• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Nawafil & Witr / وتر و نوافل > نوافل کی جماعت کا حکم نیز نفل عاشورہ پڑھنا کیسا؟

نوافل کی جماعت کا حکم نیز نفل عاشورہ پڑھنا کیسا؟

Published by Admin2 on 2012/8/30 (1781 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۰۳۴: از لشکر گوالیار محکمہ ڈاک مرسلہ مولوی نورالدین احمدصاحب غرہ ذی الحجہ۱۳۱۲ھ

(۱) نفل کا سوائے تراویح ونماز کسوف وخسوف بجماعت منسوخ ہونا تومعلوم ہے لیکن بعض مشائخ کے یہاں جوباعتبار کسی کسی کتاب کے بعد نمازیں نفل کی مثلاً صلٰوۃ قضائے عمر(۴نفل قبل آخری جمعہ کے) اور نفل شب برات بجماعت ہوتے ہیں ان کی اصل ہے، جوازکس بناپر ہے اور ممانعت کیوں ہے، جن فتاوٰی کی روسے جوازنکالاہے وہ کہاں تک معتبرہے؟

(۲) نفل یوم عاشورہ ہم کوپڑھنا مناسب ہے یانہیں؟

الجواب

(۱) ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے نزدیک نوافل کی جماعت بتداعی مکروہ ہے۔ اسی حکم میں نماز خسوف بھی داخل کہ وہ بھی تنہاپڑھی جائے اگرچہ امام جمعہ حاضرہو۱؎کما فی الشامی عن اسمٰعیل عن البرجندی(جیسے کہ شامی نے اسمٰعیل سے اور انہوں نے برجندی سے نقل کیاہے۔ت)

 (۱؎ ردالمحتار            باب الکسوف        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۸۳)

حلیہ میں ہے :اما الجماعۃ فی صلٰوۃ الخسوف فظاھرکلام الجم الغفیر من اھل المذھب کراھتھا۲؎الخرہا صلٰوۃ خسوف کی جماعت کے بارے میں حکم تو اہل مذہب کے جم غفیر کے کلام سے یہی ظاہر ہے کہ یہ مکروہ ہے الخ(ت)

 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

صرف تراویح وصلٰوۃ الکسوف وصلٰوۃ الاستسقاء مستثنٰی ہیںوذلک بوفاق ائمتنا علی الاصح فالخلٰف فی الاخیر فی الاستنان دون الجواز۳؎ کما صرح بہ فی الدر المختار۔اصح مذہب کے مطابق ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے، اختلاف آخری (صلٰوۃ الاستسقاء) کے مسنون ہونے میں ہے نہ کہ جواز میں، جیسے کہ درمختار میں تصریح ہے(ت)

 (۳؎ درمختار            باب الاستسقاء    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۱۸)

تداعی مذہب اصح میں اس وقت متحقق ہوگی جب چاریازیادہ مقتدی ہوں دوتین تک کراہت نہیں،فی الدر یکرہ ذلک لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد کما فی الدر ر۴؎ اھ  فی الطحطاوی علی مراقی الفلاح فی اقتداء ثلثۃ الاصح عدم الکراھۃ۵ ؎۔درمختارمیں ہے یہ مکروہ ہے اگرعلٰی سبیل التداعی ہومثلاً چارآدمی ایک کی اقتداء کریں جیسا کہ درر میں ہے  اھ ، طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے اگرتین نے ایک کی اقتداء کی تو اصح یہی ہے کہ یہ مکروہ نہیں۔(ت)

 (۴؎ درمختار            آخر باب الوتر والنوافل   مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۹۹)

(۵؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح            مطبوعہ نورمحمد کتب خانہ آرام باغ کراچی    ص۲۱۱)

نماز قضائے عمری کہ آخرجمعہ ماہ مبارک رمضان میں اس کاپڑھنا اختراع کیاگیا اور اس میں یہ سمجھاجاتاہے کہ اس نماز سے عمربھر کی اپنی اور ماں باپ کی بھی قضائیں اُترجاتی ہیں محض باطل و بدعت سیئہ شنیعہ ہے کسی کتاب معتبر میں اصلاً اس کانشان نہیں، نمازشب برات اگرچہ مشائخ کرام قدست اسرارہم نے بجماعت بھی پڑھی،

قوت القلوب شریف میں ہے :یستحب احیاء خمس عشرۃ لیلۃ (الی قولہ) لیلۃ النصف من شعبان  وقد کانوا یصلون فی ھذہ  اللیلۃ مائۃ رکعۃ بالف مرۃ قل ھواﷲ احد، عشرا فی کل رکعۃ ویسمون ھذہ الصلٰوۃ صلٰوۃ الخیر ویتعرفون برکتھا ویجتمعون فیھا وربما صلوھا جماعۃ۱؎ ۔پندرہ راتوں میں شب بیداری مستحب ہے (آگے چل کرفرمایا) ان میں ایک شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہے کہ اس میں شب بیداررہنا مستحب ہے کہ اس میں مشائخ کرام سَو رکعت ہزارمرتبہ قل ھواﷲ احد کے ساتھ اداکرتے ہر رکعت میں دس دفعہ قل ھواﷲ احد پڑھتے ، اس نماز کانام انہوں نے صلٰوۃ الخیر رکھاتھا، اس کی برکت مسلمہ تھی، اس رات (یعنی پندرہ شعبان) میں اجتماع کرتے اور احیاناً نماز کوباجماعت اداکرتے تھے(ت)

 (۱؎ قوت القلوب    فصل العشرون فی ذکراحیاء اللیالی    مطبوعہ دارصادر بیروت    ۱ /۶۲)

اوریہی علمائے تابعین سے لقمان بن عامروخالد بن معدان اور ائمہ مجتہدین سے اسحق بن راہویہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کاہے مگرہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا مذہب وہی ہے کہ جماعت بتداعی ہو تومکروہ ہےکما نص علیہ فی البزازیۃ والتتارخانیۃ والحاوی القدسی والحلیۃ والغنیۃ ونورالایضاح ومراقی الفلاح والاشباہ وشروحھا والدرالمختار وحواشیہ وغیرذلک من الکتب المعتمدۃ۔جیسا کہ اس پر بزازیہ، تتارخانیہ، الحاوی القدسی، حلیہ، غنیہ، نورالایضاح، مراقی الفلاح، الاشباہ اور اس کی شروح، درمختار اور اس کے حواشی، اور اس کے علاوہ دیگرمعتمد کتب میں تصریح ہے(ت)

 (۲) عاشورا ایام فاضلہ سے ہے اور نماز بہترین عبادات اور اوقات فاضلہ میں اعمال صالحہ کی تکثیر قطعاً مطلوب ومندوب مگر اس دن نوافل معینہ بطریق مخصوصہ میں جو حدیث روایت کی جاتی ہے علماء اسے موضوع وباطل بتاتے ہیںکما صرح بہ ابن الجوزی فی موضوعاتہ واقرہ علیہ فی اللآلی (اس کی تصریح ابن جوزی نے اپنی موضوعات میں کی اور امام سیوطی نے اللآلی میں اسے ثابت رکھاہے۔ت) موضوعات کبیرملاعلی قاری میں ہے :صلٰوۃ عاشوراء موضوع بالاتفاق ۱؎ (عاشوراکی نماز بالاتفاق موضوع ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔

 (۱؎ الاسرار المرفوعۃ لملا علی قاری حدیث ۱۱۳۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۸۹)


Navigate through the articles
Previous article سنتیں گھر میں پڑھنا افضل ہے یامسجد میں؟ نمازعشا میں آخری نفل بیٹھکرپڑھنا چاہئےیا نہیں Next article
Rating 2.94/5
Rating: 2.9/5 (248 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu