• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > امام کو کئی لوگ لقمہ دیں تو وہ کیا کرے؟

امام کو کئی لوگ لقمہ دیں تو وہ کیا کرے؟

Published by Admin2 on 2012/8/24 (984 reads)

New Page 1

مسئلہ ۹۶۹ :از میرٹھ لال کرتی بازار مرسلہ حاجی شیخ علاء الدین صاحب رئیس ۲۵/ربیع الآخر شریف ۱۳۳۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایک امام مسجد میں تراویح پڑھاتاہے اور ایک سامع حافظ بھی اس کی تصحیح کے واسطے مقرر ہے امام اس کی تصحیح سے فائدہ اٹھاتاہے اب کوئی حافظ بھی امام کو اپنے خیال کے موافق لقمہ دیتاہے جوکبھی غلط اور کبھی صحیح ثابت ہوتاہے اور ایسا بھی ہوتاہے کہ سامع اپنی یادداشت کے موافق اس دوسرے بتانے والے کی تردید بھی کرتاہے اور امام اس شش وپنج میں پڑجاتاہے کہ کس کاقول ماناجائے غرض کہ امام کوکئی شخصوں کے لقمہ دینے سے اور زیادہ شکوک پیداہوتے ہیں اور پریشان ہوکرمعمول سے زیادہ غلطی کرنے لگتاہے، چنانچہ یہ بات بارہاتجربہ سے ثابت ہوچکی ہے، علاوہ ازیں اکثرنوجوان ایسے ہوتے ہیں جومحض اپنی یادجتانے کے واسطے ذراذرا شبہے پرلقمہ دیتے ہیں اور قاری کوپریشان کرتے ہیں اور بعض اوقات امام اور نئے بتانے والے میں غلط بتانے پر جھگڑا بھی ہوتاہے اور قاری ملامت کرتاہے کہ کیوں غلط بتایا جس کے باعث نماز میں بے لطفی پیدا ہوتی ہے، ان امور پر لحاظ فرماکر علمائے کرام اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اور حفّاظ بعد سلام اپنے شکوک کااظہارفرمائیں اگرفی الواقع وہ غلطی نکلے گی اور اس کی وجہ سے نماز میں نقصان کچھ واقع ہوگا تونماز دہرالی جائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ فقط کراہت کی وجہ سے نماز دہرائی جائے؟ ایسی صورتوں میں ان حفاظ کو باوجود اپنے شک کے کہ قاری غلط پڑھتاہے سکوت کرنے میں کچھ گناہ تولازم نہیں آتا خصوصاً ایسی صورت میں کہ جب ان کو ایسے شبہات کے موقع پر جس سے نماز میں قطعاً فسادپیداہوتاہو، بولنے کی اجازت بھی دے دی جائے کیونکہ اگرحافظ عالم بھی ہو تو ایسے فساد معنی پراس کوکماحقہ آگاہی ہوجائے گی اور ایسے مواقع میں شبہۃً نہیں بلکہ یقینا اس کو معلوم ہوتاہے کہ یہ موقع فسادنماز کاہے بیّنواتوجروا

الجواب

یہاں چندامور ہیں جن کے علم سے حکم واضح ہوجائے گا:

(۱) امام کوفوراً بتانامکروہ ہے، ردالمحتارمیں ہے:یکرہ ان یفتح من ساعتہ۱؎ (فی الفور لقمہ دینا مکر وہ ہے۔ت)

 ( ۱؎ ردالمحتار        مطلب المواضع التی لایجب فیہا ردالسلام        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۶۲۳)

ہاں اگر وہ غلطی کرکے رواں ہوجائے تو اب نظر کریں اگر غلطی مفسد معنی ہے جس سے نماز فاسد ہوتو بتانا لازم ہے اگرسامع کے خیال میں نہ آئی ہرمسلمان کاحق ہے کہ بتائے کہ اس کے باقی رہنے میں نماز کافساد ہے اور دفع فسادلازم اور اگرمفسدِمعنی نہیں توبتاناکچھ ضرورنہیں بلکہ نہ بتاناضرور ہے جبکہ اس کے سبب امام کو وحشت پیدا ہوفان الامر بالمعروف یسقط بالایحاش کما فی الفتاوی العلمگیریۃ وغیرھا(وحشت پیدا کرنے والا امربالمعروف ساقط ہوجاتاہے جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری وغیرہ میں ہے۔ت) بلکہ بعض قاریوں کی عادت ہوتی ہے کہ غیرشخص کے بتانے سے اور زیادہ اُلجھ جاتے اور کچھ حروف اس گھبراہٹ میں اُن سے ایسے صادر ہوجاتے ہیں جس سے نماز فاسد ہوتی ہے اس صورت میں اوروں کاسکوت لازم ہے کہ اُن کا بولنا باعث فساد نماز ہوگا۔

 (۲) قاری کوپریشان کرنے کی نیت حرام ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:بشرواولاتنفروا ویسروا ولاتعسروا ۱؎۔لوگوں کو خوشخبریاں سناؤ نفرت نہ دلاؤ، آسانی پیداکرو تنگی نہ کرو۔(ت)

 ( ۱؎ صحیح البخاری    باب ماکان علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم یتخولہم بالموعظۃ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۶)

اور بیشک آج کل بہت حفاظ کایہ شیوہ ہے یہ بتانا نہیں بلکہ حقیقۃً یہود کے اس فعل میں داخل ہےلاتسمعوا لھذا القراٰن والغوافیہ۲؎(اس قرآن کونہ سنو اس میں شور ڈالو۔ت)

 ( ۲؎ القرآن        ۴۱ /۲۶ )

 (۳) اپنا حفظ جتانے کے لئے ذراذرا شبہ پرروکنا ریاء ہے اور ریاء حرام ہے خصوصاً نمازمیں۔

(۴) جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو تومحض شبہ پر بتاناہرگزجائزنہیں بلکہ صبر واجب، بعد سلام تحقیق کرلیاجائے، اگرقاری کی یادصحیح نکلے فبہا اور ان کی یادٹھیک ثابت ہوئی توتکمیل ختم کے لئے حافظ اتنے الفاظ کااور کسی رکعت میں اعادہ کرلے گا حرمت کی وجہ ظاہر ہے کہ فتح حقیقۃً کلام ہے اور نماز میں کلام حرام ومفسدنماز، مگر بضرورت اجازت ہوئی جب اسے غلطی ہونے پرخودیقین نہیں تو مبیح میں شک واقع ہوا اور محرم موجود ہے لہٰذا حرام ہو ا جب اسے شبہ ہے توممکن کہ اسی کی غلطی ہو اور غلط بتانے سے اس کی نمازجاتی رہے گی اور امام اخذ کرے گا تو اس کی اور سب کی نمازفاسد ہوگی۔ توایسے امرپراقدام جائزنہیں ہوسکتا۔

 (۵) غلطی کامفسدمعنی ہونامبنائے افسادنماز ہے ایسی چیز نہیں جسے سہل جان لیاجائے، ہندوستان میں جو علماء گنے جاتے ہیں ان میں چند ہی ایسے ہوسکیں کہ نماز پڑھتے میں اس پرمطلع ہوجائیں ہزارجگہ ہوگا کہ وہ افساد گمان کریں گے اور حقیقۃً فساد نہ ہوگا جیسا کہ ہمارے فتاوٰی کی مراجعت سے ظاہرہوتاہے۔ ان امور سے حکم مسئلہ واضح ہوگیا، صورت فساد میں یقینا بتایاجائے ورنہ تشویش قاری ہو تونہ بتائیں اور خود شبہ ہو تو بتانا سخت ناجائز، اور جو ریاء وتشویش چاہیں اُن کو روکاجائے نہ مانیں تو اُن کومسجد میں نہ آنے دیاجائے کہ موذی ہیں اور موذی کادفع واجب۔

درمختارمیں ہے:ویمنع کل موذ ولوبلسنانہ ۱؎ (ہر ایذادینے والے کومسجد سے منع کیاجائے گا اگرچہ وہ زبان سے ایزادے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔

 ( ۱؎ الدرالمختار        باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱ /۹۴)


Navigate through the articles
Previous article امام نے آیت دورد پڑھی، مقتدی نے درود پڑھ دیا تو؟ دوسری جماعت میں شامل ہونا ہو تو کیا نیت کی جائے؟ Next article
Rating 2.80/5
Rating: 2.8/5 (296 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu