• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Nawafil & Witr / وتر و نوافل > جمعہ کی پہلی سنتیں بعد میں پڑھ سکتا ہے؟

جمعہ کی پہلی سنتیں بعد میں پڑھ سکتا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/8/30 (1073 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۰۴۰: از ریاست الور راجپوتانہ محلہ قاضی واڑہ مرسلہ مولوی محمدرکن الدین صاحب نقشبندی ۲۲ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ

مسئلہ یہ ہے کہ جمعہ کی پہلی چارسنتیں اگرقضا ہوجائیں توبعد فرض جماعت کے اسے سنت وقت کے اندرقضا کرلے یانہیں؟ اس میں بھی صاحب ردالمحتارتحریرفرماتے ہیں کہ جمعہ کی سنت مثل سنت ظہر کے نہیں ہیں لہٰذا گزارش ہے کہ اس کی تحقیق سے بواپسی ڈاک اطلاع بخشی جائے، دوچار علماء سے جوگفتگو ہوئی توانہوں نے جناب کی تحقیق کی طرف توجہ دلائی۔

الجواب

ہاں وقت میں انہیں اداکرلے وہ اداہوگی نہ کہ قضا، درمختارمیں ہے:بخلاف سنۃ الظھر وکذا الجمعۃ فانہ ان خاف فوت رکعۃ یترکھا ویقتدی ثم یاتی بھا علی انہ سنۃ فی وقتہ ای الظھر۱؎۔بخلاف ظہر کی سنت کے، اسی طرح جمعہ کا معاملہ ہے، پس اگرنماز کی ایک رکعت نکل جانے کا خطرہ ہو توسنن ترک کرکے جماعت میں شامل ہوجاناچاہئے پھر ان سنتوں کو اپنے وقت یعنی ظہرمیں اداکرے۔(ت)

 (۱؎ درمختار        باب ادراک الفریضہ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۱۰۰)

بحرالرائق میں ہے :وحکم الاربع قبل الجمعۃ کالاربع قبل الظھر کمالایخفی۱؎۔جمعہ کی پہلی چارسنتوں کاحکم وہی ہے جوظہرسے پہلی چارسنتوں کاہے جیسا کہ واضح ہے(ت)

 (۱؎ بحرالرائق            باب ادراک الفریضۃ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۷۵)

حاشیہ علامہ خیرالدین الرملی علی البحرالرائقمیں فتاوٰی علامہ سراج الدین حانوتی سے ہے :فعلی ماقالوہ فی المتون وغیرھا من ان سنۃ الظھر تقضی، یقتضی ان تقضی سنۃ الجمعۃ اذلافرق۲؎اھ  ثم نقل عن روضۃ العلماء ماردہ فی منحۃ الخالق وردالمحتار۔اس بناپر کہ جوفقہا نے کہا ہے کہ متون وغیرہ میں ہے کہ ظہرکی سنتیں ادا کی جائیں اس کاتقاضا ہے کہ جمعہ کی سنتیں بھی اداکی جائیں کیونکہ ان میں کوئی فرق نہیں اھ پھر انہوں نے روضۃ العلماء سے وہ نقل کیا جسے منحۃ الخالق اور ردالمحتارمیں رد کیاہے(ت)

 (۲؎ حاشیۃ منحۃ الخالق علی البحرالرائق    قول حکم الاربع قبل الجمعۃ کے تحت     مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران    ۲ /۷۵)

جامع الرموزمیں ہے :یترک سنۃ الظھر ولوحکما فیدخل فیہ سنۃ الجمعۃ فتقضی علی الخلاف سنۃ الظھر۳؎ظہر کی سنتیں چھوڑدی جائیں اگرچہ ظہرحکمی ہو تو جوازِ ترک میں جمعہ کی سنتیں بھی داخل ہوں گی توانہیں برخلاف سنت ظہر اداکیاجائے(ت)

 (۳؎ جامع الرموز        فصل ادراک الفریضۃ        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران    ۱ /۲۲۳)

رہا علامہ شامی کا استدلال کہ:قدیستدل للفرق بینھما بان القیاس فی السنن، عدم القضأ وقد استدل قاضی خاں لقضاء سنۃ الظھر بما عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان اذا فاتتہ الاربع قبل الظھر قضاھن بعدہ فیکون قضاء ھا ثبت بالحدیث علی خلاف القیاس۴؎۔بعض اوقات ان کے درمیان فرق کے لئے یہ استدلال کیاجاتاہے کہ قیاس کاتقاضا ہے کہ سنن میں قضانہیں، اور قاضی خاں نے ظہر کی سنتوں کی قضا پر اس حدیث سے استدلال کیاہے جو حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ اگرظہر سے پہلے کی چاررکعات حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے رہ جائیں تو آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ظہر کے بعد انہیں ادافرمایا کرتے تھے پس ان کی اداخلاف قیاس حدیث سے ثابت ہوئی (ت)

 (۴؎ ردالمحتار            باب فصل ادراک الفریضۃ مصطفی البابی مصر     ۱ /۵۳۱)

اس پر فقیرغفرلہ المولٰی التقدیر نے اپنی تعلیقات میں یہ لکھا:اقول فیہ ان الحاق سنۃ الجمعۃ بسنۃ الظھر بدلیل المساواۃ فلایضرکون القضاء فیھن علی خلاف القیاس لان الالحاق دلالۃ لایختص بعقول المعنی کما نص علیہ الامام ابن الھمام وغیرہ من الاعلام بل لقائل ان یقول ان سنۃ الجمعۃ من افراد سنۃ الظھر فلاالحاق فافھم وبالجملۃ فالاحوط الایتان بھا خروجا عن العھدۃ بیقین۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔اقول، جمعہ کی سنتوںکوظہر کی سنتوں کے ساتھ مساوات کی بناء پر لاحق کرنے میں ان کو خلاف قیاس قضا کرنے میں کوئی ضررنہیں کیونکہ دلالۃً الحاق کے لئے معقول المعنی ہوناضروری نہیں جس طرح اس پر امام ابن الہمام وغیریہ نے تصریح کی ہے بلکہ قائل کے لئے یہ کہنا ممکن ہے کہ جمعہ کی سنتیں ظہر کی سنتوں کا ہی فرد ہیں توپھرکوئی الحاق نہ ہوگا اسے سمجھو، الغرض احتیاط یہی ہے کہ انہیں بجالایاجائے تاکہ ذمہ داری سے بالیقین عہدہ برآہواجاسکے واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

 (۱؎ جدالممتا علی  ردالمحتار    باب ادراک الفریضۃ    المجمع الاسلامی مبارکپور (انڈیا)    ۱ /۲۴۳)


Navigate through the articles
Previous article نمازعشا میں آخری نفل بیٹھکرپڑھنا چاہئےیا نہیں عشاء کے نوافل میں جماعت سے قرآن سننا کیسا ہے؟ Next article
Rating 2.84/5
Rating: 2.8/5 (283 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu