراہت۔ (ت)

 (۲؎ درمختار    فصل فے البئر    مجتبائی دہلی        ۱/۴۰)

ردالمحتار میں ہے:سواء کان یعیش فی الماء اوفی غیرہ ط عن البحر ۳؎۔عام ازیں کہ وہ پانی میں رہتا ہو یا نہ رہتا ہو، ط عن البحر۔ (ت)

 (۳؎ ردالمحتار  فصل فے البئر      مصطفی البابی مصر    ۱/۱۶۳)

اُسی میں زیرِ قول شارح وسواکن بیوت فرمایا۔ای ممالہ دم سائل کالفأرۃ والحیۃ والوزغۃ بخلاف مالادم لہ کالخنفس والصرصر والعقرب فانہ لایکرہ کمامرو تمامہ فی الامداد ۱؎ اھ۔

یعنی وہ جانور جن میں بہنے والا خون ہو جیسے چُوہا، سانپ، چھپکلی۔ بخلاف ان جانوروں کے جن میں خون نہ ہو جیسے خنفس (ہشت پا) صرصر (جھینگر، مجیرا) بچھّو، کیونکہ یہ مکروہ نہیں، جیسا کہ گزرا، اور مکمل بحث امداد میں ہے۔ ت

 (۱؎ ردالمحتار        فصل فے البئر    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۶۳)

اقول: فلایتجہ(۱) مازعم فی جامع الرموز من کراھۃ سؤر العقرب بالاتفاق ولم یعزہ لاحد واللّٰہ تعالی اعلم۔میں کہتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ جامع الرموز میں ہے کہ بچھّو کا جُوٹھا مکروہ ہے بالاتفاق، اسکی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی، اس کو انہوں نے کسی کی طرف منسوب نہیں کیا واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)


Navigate through the articles
Previous article دہ در دہ حوض کی پیمائش کا بیان نامحرم عورت اپنے مرشد کا جوٹھا پی سکتی ہے؟ Next article
Rating 2.91/5
Rating: 2.9/5 (258 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu