• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > کیا سماعت قرآن مجید کابھی کوئی منصب مقرر ہے؟

کیا سماعت قرآن مجید کابھی کوئی منصب مقرر ہے؟

Published by Admin2 on 2012/8/24 (1999 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ ۹۶۷ :از میرٹھ لال کرتی کوٹھی حافظ عبدالکریم صاحب مرسلہ مولوی محمداحسان الحق صاحب ۲۷/رمضان ۱۳۲۹ھ۔

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں: (۱) زید ایک مسجد کا امام تراویح میں قرآن مجید سناتاہے عمرو اسی مسجد کا مؤذن۔ مہتممان مسجد کی طرف سے زیدکاسامع مقررکیاگیاہے، محمودایک تیسراشخص ہے جو ہمیشہ یاکبھی کبھی اسی مسجد میں زیدکے پیچھے تراویح پڑھاکرتاہے اگرمحمود کے خیال میں زید(امام) نے کچھ غلط پڑھا اورعمرومقررکیا ہوا سامع سہواً یاعمداً خاموش رہا یا یہ کہ زیدنے صحیح پڑھا اور عمرونے سہواً یا عمداً غلط بتایا یا یہ کہ زید نے غلط پڑھا اور عمرونے بھی سہواً یاعمداً غلط بتایا تو ان تینوں صورتوں میں محمود شخص ثالث کوغلطی کی تصحیح کا اگرچہ وہ غلطی مفسدنماز نہ ہو حق حاصل ہے یا نہیں اور ایسی تصحیح اس کو حالت قرأت میں کرنی چاہئے یا بعد اختتام نماز کے وجوباً کرنی چاہئے یااختیاراً۔ قرآن مجید کے غلط پڑھے جانے کے غالب گمان ہونے کی حالت میں محمودکی خاموشی اس کے لئے گنہگار ہ ہونے کا باعث ہوگی یانہیں؟

 (۲) شرع شریف میں امامت اور مؤذن کی طرح سماعت قرآن مجید کابھی کوئی منصب مقرر ہے یانہیں یعنی آیا یہ بات شرعاً جائز ہے کہ کوئی شخص قرآن مجید سننے کے لئے کسی طرف سے ایسا سامع مقررکیاجائے جس کی بلااجازت واذن دوسراشخص امام کو فتح نہ کرسکے۔ کسی مہتمم مسجد کا ایک ایسی بات کو جوشرعاً مستحسن واولٰی یاواجب ہواپنے ذاتی رسوخ اور تمکنت اور اعلٰی شخصیت کی وجہ سے حکماً بند کردینا یعنی درصورت خلاف ورزی حکم کے خلاف کرنے والے کو مسجد سے نکلوادینا یا آئندہ اس مسجدمیں نماز نہ پڑھنے کی ہدایت کرنا یا اور تشدد کرناشرعاً واخلاقاً کیسا ہے خصوصاً اس حالت میں کہ جس فعل کے ارتکاب سے دوسروں کو تشدد کے ساتھ روکاجاتاہو خود مانع اس کو انہیں تغیر کے ساتھ متعدد بارکرچکاہو۔ بیّنواتوجروا۔

الجواب

امام جب ایسی غلطی کرے جوموجب فسادنماز ہو تو اس کا بتانا اور اصلاح کرانا ہرمقتدی پرفرض کفایہ ہے ان میں سے جوبتادے گا سب پر سے فرض اُترجائے گا اور کوئی نہ بتائے گا توجتنے جاننے والے تھے سب مرتکب حرام ہوں گے اور نماز سب کی باطل ہوجائے گی،وذٰلک لان الغلط لما کان مفسدا کان السکوت عن اصلاحہ ابطالا للصلاۃ وھو حرام بقولہ تعالٰی ولاتبطلوا اعمالکم ۱؎ ۔وجہ یہ کہ غلطی جب مفسد ہو تو اس کی اصلاح کرنے پرخاموشی، نماز کے بطلان کا سبب ہے اور اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد مبارک کی وجہ سے حرام ہے کہ ''تم اپنے اعمال کو باطل نہ کرو''۔ (ت)

 ( ۱؎ القرآن    ۴۷ /۳۳)

اور ایک کابتانا سب پر سے فرض اس وقت ساقط کرے گا کہ امام مان لے اور کام چل جائے ورنہ اوروں پربھی بتانا فرض ہوگا یہاں تک کہ حاجت پوری اور امام کو وثوق حاصل ہو، بعض دفعہ ایسا ہوتاہے کہ ایک کے بتائے سے امام کا اپنی غلط یاد پر اعتماد نہیں جاتااور وہ اس کی تصحیح کو نہیں مانتا اور اس کامحتاج ہوتا ہے کہ متعدد شہادتیں اس کی غلطی پر گزریں تو یہاں فرض ہوگا کہ دوسرا بھی بتائے اور اب بھی امام رجوع نہ کرے تو تیسرا بھی تائید کرے یہاں تک کہ امام صحیح کی طرف واپس آئے،وذٰلک لان الاصلاح ھھنا فرض و مالایتم الفرض الابہ فھو فرض اقول ونظیرہ ان الشھادۃ فرض کفایۃ فان علم الشاھد انہ اسرع قبولا عند القاضی وجب علیہ الا داء عینا و ان کان ھناک من تقبل شھادتہ ۲؎ کما فی الخانیۃ والفتح والوھبانیۃ و البحر والدر وغیرھا۔اس لئے کہ یہاں اصلاح فرض ہے اور ہروہ چیز جس کے بغیر فرض مکمل نہ ہو وہ فرض ہوتی ہے اقول اس کی نظیر گواہی ہے جو فرض کفایہ ہے اگرکوئی گواہ جانتا ہے کہ اس کی گواہی قاضی کے ہاں زیادہ مقبول ہے تو اس پر ادائیگی شہادت لازم ہے اگرچہ وہاں ایسے گواہ ہوں جن کی گواہی قبول کی جاسکتی ہو خانیہ، فتح، وہبانیہ، بحر اور در وغیرہ۔(ت)

 (۲؎ بحرالرائق    کتاب الشہادات    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۷ /۵۷،۵۸)

اورا گر غلطی ایسی ہے جس سے واجب ترک ہو کر نماز مکروہ تحریمی ہو تو اس کا بتانا ہرمقتدی پر واجب کفایہ ہے اگر ایک بتادے اور اس کے بتانے سے کاروائی ہوجائے سب پر سے واجب اترجائے ورنہ سب گنہگار رہیں گے،فان قیل لہ مصلح اٰخر وھو سجود السہو فلایجب الفتح عینا قلت بلی فان ترک الواجب معصیۃ وان لم یاثم بالسھو و دفع المعصیۃ واجب ولایجوز التقریر علیہا بناء علی جابر یجرھا کمالایخفی۔اگریہ کہاجائے کہ یہاں اصلاح کی دوسری صورت، بصورتِ سجدہ سہو موجود ہے تویہاں لقمہ دینا واجب نہ ہوگا، قلت کیوں نہیں، کیونکہ ترک واجب گناہ ہے اگرچہ امام سہو سے گناہگار نہیں ہوتا، اور گناہ سے بچناضروری ہے تومعصیت پراثبات اس لئے کہ کسی دوسرے سے اس کا ازالہ کرلیاجائے گا جائزنہیں جیسا کہ ظاہر ہے۔(ت)

اور اگر اس غلطی میں نہ فساد نماز ہے نہ ترک واجب، جب بھی ہرمقتدی کومطلقاً بتانے کی اجازت ہے ۱؎ ھو الصحیح کما نص علیہ فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر (یہی صحح ہے جیسا کہ اس پر دروغیرہ میں تصریح ہے۔ت)

 (۱؎ درمختار     باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۹۰)

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article اکیلا نمازی بلند آواز سے تکبیر کہے تو نماز ہوگی؟ امام کو کئی لوگ لقمہ دیں تو وہ کیا کرے؟ Next article
Rating 2.74/5
Rating: 2.7/5 (297 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu