• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz Tarweeh / نماز تراویح > شبینہ میں باجماعت نوافل پڑھنا کیسا ہے؟

شبینہ میں باجماعت نوافل پڑھنا کیسا ہے؟

Published by Admin2 on 2012/10/8 (1028 reads)

مسئلہ ۱۰۷۰: از کیمپ میرٹھ کوٹھی حافظ عبدالکریم صاحب بازار لال کُرتی مرسلہ مولوی احسان اﷲصاحب ۲۷ماہ مبارک ۱۳۲۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ جواکثر جگہ رمضان شریف کے اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں نوافل میں شبینہ پڑھاجاتاہے یعنی ایک یاایک سے زیادہ رات میں ختم قرآن عظیم ہوتاہے اور یہ نوافل باجماعت پڑھے جاتے ہیں یہ شرعاً جائزہے یانہیں؟ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ اگرچہ کلام مجید باجماعت نوافل میں ترتیل کے ساتھ ہی کیوں نہ پڑھاجائے وہ بھی ممنوع ہے اور نیز کہتے ہیں کہ جماعت نوافل کی سوا تراویح کے اصلاً جائزنہیں ہے اور جس حدیث میں تہجد کے وقت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی شرکت نوافل تہجد میں آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پیچھے مروی ہے وہ مثبت صرف اقتدا ایک شخص کی ہے تیسری بات وہ یہ کہتے ہیں کہ سنتیں فجر کی اگررہ جائیں اور فرضوں میں کوئی شامل ہوجائے تو پھر اس کو وہ سنتیں نہ قبل آفتاب پڑھنی چاہئیں نہ بعد میں، ان تینوں مسائل کوامید ہے کہ مشرح بیان فرمائیں۔ جزاک اﷲ خیرالجزاء۔

الجواب

علماء بنظر منع کسل وملال اقل مدت ختم قرآن عظیم تین دن مقررفرمائی مگر اہل قدرت ونشاط بہرعبادت کوایک شب میں ختم کی بھی ممانعت نہیں، بہت اکابردین سے منقول ہے:کمابسطہ المولی عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی فی الحدیقۃ الندیۃ وغیرہ فی غیرھا۱؎۔جیسا کہ اس پرتفصیل بحث علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے حدیقہ ندیہ اور دیگر علماء نے اپنی کتب میں کی ہے۔(ت)

(درمختار    مقدمہ الکتاب     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹)

خود امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے دورکعت میں قرآن شریف ختم کیاکما فی الدر المختار۲؎(جیسا کہ درمختارمیں ہے۔ت) نفل غیرتراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تواجازت ہے ہی چار کی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہ جس کا حاصل خلاف اولٰی ہے نہ کہ گناہ حرامکما بیناہ فی فتاوٰنا(جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاوٰی میں دی ہے۔ت) مگرمسئلہ مختلف فیہ ہے اور بہت اکابردین سے جماعت نوافل بالتداعی ثابت ہے اور عوام فعل خیر سے منع نہ کئے جائیں گے علمائے امت وحکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے،

درمختارمیں ہے:اما العوام فلایمنعون من تکبیر والتنفل اصلا لقلۃ رغبتھم فی الخیرات بحر۲؎۔عوام کو تکبیرات اور نوافل سے کبھی بھی منع نہ کیاجائے کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہوتی ہے، بحر۔(ت)

(۲؎ درمختار    باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /۱۱۴)

اُسی میں ہے:ولایمنع العامۃ من التکبیر فی الاسواق فی الایام العشروبہ ناخذ بحرومجتبی وغیرہ۱؎۔عوام کو ان (ذوالحج کے) دس دنوں میں بازار میں تکبیرات پڑھنے سے منع نہ کیاجائے، اسی پر ہماراعمل ہے، بحر، مجتبٰی وغیرہ(ت)

(۱؎ درمختار        باب العیدین                مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۱۱۷)

حدیقہ ندیہ میں ہے:ومن ھذا القبیل نھی الناس عن صلٰوۃ الرغائب بالجماعۃ وصلٰوۃ لیلۃ القدر ونحوذلک وان صرح العلماء بالکراھۃ بالجماعۃ فیھا فلایفتی بذلک العوام لئلا تقل رغبتھم فی الخیرات وقد اختلف العلماء فی ذلک فصنف فی جوازھا جماعۃ من المتاخرین وابقاء العوام راغبین فی الصلٰوۃ اولٰی من تنفیرھم۲؎۔اسی قبیل سے نماز رغائب کاجماعت کے ساتھ اداکرنا اور لیلۃ القدر کے موقع پر نمازوغیرہ بھی ہیں اگرچہ علماء نے ان کی جماعت کے بارے میں کراہت کی تصریح کی ہے مگرعوام میں یہ فتوٰی نہ دیاجائے تاکہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو، علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے اور متاخرین میں سے بعض نے اس کے جواز پرلکھا بھی ہے، عوام کونماز کی طرف راغب رکھنا انہیں نفرت دلانے سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔(ت)

(۲؎ الحدیقۃ الندیہ    الخلق الثامن والاربعون من الاخلاق الخ        مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد        ۲ /۱۵۰)

صبح کی سنتیں اگرنہ پڑھیں اور فرضوں میں شامل ہوگیا قبل طلوع وارتفاع شمس توالبتہ ان کی اجازت نہیں اگرپڑھے گا گنہگار ہوگا اور بعد بلندی آفتاب اُن کاپڑھنا ممنوع نہیں ضرورمستحب ہے کلام علماء میں لایقضی (ادانہ کیاجائے۔ت) بمعنی نفی مطالبہ ہے نہ مطالبہ نفی،

ردالمحتارمیں ہے:اذا فاتت وحدھا لاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع اما بعد طلوع الشمس فکذلک عندھما وقال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی احب الیّ ان یقضیھا الی الزوال کما فی الدرر قیل ھناقریب من الاتفاق لان قولہ احب الیّ دلیل، علی انہ لولم یفعل لالوم علیہ وقالا لایقضی وان قضی لاباس بہ کذا فی الخبازیۃ ومنھم من قال الخلاف فی انہ لوقضی کان نفلا مبتدأ اوسنۃ کذا فی العنایۃ یعنی نفلا عندھما سنۃ عندہ کما ذکرہ فی الکافی اسمعیل۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔جب فجر کی سنتیں تنہافوت ہوجائیں تو انہیں بالاجماع طلوع آفتاب سے پہلے ادانہ کیاجائے طلوع آفتاب کے بعد، شیخین کے ہاں اسی طرح ہے، لیکن امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں کہ زوال سے پہلے قضا کرلینا پسندیدہ ہے جیسا کہ درر میں ہے کہ یہاں اتفاق ہی ہے کیونکہ امام محمد نے احب کہا جودلالت کررہاہے کہ اگر اس نے قضانہ کیں تو اس پرملامت وغیرہ نہیں ہوگی، اور جس نے لایقضی کہا ہے اگر کوئی قضاکرلیتاہے توکوئی حرج نہیں، خبازیہ، بعض نے کہا کہ اختلاف اس بات میں ہے کہ اگرقضاکرتا ہے تو وہی سنن ہوں گی یامستقل نوافل، اسی طرح عنایہ میں ہے یعنی شیخین کے نزدیک نفل مگر امام محمدکے نزدیک سنت، جیسا کہ الکافی لاسمعیل میں ہے۔(ت)

(۱؎ ردالمحتار                باب ادراک الفریضہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۳۰)


Navigate through the articles
Previous article تراویح میں بعدسورہ فاتحہ سورہ اخلاص پڑھناجائز ہے عشا کی جماعت نہ ملے توتراویح میں کیسے شامل ہو؟ Next article
Rating 2.80/5
Rating: 2.8/5 (249 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu