• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > فجر کی جماعت کے دوران سنتیں کیسے پڑھیں؟

فجر کی جماعت کے دوران سنتیں کیسے پڑھیں؟

Published by Admin2 on 2012/10/11 (1565 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ ۱۰۵۸ تا ۱۰۵۹: ازپیلی بھیت محلہ پنجابیاں متصل مسجد مرسلہ شیخ عبدالحکیم صاحب غرہ رجب ۱۳۱۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:

 (۱) ایک مسجد کہ اُس میں فجر کی نماز کے وقت بعد شروع ہوجانے جماعت کے اکثرنمازی آتے جاتے ہیں اور بعد حصول طہارت سنتیں فجرادا کرکے شریک جماعت ہوجاتے ہیں مگرسنتیں فجر کی خلاف قاعدہ شرعیہ ادا ہوتی ہیں صورت یہ ہے کہ ایام گرما میں اندرونی درجہ مسجد میں توبسبب گرمی کے جماعت نہیں ہوتی اکثراوقات دوسرے سائبان مسجد میں ہواکرتی ہے بسااوقات اندرونی درجہ میں سنتیں اداکرنے کے واسطے جانے کی گنجائش نہیں رہتی یابسبب شدت گرمی کے نمازی اندرجانابھی گوارانہیں کرتا ایسی شکل میں بعض واقفین تو صحن مسجد مین ستونوں کی آڑمیں سنتیں پڑھ لیتے ہیں وہ بھی چارپانچ شخص بقدر تعدادستونوں کے پڑھ سکتے ہیں مگرنمازی بعد کوآنے والے زیادہ ہوتے ہیں سب لوگ آڑستونوں کی نہیں پاتے اور بعض لوگ بوجہ عدم واقفیت یاکم توجہی کے اس کی ضرورت بھی نہیں سمجھتے اور بعض اوقات شدت گرمی سے صحن مسجد میں نمازہوتی ہے تو ستون بھی سنتوں کی آڑ کونہیں ملتے اکثربدون حائل کسی شئی کے سنتیں پڑھی جاتی ہیں مگر ازروئے اس مسئلہ فقہیہ کے کہ جماعت شروع ہوجانے کے بعد سنتیں فجر کی خارج از مسجدادا کی جائیں ہم کو عمدہ موقع حاصل ہے کہ مسجد سے ملحق چہارطرف مسجد کے چارکمرے مدرسہ کے ہیں اس طرح سے کہ فرش سے فرش ملاہے حد فاصل مابین مسجد اور مدرسہ کے صحنوں کی فصیلیں ہیں جوایک ہاتھ تخمیناً چوڑی اور ایک بالشت اونچی ہیں اورر یہ جملہ مکانات مسجد اور مدرسہ ایک احاطہ کے اندرہیں اگرہم ایک صف خواہ چٹائی صحن مدرسہ میں یاکسی کمرئہ مدرسہ میں ملحق صحن مسجد کے واسطے ادائے سنتوں فجر کے بچھادیں اور وہ لوگ جوپیچھے آتے ہیں طہارت حاصل کرکے اس چٹائی پرجومدرسہ میں خارج از مسجد بچھی ہے سنتیں فجراداکرکے شریک جماعت ہوتے جائیں توسنتیں بھی حسب قاعدہ شرعیہ اداہوں اور نمازیوں کی بھی سہولت کاباعث ہو مگرزید اس کو دوبنا پرناجائز کہتاہے، ایک یہ کہ نمازی جب مسجد کی فصیلوں پر جووضوکرنے کاموقع ہے بیٹھ کر وضو کرے گا تولابدمسجد کے صحن میں سے گزرکرمدرسہ کے صحن میں جوچٹائی بچھی ہے سنتیں اداکرنے کے واسطے جائے گا تویہ صورت خلاف شرعیہ ہے اس وجہ سے کہ بعد از اذان مسجد سے خارج ہونا جائزنہیں اس گناہ کامرتکب ہوگا سائل کہتاہے کہ اگرایسا ہی خارج ہوناہے تو اس بناپر اور بھی مسائل متفرع ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ پانی لینے کاکنواں اور سقاوے اور پاکی حاصل کرنے کاغسل خانہ یہ سب کہ احاطہ مسجد کے اندرہیں مگر مسجد کے حدود فصیلوں سے باہرہیں نمازی حسب عادت مروجہ زمانہ کے اکثر اول مسجد میں آتاہے اپناکپڑا وغیرہ مسجدمیں رکھ کربعد کوپانی لے کر طہارت وضووغیرہ کرتاہے بلکہ یہ عادات زمانہ کی عام مقامات کی مساجد کے موافق ہیں تو کیایہ سب بعداذان مسجد سے خارج ہونے کے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں یااحاطہ مسجد کے بیرونی دروازہ سے نکلنے والا اور وہ بھی جومسجد میں واپس آنے کاقصد نہ رکھتاہو۔

(۲) دوسری وجہ ممانعت زید کی یہ ہے کہ صحن مدرسہ کابھی فرش پختہ ہے اور چھوٹے لڑکے بعض برہنہ پاپیشاب کویاپاخانہ میں اور غسل خانہ میں جاتے ہیں اور اسی فرش ِ صحن مدرسہ پر ہوکرگزرتے ہیں اور فجر کواکثر شبنم کی کچھ نمی فرش پر ہوتی ہے اور گاہے شب کی بارش کی بھی نمی فرش پر ہوتی ہے پس ایسے مشکوک فرش پر چٹائی کابچھانا چٹائی کانجس کرنا اور نیزنمازیوں کی نماز خراب کرناہے حالانکہ افضل عبادات کی نمازہے، سائل کہتاہے پس ایسے شکوک کی وجہ سے صحن مدرسہ میں جوچٹائی بچھائی گئی ہے اس پرسنتیں اداکرنا یااس پرسے وضوکرکے جس حالت میں کہ نمازی کے پیروضو کے پانی سے ہنوز خشک نہیں ہوئے ہیں گزرکرکمرئہ مدرسہ میں سنتیں اداکرنا جائز ہوگا یانہیں؟ اور وہ چٹائی نجس ہوگی یاپاک قابل ادائے نماز رہے گی اور پیراس نمازی کے جووضوکرکے اس مشکوک فرش سے گزراہے پاک رہیں گے یاناپاک ہوجائیں گے؟ اور ایسی چٹائی کابچھانے والا واسطے اہتمام ادائے سنتوں فجر کے طریقہ نیک کاجاری کرنے والا ہوگا اور ثواب پائے گا؟ ان وجوہات مرقومہ صدرجوباعث ممانعت زید کے ہیں اُن کی وجہ سے بعد ازاذان مسجد سے نمازیوں کے خارج کرنے کا اور مشکوک فرش پرسنتیں اداکرنے والے نمازیوں کی نماز خراب کرانے کاباعث ہوکر عذاب پائے گا یا اس قسم کے شکوک پیداکرکے تمام نمازیوں کوتنگی میں ڈالنے والاہوگا؟ بیان فرمائیے ثواب پائیے۔

الجواب

زید کے دونوں اعتراض باطل وبے معنی ہیں، مسجد سے بے نماز پڑھے باہرجانا دوشرط سے ممنوع ہے ایک یہ کہ وہ خروج بے حاجت ہو ورنہ بلاشبہ جائز ہے مثلاً جس شخص کی ذات سے دوسری مسجد کی جماعت کاانتظام وابستہ ہے وہ بعد اذان بلکہ خاص اقامت ہوتے وقت باہرجاسکتاہے یونہی جسے دوسری مسجد میں بعد نمازدینی سبق پڑھنا یاسنی عالم کاوعظ سننا ہو اسی طرح پیشاب یااستنجے یاوضو کی حاجتیں۔ دوسرے یہ کہ شروع جماعت تک واپسی کاارادہ نہ ہو ورنہ مضائقہ نہیں اگرچہ بے ضرورت ہی سہی۔

فی الدر المختار، کرہ تحریما للنھی خروج من لم یصل من مسجد اذن فیہ جری علی الغالب والمراد دخول الوقت اذن فیہ اولا الالمن ینتظم بہ امرجماعۃ اخرٰی اوکان الخروج المسجد حیہ ولم یصلوا فیہ اولاستاذہ لدرسہ اولسماع الوعظ اولحاجۃ ومن عزمہ ان یعود نھر اھ  وفی ۱؎ ردالمحتار قولہ للنھی ھو مافی ابن ماجۃ من ادرک الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجۃ وھولایرید الرجوع فھومنافق اھ  وفیہ عن البحر ولوکانت الجماعۃ یوخرون لدخول الوقت المستحب کالصبح مثلا فخرج ثم رجع وصلی معھم ینبغی ان لایکرہ اھ قال وجزم بذلک کلہ فی النھر لدلالۃ کلامھم علیہ قولہ الالمن ینتظم بہ لہ الخروج ولوعندالشروع فی الاقامۃ وبہ صرح فی متن الدرر و القھستانی وشرح الوقایۃ۲؎اھ  مختصرا۔

درمختارمیں ہے کہ نکلنا اس شخص کا جس نے نماز نہ پڑھی ہو اس مسجد سے جس میں اذان ہوچکی ہو مکروہ تحریمی ہے یہ غالب پرحکم ہے اور مراد دخول وقت ہے خواہ اذان ہوئی ہو یانہ ہوئی ہو البتہ اس شخص کوجانے کی اجازت ہے جس نے کسی دوسری جماعت کاانتظام کرناہے یا اپنے محلہ کی مسجد کی طرف جاناہے درانحالیکہ وہاں لوگوں نے نمازادانہیں کی یا استادسے سبق لیناہے یاوعظ سننا ہے یاکوئی حاجت ہے اور وہ شخص دوبارہ آجانے کاارادہ رکھتاہو نہر ردالمحتارمیں قولہ للنھی (یعنی اس پرنہی وارد ہے) سے مراد ابن ماجہ کی وہ روایت ہے جس میں ہے کہ مسجد میں اذان کوپایا پھربغیر کسی حاجت وضرورت کے چلاگیا اور واپسی کا ارادہ بھی نہیں رکھتا تو وہ منافق ہے، اور اسی میں بحر سے ہے کہ اگرجماعت لوگوں نے اس لئے مؤخر کی کہ وقت مستحب آجائے مثلاً صبح کی نماز، توکوئی شخص چلاگیا پھرلوٹ آیا اور ان کے ساتھ نماز ادا کی تو اسے مکروہ نہ قراردینا ہی مناسب ہے اور نہر میں اس پر کلام علماء کی وجہ سے جزم کااظہار کیاہے، ماتن کاقول الالمن ینتظم (مگر جس نے نماز کاانتظام کرناہے) وہ نکل سکتاہے خواہ اقامت شروع ہوچکی ہو، اور اسی پر متن درر، قہستانی اور شرح وقایہ میں جزم کیاگیا ہے اھ اختصاراً(ت)

(۱؎ درمختار    باب ادراک الفریضۃ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۹)

(۲؎ ردالمحتار باب ادراک الفریضۃ     مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی        ۲ /۵۴)

یہاں دونوں شرطوں سے ایک بھی متحقق نہیں سنتیں بحال قیام جماعت بیرون مسجد پڑھنے کاحاجت شرعی ہونابھی ظاہر اور قصدرجوع بھی بدیہی توعدم جوازوحصول گناہ کاحکم صریح باطل قطعی،فی الدرالمختار، اخاف فوت الوقت لاشتغالہ بسنتھا ترکھا والالابل یصلیھا عندباب المسجد۱؎ وفی ردالمحتار ای خارج المسجد کما صرح بہ القھستانی وقال فی العنایۃ لانہ لوصلاھا فی المسجد کان متنفلا فیہ عنداشتغال الامام بالفریضۃ وھومکروہ ومثلہ فی النھایۃ والمعراج۲؎ اھ مختصرین۔درمختارمیں ہے جب نمازی کوسنن میں مشغولیت سے وقت کے فوت ہونے کاخوف ہوتوانہیں ترک کرے ورنہ ترک نہ کرے بلکہ انہیں مسجد ک دروازے کے پاس اداکرے۔ ردالمحتارمیں ہے یعنی مسجد سے باہرادا کرے، جیسا کہ اس پرقہستانی نے تصریح کی ہے۔ عنایہ میں ہے اگر اس نے سنن مسجد میں ادا کیں تو یہ امام کے فریضہ میں مشغول ہونے کے وقت نوافل پڑھنے والا قرارپائے گا جوکہ مکروہ ہے۔ اسی کی مثل نہایہ اورمعراج میں ہے اھ دونوں کتابوں کی عبارت اختصاراً منقول ہے(ت)

 (۱؎ درمختار        باب ادراک الفریضہ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۹۹۔۱۰۰)

(۲؎ ردالمحتار        باب ادراک الفریضہ        مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی        ۲ /۵۶)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article دوسری جماعت میں شامل ہونا ہو تو کیا نیت کی جائے؟ فرض نمازوں میں بلند آواز میں قنوت کا حکم Next article
Rating 2.91/5
Rating: 2.9/5 (277 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu