• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Nawafil & Witr / وتر و نوافل > تجہد کی جماعت کروانا کیسا ہے؟

تجہد کی جماعت کروانا کیسا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/8/30 (2277 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ ۱۰۴۴:  از احمدآباد گجرات دکن محلہ مرزاپورمدرسہ اسلامیہ مرسلہ شیخ علاء الدین صاحب ۲۲ربیع الاول شریف ۱۳۲۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ نزدیک امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور علمائے حنفیہ کی نماز تہجد کی ساتھ جماعت کے پڑھنا جائز ہے یانہیں؟ اور دیگر ایام مخصوصہ مثلاً یوم ِ عاشورا وغیرہ میں نفل جماعت سے جائز ہیں یانہیں؟ اور یہاں کے مولوی نماز تہجد کی جماعت سے پڑھنا از حدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما منصوص کہتے ہیں اور وقت تہجد کے جماعت بھی کرتے ہیں، آیا جماعت تہجّد اور نفلوں کی کرنامستحب یاسنت کیاہے؟ اور جبکہ برعکس ہوتوکیامکروہ ہے یابدعت ہے یاکیاہے؟اللھم اھدنا بینوابحکم الکتاب توجروا یوم الحساب۔

الجواب

تراویح وکسوف واستسقاء کے سوا جماعت نوافل میں ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کامذہب معلوم ومشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور ومسطور ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ۔ تداعی ایک دوسرے کوبلاناجمع کرنا اور اسے کثرت جماعت لازم عادی ہے اور اس کی تحدید امام نسفی وغیرہ نے کافی میں یوں فرمائی کہ امام کے ساتھ ایک دوشخص تک بالاتفاق بلاکراہت جائز اور تین میں اختلاف اور چارمقتدی ہوں تو بلاتفاق مکروہ، یہ تحدید امام شمس الائمہ سے منقول ہے کافی کانص عبارت یہ ہے:

 (لایصلی تطوع بجماعۃ الاقیام رمضان) وعن شمس الائمۃ ان التطوع بالجماعۃ انما یکرہ اذا کان علی سبیل التداعی امالو اقتدی واحد بواحد اواثنان بواحد لایکرہ واذا اقتدی ثلثۃ بواحد اختلف فیہ وان اقتدی اربعۃ بواحد کرہ اتفاقا۱؎۔ (نفل جماعت کے ساتھ ادانہ کئے جائیں مگر رمضان کاقیام) شمس الائمہ سے یوں منقول ہے کہ نوافل کی جماعت اس صورت میں مکروہ ہے جب علٰی سبیل التدعی ہو، اگرایک نے ایک کی اقتداء کی یادونے ایک کی توکراہت نہیں، اور جب تین ایک کی اقتداء کریں تواس میںاختلاف ہے اور اگرچار نے ایک کی اقتداء کی تویہ بالاتفاق مکروہ ہے۔(ت)

 (۱؎ بحوالہ خلاصۃ الفتاوٰی    الفصل الخامس عشر فی الامامۃ والاقتدائ    مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ    ۱ /۱۵۳)

اور اصح یہ ہے کہ تین مقتدیوں میں بھی کراہت نہیں، طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:قولہ اختلف فیہ والاصح عدم الکراھۃ۲؎۔ان کا قول ''اختلف فیہ'' اس میں اصح یہ ہے کہ کراہت نہیں۔(ت)

 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح    آخر باب الوتر        مطبوعہ نورمحمد کتب خانہ کراچی    ص۲۱۱)

مگرانہیں امام شمس الائمہ سے خلاصہ وغیرہ میں یوں منقول کہ تین مقتدیوں تک بالاتفاق کراہت نہیںچارمیںاختلاف ہے اوراصح کراہت ۔ فتاوٰی خلاصہ کا نص عبارت کتاب الصلٰوۃ فصل خامس ۱۵ عشر میں یہ ہے:اصل ھذا ان التطوع بالجماعۃ اذا کان علی سبیل التداعی یکرہ فی الاصل للصدر الشھید اما اذا صلی بجماعۃ بغیر اذان واقامۃ فی ناحیۃ المسجد لایکرہ وقال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اﷲ تعالٰی ان کان سوی الامام ثلثۃ لایکرہ بالاتفاق وفی الاربع اختلف المشائخ و الاصح انہ یکرہ۱؎۔اس مسئلہ کی اصل یہ ہے کہ جب نوافل کی جماعت علٰی سبیل التداعی ہو تو صدرشہید کی اصلمیں ہے کہ یہ مکروہ ہے لیکن اگر مسجد کے گوشے میں بغیر اذان و تکبیر نفل کی جماعت ہوئی تو کراہت نہیں، اور شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ اگرامام کے علاوہ تین افراد ہوں توبالاتفاق کراہت نہیں اور اگرمقتدی چارہوں تواس میںمشائخ کااختلاف ہے، اور اصح کراہت ہے(ت)

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الفصل الخامس عشرالخ    مطبوعہ مطبع منشی نولکشور لکھنؤ    ۱ /۱۵۴)

بالجملہ دو مقتدیوں میں بالاجماع جائز اور پانچ میں بالاتفاق مکروہ، اور تین اور چارمیں اختلاف نقل ومشائخ، اوراصح یہ کہ تین میں کراہت نہیں چار میں ہے، تومذہب مختار یہ نکلا کہ امام کے سوا چار یا زائد ہوں توکراہت ہے ورنہ نہیں، ولہٰذا دررو غرر پھر درمختارمیں فرمایا:یکرہ ذلک لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد۲؎۔اگرنفل کی جماعت علٰی سبیل التداعی ہو بایں طورپرکہ چارآدمی ایک کی اقتداء کریں تومکروہ ہے(ت)

 (۲؎ درمختار        آخرباب الوتر والنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۹۹)

پھر اظہریہ کہ یہ کراہت صرف تنزیہی ہے یعنیخلاف اولٰی لمخالفۃ التوارث (کیونکہ یہ طریقہ توارث کے خلاف ہے۔ت) نہ تحریمی کہ گناہ وممنوع ہو،

ردالمحتارمیں ہے:فی الحلیۃ الظاھر ان الجماعۃ فیہ غیرمستحبۃ ثم ان کان ذلک احیانا کان مباحا غیرمکروہ وان کان علی سبیل المواظبۃ کان بدعہ مکروھۃ لانہ خلاف المتوارث ۱ھ ویؤید ایضا مافی البدائع من قولہ ان الجماعۃ فی التطوع لیست بسنۃ الا فی قیام رمضان۱ھ فان نفی السنیۃ لایستلزم الکراھۃ ثم ان کان مع المواظبۃ کان بدعۃ فیکرہ وفی حاشیۃ البحر للخیر الرملی علل الکراھۃ فی الضیأ والنھایۃ بان الوتر نفل من وجہ والنفل بالجماعۃ غیرمستحب لانہ لم تفعلہ الصحابۃ فی غیررمضان۱ھ وھو کالصریح فی انھا کراھۃ تنزیہ تأمل۱؎اھ اھ  مختصرا۔حلیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ نفل میں جماعت مستحب نہیں پھر اگرکبھی کبھی ایسا ہو تو یہ مباح ہے مکروہ نہیں اور اس میں دوام ہو توطریقہ متوارث کے خلاف ہونے کی وجہ سے بدعت مکروہ ہے اھ اس کی تائید بدائع کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ جماعت، قیام رمضان کے علاوہ نوافل میں سنت نہیں اھ کیونکہ نفی سنیت کراہت کومستلزم نہیں پھر اگر اس میں دوام ہو تو یہ بدعت ومکروہ ہوگی، خیررملی نے حاشیہ بحر میں کہا کہ ضیاء اور نہایہ میں کراہت کی علت یہ بیان کی ہے کہ وتر من وجہ نفل ہیں اور نوافل کی جماعت مستحب نہیں کیونکہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین نے رمضان کے علاوہ وتر کی جماعت نہیں کرائی اھ  یہ گویا اس بات کی تصریح ہی ہے کہ جماعت مکروہ تنزیہی ہے تامل اھ اھ  اختصاراً(ت)

 (۱؎ ردالمحتار            باب الوتر والنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۴۸)

صلٰوۃ الرغائب وصلٰوۃ البرائۃ وصلٰوۃ القدرکہ جماعات کثیرہ کے ساتھ بکثرت بلاداسلام میں رائج تھیں متأخرین کا اُن پر انکار اس نظر سے ہے کہ عوام سنت نہ سمجھیں ولہٰذا وجیزکردری میں بعد بحث و کلام فرمایا:فلوترک امثال ھذہ الصلوات تارک لیعلم الناس انہ لیس من الشعار فحسن۲؎۔اگرنمازوں کوکوئی اس لئے تر ک کرتاہے کہ لوگ جان لیں کہ یہ شعار اسلام نہیں تو یہ ا چھا کام ہے۔(ت)

 (۲؎ فتاوٰی بزازیہ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الصلٰوۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۵۴)

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article تہجد والے کو وتر بعد فراغتِ تراویح پڑھنا جائزہے؟ وتر کے بعد کے نوافل بیٹھ کرپڑھنا بہترہے یاکھڑے Next article
Rating 2.95/5
Rating: 2.9/5 (279 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu