• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > الٹی چادر اوڑھ کر نماز پڑھ لی تو ہو گی؟

الٹی چادر اوڑھ کر نماز پڑھ لی تو ہو گی؟

Published by Admin2 on 2012/8/27 (882 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۰۰۵: ۲۱ذیقعد ۱۳۲۲ھ

اگرکسی شخص نے صبح کی نماز کے وقت جلدی میں غلطی سے یااندھیرے میں اُلٹی دلائی اوڑھ کرنمازپڑھی تو وہ نماز مکروہ تحریمی یاواجب الاعادہ ہوگی یافاسد وغیرہ؟ بیّنواتوجروا۔

الجواب

واجب الاعادہ اورمکروہ تحریمی ایک چیزہے، کپڑا اُلٹا پہننا اوڑھنا خلاف معتاد میں داخل ہے اور خلاف معتاد جس طرح کپڑا پہن یا اوڑھ کر بازارمیں یا اکابر کے پاس نہ جاسکے ضرورمکروہ ہے کہ دربارعزت احق بادب وتعظیم ہے۔واصلہ کراھۃ الصلٰوۃ فی ثیاب مھنۃ قال فی الدر  وکرہ صلٰوتہ فی ثیاب مھنۃ۱؎ قال الشامی وفسرھا فی شرح الوقایۃ بما یلبسہ فی بیتہ ولایذھب بہ الی الاکابر ؎۲۔اصل یہ ہے کہ کام ومشقت کے لباس میں نمازمکروہ ہے درمیں ہے نمازی کاکام کے کپڑوں میں نمازاداکرنامکروہ ہے، شامی نے فرمایا اور اس کی تفسیرشرح وقایہ میں ہے وہ کپڑ جوآدمی گھرپہنتاہے مگران کے ساتھ اکابرکے پاس نہیں جاتا (ت)

 (۱؎ درمختار        باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۱)

(۲؎ ردالمحتار        باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۶۴۱)

اور ظاہر کراہت تنزیہیفان کراھۃ التحریم لابدلھا من نھی غیرمصروف عن الظاھر کماقال ش فی ثیاب المھنۃ والظاھر ان الکراھۃ تنزیھیۃ۳؎۔کیونکہ کراہت تحریمی کے لئے ایسی نہی کاہونا ضروری ہے جوظاہر سے مؤول نہ ہو، جیسا کہ علامہ شامی نے کام کے کپڑوں کے بارے میں کہا کہ ظاہرکراہت تنزیہی ہے۔(ت)

 (۳؎ ردالمحتار    باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی      ۱ /۶۴۱ )

اور اسے سدل میں کہ مکروہ تحریمی اور اس سے نہی وارد، دخل نہیں کہ وہ برلبس خلاف معتاد نہیں بلکہ کپڑا اوپر سے اس طرح سے ڈال لینا کہ دونوں جانبین لٹکتی رہیں مثلاً چادر سریاکندھوں پرڈال لی اور دوبالا نہ مارا یاانگرکھاکندھے پرڈال لیا اور آستین میں ہاتھ نہ ڈالا۴؎کما فی الدروغیرہ (جیسا کہ دروغیرہ میں ہے۔ت)

 (۴؎ درمختار        باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا     مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۱)

اور اگرآستینوں میں ہاتھ ڈالے اور بندنہ باندھے تویہ بھی سدل نہ رہا اگرچہ خلاف معتادضرورہے، ہاں امام ابوجعفرہندوانی نے اس صورت کو مشابہ سدل ٹھہراکر فرمایا کہ براکیا امام ابن امیرالحاج نے حلیہ میں ایک قید اور بڑھائی کہ اگرنیچے کرتا نہ ہو ورنہ حرج نہیں، اور اقرب یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں حرج ہے

قال فی ردالمحتار قال فی الخزائن بل ذکر ابوجعفر انہ لوادخل یدیہ فی کمیہ ولم یشد وسطہ اولم یزرازراہ فھو مسیئ لانہ یشبہ السدل اھ  قلت لکن قال فی الحلیہ فیہ نظر ظاھر  بعد ان یکون تحتہ قمیص اونحوہ ممایستر البدن۱؎اھردالمحتار میںہے کہ خزائن میں ہے بلکہ ابوجعفر نے ذکر کیا کہ اگرنمازی نے اپنے بازؤوں کوآستینوں میں داخل کردیا اور درمیان کو نہیں باندھا یا اس نے اس کے بٹن بند نہ کئے توخطاکار ہے کیونکہ سدل کی طرح ہے اھ  میں کہتاہوں حلیہ میں ہے کہ اس میں واضح اعتراض ہے جبکہ اس کے نیچے قمیص یاایساکپڑا ہوجوبدن ڈھانپ دےاھ

 (۱؎ ردالمحتار        باب مایفسد الصلٰوۃ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۶۴۰)

اقول وفیہ نظر ظاہر فان انکشاف شیء من صدر الرجل و بطنہ لا اساء ۃ فیہ اذا کان عاتقاہ مستورین وانما نھی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عما اذا صلی فی ثوب واحد ولیس علی عاتقہ منہ شیئ۲؎ ولاشک ان ارسال اطراف مثل الشایہ من دون ان یزر ازارھا انما یشبہ السدل بنفس ھیأۃ ولامدخل فیہ لوجود القمیص تحتہ وعدمہ لما ان السدل سدل وان کان  فوق القمیص ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول النظر ان کان ففی کراھۃ التحریم اماالتنزیھی فلاشک فی ثبوتہ۳؎۔اقول (میں کہتاہوں) اس میں نظر ہے کیونکہ انسان کے سینے اور بطن کے کسی حصے کاظاہرہونا اس میں کوئی برائی نہیں جبکہ اس کے کاندھے مستورہوں اور رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس صورت میں ایک کپڑے میں نماز سے منع فرمایا ہے جبکہ اس کے کاندھے پر کوئی شئی نہ ہو اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اطراف کاکھلاہونا بٹن باندھنے کے بغیرسدل کے مشابہ ہے اس میں نیچے قمیص اور عدم قمیص کاکوئی دخل نہیں کیونکہ سدل، سدل ہی ہوتاہے اگرچہ قمیص پر ہو اور مجھے یادآرہاہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پرلکھا ہے اقول نظر تب  ہے کہ اگرکراہت تحریمی ہو اور اگرتنزیہی ہو تو اس کے ثبوت میں کوئی شک نہیں۔(ت)

 (۲؎ صحیح بخاری    باب اذا صلی فی ثوب واحد الخ    مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی    ۱ /۵۲)

(۳؎ جدالممتار علی ردالمحتار    مکروہات الصلٰوۃ        المجمع الاسلامی مبارک پور انڈیا    ۱ /۳۰۴)

ہاں اگرقصداً ایساکیا یوں کہ نماز کومحل بے پرواہی جانا اور اس کا ادب واجلال ہلکامانا توکراہت و حرمت درکنار معاذاﷲ اسلام ہی نہ رہے گا۔ کماقالوا فی الصلٰوۃ حاسرالرأس اذاکان للاستہانۃ (جیسا کہ علماء نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جوسستی وکاہلی کی وجہ سے ننگے سرنمازاداکرتاہے۔ت) والعیاذباﷲ واﷲ تعالٰی اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article مسجد کے چبو ترے پر نماز کا حکم آستین چڑھے ہوئے سے نمازنہ پڑھو Next article
Rating 3.00/5
Rating: 3.0/5 (210 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu