• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Nawafil & Witr / وتر و نوافل > تہجدواجب ہےیاسنت؟اگرسنت ہےتوموکدہ یاغیرمؤکدہ

تہجدواجب ہےیاسنت؟اگرسنت ہےتوموکدہ یاغیرمؤکدہ

Published by Admin2 on 2012/8/30 (3354 reads)
Page:
(1) 2 3 4 »

New Page 1

مسئلہ ۱۰۳۲: از سوروں ضلع ایٹہ محلہ ملک زاداں مرسلہ مرزا عابدحسین صاحب ۲۷ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز تہجد واجب ہے  یاسنت؟ اگرسنت ہے توموکدہ یاغیرمؤکدہ ؟ اس کاتارک گنہگار ہے یانہیں یعنی قصداً ترک کرنے والا ؟ مفصل مع احادیث ارقام فرمائیے گا۔ بیّنواتوجروا

الجواب

تہجد سنت مستحبہ ہے تمام مستحب نمازوں سے اعظم  واہم، قرآن واحادیث حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس کی ترغیب سے مالامال، عامہ کتب مذہب میں اسے مندوبات ومستحبات سے گِنا اور سنت مؤکدہ سے جدا ذکرکیا، تو اس کا تارک اگرچہ فضل کبیر وخیرکثیر سے محروم ہے گنہگارنہیں، بحرالرائق و علمگیری و درمختار و فتح اﷲ المعین السید ابوالسعود الازہری میں ہے:المندوبات صلٰوۃ اللیل۱؎ (رات کی نماز مندوبات میں سے ہے۔ت)

 (۱؎ فتح المعین حاشیہ علی الکنز        باب الوتر والنوافل      مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱ /۲۵۴ )

مراقی الفلاح میں ہے:سن تحیۃ المسجد و ندب صلٰوۃ اللیل۲؎ (تحیۃ المسجد سنت اور رات کی نمازمستحب ہے۔ت)

 (۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی  فصل فی بیان النوافل   مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۔۲۱۵)

غنیہ شرح منیہ میں ہے:من النوافل المستحبۃ قیام اللیل۳؎ (نوافل مستحبہ میں سے رات کی نمازہے۔ت)

 (۳؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی النوافل بحث قیام اللیل مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور   ص۴۳۲)

حلیہ میں ہے :مشی صاحب الحاوی القدسی علی انھا مندوبۃ۱؎۔صاحب الحاوی القدسی کی رائے یہی ہے کہ رات کی نماز مستحب ہے۔(ت)

 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

جامع الرموز میں ہے :الاحسن اتمام السنن المؤقتۃ بذکر صلٰوۃ الضحی والمستحبات بذکر التھجد۲؎ اھ ملخصاً۔وقتی سنن میں چاشت کی نماز اور مستحبات میں تہجد کاذکر ان کا اچھا اتمام ہے ۱ھ ملخصاً(ت)

 (۲؎ جامع الرموز        فصل الوتر        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱ /۲۰۷)

غرض ہمارے کتب مذہب کے احکام منصوصہ مذکورہ علی جہۃ النفل میں اس کا استحباب ہی مصرح ہے، ہاں بعض علمائے مالکیہ وشافعیہ مثل امام ابن عبدالبروامام ابوزکریانووی جانب سنیّت گئے، اور بعض ائمہ تابعین حسن بصری و عبیدہ سلمانی و محمد بن سیرین قائل وجوب ہوئےکمایظھر بمطالعۃ عمدۃ القاری وشرح المؤطا الزرقانی وغیرھما (جیسا کہ عمدۃ القاری، شرح المؤطا للزرقانی وغیرہ کے مطالعہ سے پتاچلتاہے۔ت) قول وجوب کو توجمہور علمائے مذاہب اربعہ ردفرماتے اورمخالف جماعت بتاتے ہیںکمافیھما وفی شرح مسلم للنووی و البخاری للقسطلانی والمواھب للزرقانی وغیرھما (جیسا کہ ان دونوں میں ہے اور شرح مسلم للنووی، شرح بخاری للقسطلانی اور مواہب للزرقانی وغیرہ میں ہے۔ت) اور ہمارے علماء وجوب وسنیت کی یکساں تضعیف فرماتے ہیں۔ شرح نقایہ قہستانی میں ہے:ثمان رکعات بتسلمیۃ اوتسلیمتین للتہجد وقیل لہ رکعتان سنۃ وقیل فرض کمافی المحیط۳؎۔تہجد کی ایک یادو سلاموں کے ساتھ آٹھ رکعات ہیں بعض کے نزدیک دورکعات سنت ہیں بعض کے نزدیک یہ فرض ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت)

 (۲؎ جامع الرموز        فصل الوتر        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱ /۲۰۷)

البتہ ہمارے علماء متاخرین سے امام ابن الہام نے سنیت واستحباب میں تردد اور بالآخر جانب اول میل اور انہیں کے اتباع سے اُن کے تلمیذ علامہ حلبی نے حلیہ میں اسے اشبہ فرمایا، یہ ان امام کی اپنی بحث ہے۔ نہ مذہب منصوص باآنکہ خود اعتراف فرماتے ہیں کہ احادیث قولیہ حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صرف استحباب ہی کاافادہ فرماتے ہیں۔ مستند اُن کا مواظبت فعلیہ حضوروالاصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے مگرخود فرماتے ہیں کہ مواظبت وہی مفید سنیت جو فعل نفل پرہو، تو اس مسئلہ کی بناء حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرتہجد فرض ہونے نہ ہونے پررہی۔ اگرحضور پرفرض نہ تھا توبوجہ مواظبت اُمت کے لئے سنت ہوگا ورنہ مستحب۔

قال قدس سرہ بقی ان صفۃ صلٰوۃ اللیل فی حقنا السنیۃ اوالاستحباب یتوقف علی صفتھا فی حقہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فان کانت فرضا فی حقہ فھی مندوبۃ فی حقنا لان الادلۃ القولیۃ فیھا انما تفید الندب والمواظبت الفعلیۃ لیست علی تطوع لتکون سنۃ فی حقنا وان کانت تطوعا فسنۃ لنا۱؎۔امام ابن ہمام قدس سرہ، نے فرمایا کہ باقی رہا معاملہ رات کی نماز کاکہ آیا ہمارے حق میں سنت ہے یامستحب، تویہ بات اس پرموقوف ہے کہ وہ سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حق میں کیاتھی، اگروہ آپ پر فرض تھی توہمارے حق میں مستحب ہے کیونکہ ادلہ قولیہ اس کے بارے میں مستحب ہونے کافائدہ دیتی ہیں اور مواظبت فعلیہ نفل پرنہیں کہ وہ ہمارے حق میں سنت بن جائے اور اگرآپ کے لئے یہ نفل تھی تو ہمارے لئے یہ سنت ہوگی۔(ت)

 (۱؎ فتح القدیر    باب النوافل        مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۳۹۱)

اب اسی مبنٰی کودیکھئے تو اس میں بھی قول جمہور مذہب مختار ومنصور حضور پرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حق میں فرضیت ہے اسی پرظاہر قرآن عظیم شاہد اور اسی طرف حدیث مرفوع وارد۔قال اﷲ تعالٰی ٰیایھا المزمل قم الیل۲؎۔اﷲ تعالٰی کافرمان ہے اے چادر اوڑھنے والے رات کوقیام کیاکرو۔

(۲؎ القرآن    ۷۳ /۱۔۲)

، دوسرے مقام پرفرمایا :وقال تعالٰی ومن الیل فتھجدبہ۳؎۔رات کوتہجد اداکیاکرو۔

 (۳؎ القرآ ن    ۱۷ /۷۹)

Page:
(1) 2 3 4 »

Navigate through the articles
Previous article رمضان میں وتر کو باجماعت پڑھنے کا مسئلہ سنتیں گھر میں پڑھنا افضل ہے یامسجد میں؟ Next article
Rating 2.80/5
Rating: 2.8/5 (252 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu