• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Taharat / Purity / کتاب الطہارت > پانی کی مساحت کی تفصیل

پانی کی مساحت کی تفصیل

Published by Admin2 on 2012/2/26 (1178 reads)

New Page 1

مسئلہ ۴۳: ازکوٹارمپورہ عقب موچی کٹرہ مکان چاند خان دفعدار مرسلہ شیخ ممتاز علی بیکل منگلوری سرویر محکمہ جنگلات کوٹا۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین سوالاتِ ذیل کے جواب میں خداوند کریم آپ کو اجرِ عظیم اور سائل کو صراطِ مستقیم عطا فرمائے۔

عمرو وزید دو شخص ہیں عمرو سے کسی نے دریافت کیا کہ یہ چاہ جو سامنے موجود ہے اس کا پانی قابلِ وضو اور نیز دیگر استعمال کے ہے یا نہیں؟عمرو نے جواب دیاکہ بنا بررفعِ شک چاہ کو ناپ لیا جائے چنانچہ وہ کُنواں ناپا گیا تو لمبائی ۲/۱ -۱۱ ہاتھ اور چوڑائی ۲/۱ -۹ ہاتھ گہرائی ۳ ہاتھ ہوئی جو برابر ہے ۷۵ع ۳۲۷ ہاتھ کے مگر زید اس کو ۴۲ ہاتھ بتلا کر اس کے پانی سے وضوناجائز بتلاتا ہے اورپانی ہذا کو قابلِ استعمال نہیں بتلاتا لیکن عمرو نے اسی چاہ سے وضو کیا اور زید نے عمرو کے پیچھے نماز پڑھی لہٰذا التماس ہے کہ اس پانی کا استعمال موافق شرع شریف جائز ہے یا نہیں اور زید کی نماز اس صورت میں عمرو کے پیچھے ہوئی یا نہیں؟

نوٹ:اس چاہ میں پانی کی اس قدر آمد ہے کہ اگرچر س بند کردیا جائے جو دن بھر پانی کھینچتا ہے تو چاہ لبریز ہو کہ زائد پانی ایک راستہ سے خارج ہو کر چند روز میں دو سو فیٹ لمبے اور پچاس فیٹ چوڑے بند کو جس کی گہرائی بھی ۳ فیٹ سے کم نہیں لبریز کردیتا ہے۔یہ پانی مویشی پیتے ہیں یہ تو موسم سرما کی حالت ہے اور موسم گرما میں چرس چلے یا نہ چلے کنویں سے پانی باہر نہیں آتاالبتہ جس قدر کنواں خالی ہوجاتا ہے وقت چرس چلنے کے اُتنا ہی رات کو پھر کنویں میں پانی آجاتا ہے ماسوا اس کے پہاڑی علاقہ ہونے کے سبب ایسے کنویں قلیل ہیں کہ جن کاپانی ڈول وغیرہ سے کھینچا جائے ورنہ عام کنویں زینہ دار ہیں تمام لوگ اندر جا کر پانی پیتے اور بھرتے ہیں بلکہ نہانا اور عام طور پر کپڑے وغیرہ دھونے کا عام رواج ہے،ہاں بعض موقع پر ایسا بھی رواج ہے کہ جس کنویں کے اندر نہاتے ہیں اُس کا پانی نہیں پیتے۔

الجواب: پانی میں فقط اُس کی سطح بالا کی پیمائش معتبر ہے عمق کا اصلاً لحاظ نہیں اگر اوپر کی سطح مثلاً ایک ہاتھ مربع ہے اور ہزار ہاتھ گہرا ہے تو وہ ایک ہی ہاتھ قرار پائے گا اور سطح سو ہاتھ ہے اور فقط نصف ہاتھ گہرا ہے تو وہ پورا سو ہاتھ ٹھہرے گا نہ کہ پچاس۔ عمق صرف اتنا ہونا چاہئے کہ لپ میں پانی لینے سے زمین نہ کُھلے لہٰذا چاہ مذکور کی مساحت ۲۵ء۱۰۹ ہاتھ ہے نہ ۷۵ء ۳۲۷ بہرحال شک نہیں کہ وہ مائے کثیر ہے اُس سے وضو وغسل اور اُس میں کپڑے دھوناسب جائز ہے وہ نجاست پڑنے سے بھی ناپاک نہ ہوگا جب تک نجاست اس کا رنگ یا مزہ یا بُو نہ بدل دے اُسے ۴۲ ہاتھ کہنا محض بے علمی اور اُس سے وضو وغسل ناجائز بتانا صریح نادانی ہے اور اگر واقع میں اُس کے اعتقاد میں یہی ہے کہ اُس کنویں کے پانی سے وضو نہیں ہوسکتا اور اُس نے عمرو کو اُس سے وضو کرکے نماز پڑھاتے دیکھا اور اپنے اُسی اعتقاد پر قائم رہ کر اُس کی اقتداء کرلی تو زید کی نماز نہ ہوئی کہ اس کے اعتقاد میں امام بے وضو نماز پڑھا رہا ہے بلکہ وہ اس سے بھی سخت تر ہے کہ اس سے نماز کو معاذ اللہ بازیچہ سمجھناپیدا ہوتا ہے والعیاذ باللہ  تعالٰی یہی حکم اُن سب کُنّووں کا ہے جن کے پانی کی سطح بالا۲۲۵ فٹ ہو اُن میں کپڑے دھونا بھی جائز ہے اور اُس سے ناپاک نہ ہوں گے اگرچہ وہ کپڑے ناپاک ہوں جب تک نجاست ان کا رنگ یا بُو یا مزہ نہ بدل دے واللہ  تعالٰی اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article ناپاک نالی سے ہو کر پانی نے حوض بھرا تو؟ وضو نہر سے افضل ہے یا حوض سے Next article
Rating 2.71/5
Rating: 2.7/5 (272 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu