• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > جوتوں سمیت نماز پڑھنے کا حکم

جوتوں سمیت نماز پڑھنے کا حکم

Published by Admin2 on 2012/8/28 (3139 reads)
Page:
(1) 2 3 4 ... 6 »

New Page 1

مسئلہ ۱۰۰۸:  ازمارہرہ مطہرہ کمبوہ محلہ مرسلہ چودھری محمدطیب صاحب ۴محرم الحرام ۱۳۲۳ھ

جوتیوں سمیت نماز پڑھنا ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہاہم سے شعبہ نے کہا ہم کو ابومسلمہ سعیدبن یزید ازدی نے خبردی کہا میں نے انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے پوچھا کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جوتیاں پہنے پہنے نماز پڑھتے تھے؟حدثنا اٰدم ابن ابی ایاس قال انا ابومسلمۃ سعید بن یزید الازدی قال سألت انس بن مالک کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یصلی فی نعلیہ قال نعم ۔انہوں نے کہا آدم ابن ابی ایاس بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابومسلمہ سعید بن یزید الازدی نے بتایا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نعلین میں نمازاداکی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں(ت)

ابن بطال نے کہا جب جوتے پاک ہوں تو اُن میں نمازپڑھناجائز ہے، میں کہتاہوں مستحب ہے کیونکہ ابوداؤد اور حاکم کی حدیث میں ہے کہ یہودیوں کاخلاف کرو، وہ جوتوں اور موزوں میں نمازنہیں پڑھتے۔ اورحضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ نماز میں جوتے اتارنامکروہ جانتے تھے اور ابوعمروشیبانی کوئی نماز میں جوتا اتارے تو اس کو مارتے تھے اور ابراہیم سے جو امام ابوحنیفہ کے استاذ ہیں ایسا ہی منقول ہے۔ شوکانی نے کہا صحیح اور قوی مذہب یہی ہے کہ جوتیاں پہن کرنماز پڑھنامستحب ہے اور جوتوں میں اگرنجاست ہوتووہ زمین پررگڑدینے سے پاک ہوجاتے ہیں خواہ وہ کسی قسم کی نجاست ہو، تریاخشک، جرم والا یابے جرم۔

الجواب

اللھم ھدایۃ الحق والصواب اقول وباﷲ التوفیق وبہ الحصول الی ذری التحقیق(اے اﷲ! حق اور صواب کی ہدایت دے اقول اور اﷲ ہی توفیق دینے والا اور وہ ہے جو تحقیق کی منزل پرپہنچانے والا ہے۔ت) سخت اور تنگ پنجے کاجوتا جوسجدہ میں انگلیوں کاپیٹ زمین پربچھانے اور اس پر اعتماد کرنے زوردینے سے مانع ہو ایسا جوتا پہن کرنماز پڑھنی صرف کراہت و اساءت درکنارمذہب مشہورہ و مفتی بہ کی روسے راساً مفسد نماز ہے کہ جب پاؤں کی انگلی پراعتماد نہ ہوا سجدہ نہ ہوا اور جب سجدہ نہ ہوا نماز نہ ہوئی، امام ابوبکرجصاص و امام کرخی و امام قدوری و امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ وغیرہم اجلہ ائمہ نے اس کی تصریح فرمائی، محیطو خلاصہ و بزازیہ و کافی و فتح القدیر و سراج و کفایہ و مجتبٰی و شرح المجمع للمصنف و منیہ و غنیہ شرح منیہ و فیض المولی الکریم و جوہرئہ نیرہ و نورالایضاح و مراقی الفلاح و درمنتقی و درمختار و علمگیریہ و فتح المعین علامہ ابوالسعود ازہری و حواشی علامہ نوح آفندی وغیرہا کتب معتمدہ میں اسی پرجزم فرمایا زاہدی نے کہا یہی ظاہرالروایۃ ہے علامہ ابراہیم کرکی نے فرمایا اسی پرفتوٰی ہے، جامع الرموز میں قنیہ سے نقل کیا یہی صحیح ہے، ردالمحتار میں لکھا کتب مذہب میں یہی مشہور ہے،

درمختارمیں ہے:فیہ (ای فی شرح الملتقی) یفترض وضع اصابع القدم ولوواحدۃ نحوالقبلۃ والا لم تجز والناس عنہ غافلون وشرط طھارۃ المکان وان یجد حجم الارض والناس عنہ غافلون۱؎اھ  ملخصاًاس (شراح الملتقی) میں ہے قدم کی انگلیوں کا زمین پرجانب قبلہ رکھنا فرض ہے خواہ وہ ایک ہی کیوں نہ ہو ورنہ جائز نہیں اور لوگ اس سے غافل ہیں اور مکان کاپاک ہونا بھی شرط ہے اور حجم زمین کوپانا اور لوگ اس سے بھی غافل ہیں اھ  تلخیصاً(ت)

(۱؎ درمختار    فصل واذا اراد الشروع فی الصلٰوۃ کبّر    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۷۲)

اسی میں ہے :منھا(ای من الفرائض) السجود بجبھتہ وقدمیہ ووضع اصبع واحدۃ منھما شرط۱؎۔ان میں سے (یعنی فرائض میں سے) پیشانی اور قدمین پرسجدہ کرناہے اور ان دونوں پاؤں میں سے ایک انگلی کالگنا شرط ہے۔(ت)

(۱؎ درمختار       باب صفۃ الصلٰوۃ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۷۰)

منیہ میں ہے :لوسجد ولم یضع قدمیہ علی الارض لایجوز ولووضع احدھما جاز۲؎۔اگرسجدہ کیا لیکن قدم زمین پرنہ لگے تووہ جائز نہ ہوگا اور اگران سے ایک قدم لگ گیا توجائزہوگا(ت)

 (۲؎ منیۃ المصلی  باب فرائض صلٰوۃ مبحث السجود  مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۲۶۱)

غننہ میں ہے:المراد من وضع القدم وضع اصابعھا قال الزاھ دی ووضع رؤس القدمین حالۃ السجود فرض، وفی مختصر الکرخی سجد ورفع اصابع رجلیہ عن الارض لاتجوز، وکذا فی الخلاصۃ والبزازی وضع القدم بوضع اصابعہ وان وضع اصبعا واحدۃ اووضع ظھرالقدم بلااصابع ان وجع مع ذٰلک احدی قدمیہ صح والافلا، فھم من ھذا ان المراد بوضع الاصابع توجیھھا نھو القبلۃ لیکون الاعتماد علیھا والافھووضع ظھرالقدم وقدجعلہ غیرمعتبر وھذا ممایجب التنبیہ لہ فان اکثرالناس عنہ غافلون۳؎۔

قدم رکھنے سے مراد اس کی انگلیوں کورکھنا ہے، زاہدی نے کہا حالت سجدہ میں دونوں قدموں کی انگلیوں کے سروں کازمین پررکھنا فرض ہے۔ مختصرکرخی میں ہے اگرکسی نے سجدہ کیا مگرپاؤں کی انگلیان زمین سے اٹھی رہیں تو سجدہ نہ ہوگا۔ اسی طرح خلاصہ میں ہے۔ بزازیہ میں قدم رکھنے سے مراد انگلیوں کارکھناہے اور اگرقدم کی پشت انگلیوں کے بغیر لگائی تو اگراس کے ساتھ کسی ایک قدم کوبھی لگایاتوصحیح ورنہ نہیں، اس سے یہ بھی سمجھ آرہاہے کہ انگلیوں کے رکھنے سے مراد انہیں قبلہ کی طرف کرنا ہے تاکہ ان پرٹیک ہو ورنہ قدم کی پشت پر ہوگا اور اسے توغیر معتبر قرار دیا گیا ہے اور اس پرمتنبہ ہونانہایت ضروری ہے کیونکہ اکثرلوگ اس سے غافل ہیں۔(ت)

 (۳؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    فرائض صلٰوۃ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۲۸۵)

بحرالرائق و شرنبلالیہ میں ہے :السجود فی الشریعۃ وضع بعض الوجہ ممالاسخریۃ فیہ وخرج بقولنا لاسخریۃ فیہ ما اذا رفع قدمیہ فی السجود فانہ لایصح لان السجود مع رفعھما بالتلاعب اشبہ منہ بالتعظیم والاجلال ویکفیہ وضع اصبع واحدۃ فلو لم یضع الاصابع اصلا ووضع ظاھر القدم فانہ لایجوز لان وضع القدم بوضع الاصبع  اھ  ملتقطا۱؎۔شریعت میں سجدہ یہ ہے چہرہ کازمین پررکھنا اور اس میں سخریت نہ ہو ''لاسخریۃ فیہ'' سے وہ صورت خارج ہوجاتی ہے جس میں دونوں قدم حالت سجدہ میں زمین پر نہ ہوں کیونکہ حالت سجدہ میں ان کازمین سے اٹھاہواہونا تعظیم وعزت کے بجائے مذاق پردالالت کرتاہے اور اس میں ایک انگلی کازمین پرلگ جانا کافی ہوتاہے۔ پس اگرکسی نے انگلیاں بالکل نہیں لگائیں مگر پشت قدم کولگایا تویہ جائز نہیں کیونکہ قدم کے رکھنے سے مرادانگلی کالگانا ہے اھ  تلخیصاً(ت)

 (۱؎ بحرالرائق        باب صفۃ الصلٰوۃ     مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۱ /۲۹۳)

جوہرئہ نیّرہ میں ہے :من شرط جواز السجود ان لایرفع قدمیہ فان رفعھما فی حال سجودہ لاتجزیہ السجدۃ وان رفع احدٰھما قال فی المرتبۃ یجزیہ مع الکراھۃ  ولوصلی عن الد کان وادلی رجلیہ عن الدکان عند السجود لایجوزوکذا علی السریر اذا ادلی رجلیہ عنھا لایجوز۲؎۔جوازسجدہ کے لئے شرط یہ ہے کہ دونوں قدم زمین سے اُٹھے ہوئے نہ ہوں اگرحالت سجدہ میں اٹھے ہوئے رہے تو سجدہ جائز نہیں ہوگا، اور اگران میں ایک رکھاہوا تھا تومرتبہ میں ہے کہ سجدہ جائز مگرمکروہ ہوگا، اگرکسی نے اونچی جگہ نمازپڑھی اور سجدہ کے وقت پاؤں نیچے لڑھکادئیے توجائزنہیں، اسی طرح چارپائی سے اگرپاؤں نیچے لڑھکادئیے توسجدہ نہ ہوگا۔(ت)

 (۲؎ جوہرنیرہ شرح قدوری    باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ مکتبہ امدایہ، ملتان        ۱ /۶۳)

Page:
(1) 2 3 4 ... 6 »

Navigate through the articles
Previous article آستین چڑھے ہوئے سے نمازنہ پڑھو حقہ سگریٹ پینے والی کی بو دوسرے کو محسوس ہو تو؟ Next article
Rating 2.93/5
Rating: 2.9/5 (272 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu