• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > نماز میں صلی اللہ علیہ وسلم اگر غلطی سے پڑھ دیا تو؟

نماز میں صلی اللہ علیہ وسلم اگر غلطی سے پڑھ دیا تو؟

Published by Admin2 on 2012/8/28 (1031 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۰۲۱: ازشہرکہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مسئولہ حافظ رحیم اﷲصاحب ۱۱جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ

بعد الحمدکے محمد رسول اﷲ والذین معہ رکوع پڑھاایک مقتدی کے منہ سے سہواً صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نکلااور دوسرے مقتدی نے عمداً صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہا حضور ان دونوں مقتدیوں کی نماز ہوئی یانہیں؟ اور جوشخص یہ کہے کہ نماز کے اندر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نہ سہواً کہناچاہئے نہ عمداً، ایسے شخص کاکیاحکم ہے؟

الجواب

اﷲ عزوجل کانام پاک سن کر حکم ہے کہ عزّوجل یاجل جلالہ، یااس کی مثل کلمات تعظیمی کہے حضوراقدسصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانام پاک سن کرواجب ہے کہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام یا اس کے مثل کلمات درودکہے مگریہ دونوں وجوب بیرون نماز ہیں نماز میں سوا ان کلمات کے جو شارع علیہ الصلٰوۃ والسلام نے مقررفرمادئیے ہیں اور کی اجازت نہیں، خصوصاً جہریہ نماز میں وقت قرأت امام مقتدی کاسننا اور خاموش رہنا واجب ہے یونہی امام کے خطبہ پڑھتے میں جب اﷲ عزوجل اور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اسمائے طیبہ آئیں سامعین دل میں کلمات تقدیس ودرود کہیں، زبان سے کہنے کی وہاں بھی اجازت نہیں، نمازمیں نام الٰہی سن کرجل وعلا یانام مبارک سن کر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہنا اگر بقصد جواب ہے نماز جاتی رہے گی سہواً ہو یا قصداً، اور اگربلاقصد جواب تو قصداً ممنوع اور سہواً پرمواخذہ نہیں،

درمختار میں ہے:سمع اسم  اﷲ تعالٰی فقال جل جلالہ او النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فصلی علیہ اوقراءۃ الامام فقال صدق اﷲ ورسولہ لفسد ان قصد جوابہ۱؎ اھ۔اگراﷲ تعالٰی کانام سن کر جل جلالہ،، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کانام سن کردرودشریف، امام کی قرأت سن کرصدق اﷲ و رسولہ، کہا تو مقصود جواب تھا تونماز فاسد ہوجائے گی اھ۔

 (۱؎ ردالمحتار        باب مایفسد الصلٰوۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۵۹)

 

قال العلامۃ الشامی ذکر فی البحر انہ لوقال مثل ماقال المؤذن ان اراد جوابہ تفسد وکذا لولم تکن نیۃ لان الظاھرانہ اراد الاجابۃ  وکذلک اذا سمع اسم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فصلی علیہ فھذا  اجابۃ  اھ   ویشکل علی ھذا کلمۃ مامر من التفصیل  فیمن سمع العاطس فقال الحمدﷲ تأمل، استفید انہ لولم یقصد الجواب بل قصدا الثناء والتعظیم لاتفسد لان نفس تعظیم اﷲ تعالٰی و والصلٰوۃ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاینافی الصلٰوۃ کما شرح المنیۃ۱؎اھ  کلام العلامۃ ش۔علامہ شامی نے فرمایا بحرمیں ہے کہ اگرنمازی نے اذان کاجواب دیتے ہوئے اذان کے کلمات کہے تو نمازفاسد ہوجائے گی، اسی طرح اس صورت کاحکم ہے جب کوئی نیت نہ تھی کیونکہ ظاہرجواب دیناہی ہے اسی طرح جب سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اسم گرامی سنا اور درودشریف پڑھا تو یہ بھی جواب ہی ہے اھ  اور اس پر گزشتہ گفتگو کے ساتھ اعتراض ہوگا جس میں فرق کیاگیاتھا مثلاً کسی نے چھینک سن کر الحمدﷲ کہا غورکرو، جو واضح کررہاہے کہ اگر مقصود جواب نہ ہو بلکہ اﷲ کی ثنا و تعظیم ہوتو نمازفاسدنہ ہوگی کیونکہ اﷲ تعالٰی کی تعظیم اور رحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں سلام، نماز کے منافی نہیں شرح المنیہ اھ  علامہ شامی کا کلام ختم ہوا۔

 (۱؎ درمختار        باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۴۵۹)

اقول والذی من التفصیل ان سامع عطسۃ غیرہ، لوقال الحمد ﷲ فان عنی الجوب اختلف المشائخ اوالتعلیم فسدت اولم یرد واحدا منھما لاتفسد نھر وصحح فی شرح المنیۃ عدم الفساد مطلقا لانہ لم یتعارف جوابا قال بخلاف جواب السارّ بالحمدلۃ التعارف ۲؎اھ  اھ ۔ش ورأیتنی کتبت علی قولہ عدم الفساد مطلقا مانصہ۔اقول (میں کہتاہوں) جوتفصیل پیچھے گزری کہ اگرغیرکی چھینک سننے والے نے الحمدﷲ کہاتو اگر مقصود جواب تھا تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے یامقصود تعلیم تھا تونمازفاسد ہوجائے گی یادونوں میں سے کوئی بھی مقصودنہ تھا تونماز فاسد نہ ہوگی نہر، اور شرح منیہ میں اس بات کوصحیح قراردیاہے کہ کسی صورت میں بھی نمازفاسدنہ ہوگی کیونکہ یہ جواب متعارف نہیں بخلاف اس صورت کے جب خوش کن بات پر الحمدﷲ کہے تو یہ جواب متارف ہے اھ  ش۔ مجھے یاد آتاہے کہ اس کے قول''عدم الفساد مطلقا'' پریہ لکھاتھا۔

 (۲؎ردالمحتار        باب مایفسد الصلٰوۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۵۸)

اقول لابد من استثناء ارادۃ التعلیم کمالایخفی والتعلیل لایمسہ فان العلۃ فیہ شیئ اخر غیرکونہ جوابا وھوکونہ خطاء فھذا مامر من التفصیل وانت تعلم انہ لامساس لہ بانھا من الفروع بان الحمدﷲ لیس جوابا باللعطاس و انما ھو سنۃ العاطس فاذالم یرد بہ التعلیم لم یکن الاانشاء حمد بخلاف ماھ نا فکلہ جواب وقد عرف جوابا فقد عرف الجواب عن الاشکال۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔اقول یہاں  ارادہ  تعلیم کو مستثنٰی کرناضروری ہے جیسا کہ واضح ہے اور تعلیل اس سے متعلق نہیںہو سکتی کیونکہ اس میں علت اور شئی ہے اور وہ جواب ہونا نہیں بلکہ وہ اس کاخطاء ہوناہے یہی گزشتہ تفصیل تھی اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کا کوئی تعلق نہیں کہ یہ اس کی فروعات میں سے ہے کیونکہ الحمدﷲ چھینک کاجواب نہیں بلکہ وہ چھینکوالے کے لئے سنت ہے توجب اس سے مقصود تعلیم نہیں تواب حمد کرنا ہی ہوگا بخلاف مذکورہ صورتوں کے کہ یہ بہرصورت جواب ہیں کیونکہ ان کاجواب ہونا معروف ہے تو اس سے اشکال کا جواب معلوم ہوگیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

 (۱؎ جدالممتار علٰی ردالمحتار    باب مایفسد الصلٰوۃ    المجمع الاسلامی مبارکپور انڈیا    ۱ /۲۸۵)


Navigate through the articles
Previous article ٹخنوں کے نیچے تک ازار لٹکا کر نماز پڑھانے کا حکم الٹا قرآن پڑھنا دوسری رکعت میں بڑی سورت پڑھنا کیسا Next article
Rating 2.70/5
Rating: 2.7/5 (270 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu