• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz Tarweeh / نماز تراویح > شبینہ پڑھنا جائزہے؟ یعنی ایک رات میں قرآن ختم کرنا

شبینہ پڑھنا جائزہے؟ یعنی ایک رات میں قرآن ختم کرنا

Published by Admin2 on 2012/10/11 (1874 reads)
Page:
(1) 2 »

مسئلہ ۱۰۸۱: از مین پوری مسئولہ حکیم محمد احمدصاحب علوی شب ۱۰/شوال ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شبینہ پڑھنا یعنی ایک شب میں قرآن مجید ختم کرنا تراویح یا تہجد یانفل میں جائز ہے یانہیں اور جوشخص اس طرح پرکہ نہایت صحت اور قواعد کے ساتھ صاف صاف پڑھتاہے اس کی اقتداء میں اگرکچھ لوگ ذوق وشوق اور خلوص وہمت سے داخل ہوکرشرکت کریں تو ان مقتدیوں اور امام کی بابت کیاحکم ہے، زید کہتاہے کہ شبینہ مطلقاً ناجائزہے اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ حرام ہے صحابہ و تابعین وتبع تابعین کے زمانہ میں کبھی نہیں ہوا، اور یہ جوبعض بزرگوں کی نسبت مشہور ہے کہ فلاں بزرگ نے ایک رات میں اتنے اتنے ختم کئے بالخصوص حضرت سیدنا امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی نسبت وہ مخص خصوصیات ہیں اُن کا یہ فعل ہمارے لئے حجت نہیں ہے، بکرکہتاہے کہ نفس شبینہ جائز اورمباح ہے بلکہ بزرگان دین کامعمول ہے یہ اور بات ہے کہ اگرمنہیات شرع اس میں شامل ہوں یالوگ اس کو اچھی طرح نہ سنیں بلکہ اس و قت بیٹھے باتیں کریں یاحقہ اورچائے پینے میں مشغول رہیں یاقرآن مجیدایساغلط اور جلدجلد پڑھاجائے کہ سمجھ میں نہ آئے توبیشک ایسی صورت ناجائز ہوگی بلکہ ایسی صورت اگر تراویح میں واقع ہوتوتراویح کے لئے کیاحکم نہ ہوگا کیانفس تراویح ان عوارض کی وجہ سے ناجائز ٹھہرے گی؟ زیدکہتاہے شبینہ پڑھنے والے اور سننے والے کوپانسو جوتے لگانے چاہئیں، امسال رمضان مبارک ۱۳۳۹ھ میں ہم چند مسلمانانِ مین پوری نے اپنے اپنے ذوق وشوق سے چند حافظ بلوائے جونہایت عمدہ اور صاف پڑھنے والے تھے نہ کسی پربار ہواسب نے نہایت مستعدی اور سکون سے سنا اس پر زیدکو بہت غصہ آیا زید امام جامع مسجد ہے انہوں نے بالاعلان ہم سب مسلمانوں پراسی جامع مسجد میں بعد نمازمغرب مصلے پرکھڑے ہوکر ماں بہن کی گالیاں دیں اور کہا شبینہ سننا اور وہاں جانا سب گناہ ہے کوئی شبینہ کوجائز ثابت کردکھائے تو پچاس روپیہ دوں گا ایسے شخص کی نسبت جو اس قسم کے سب وشتم مسلمانوں کو دے بازاری اور فحش کلمات اس کے زبان زدرہتے ہوں اور مسلمانوں کوجو اس کے مقتدی نہیں ماں بہن کی گالیاں دے، چنانچہ اس بنا پر وہ کل مقتدی اس سے ناخوش ہوں اس کی امامت کا کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا۔

الجواب

فقیر۲۹شعبان سے بوجہ علالت رمضان شریف کرنے اور شدت گرماگزارنے کوپہاڑپرآیا ہوا ہے وطن سے مہجور اپنی کتب سے دور،لہٰذا زیادہ شرح وبسط سے معذور مگرحکم مسئلہ بفضلہ تعالٰی واضح ومیسور۔ شبینہ فی نفسہٖ قطعاً جائز و رواہے اکابرائمہ دین کامعمول رہا ہے اسے حرام کہنا شریعت پرافتراہے، امام الائمہ سیّدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے تیس برس کامل ہر رات ایک رکعت میں قرآن مجید ختم کیاہے۔ ردالمحتارمیں ہے:قال الحافظ الذھبی قدتواتر قیامہ باللیل وتھجدہ وتعبدہ، ای ومن ثم کان یسمی بالوتد لکثرۃ قیامہ باللیل، بل احیاہ بقرأۃ القراٰن فی رکعۃ ثلاثین سنہ۱؎۔ ۔حافظ ذہبی نے فرمایا کہ آپ کاقیام اللیل، تہجد اور تعبد تواتر کے ساتھ منقول ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ کو وتد (کِیل) کہاجاتاہے کیونکہ آپ کے قیام لیل میں کثرت تھی بلکہ آپ تیس سال تک رات کو ایک رکعت میں پورے قرآن کی تلاوت کرتے(ت)

 (۱؎ ردالمحتار        مقدمہ    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۱ /۶۲)

بلادلیل شرعی کسی حکم کوبعض عباد سے خاص مان لینا جزاف ہے اور یہ کہنا کہ اُن کا یہ فعل ہمارے لئے حجت نہیں ادب کے خلاف محض لاف ہے، ان کافعل حجت نہ ہوگا تو کیا زیدوعمرو کاہوگا! جواہر الفتاوٰی ا مام کرمانی پھر فتاوٰی عٰلمگیریہ میں ہے:انما یتمسک بافعال اھل الدین۱؎۔ ۔اہل دین کے افعال سے تمسک کیاجائے گا(ت)

 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    کتاب الکراہیۃ الباب السابع عشرفی الفناء    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۵۲)

علمائے کرام نے فرمایا ہے سلف صالحین میں بعض اکابر دن رات میں دوختم فرماتے بعض چار بعض آٹھ، میزان الشریعہ امام عبدالوہاب شعرانی میں ہے کہ سیدی علی مرصفی قدس سرہ نے ایک رات دن میں تین لاکھ ساٹھ ہزارختم فرمائے۲؎۔

(۲؎ المیزان الکبرٰی فصل فی بیان بعض مااطلعت علیہ من کتب الشریعۃ الخ  مطبوعہ مصطفی البابی مصر  ۱ /۷۹)

آثارمیں ہے امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہ الکریم بایاں پاؤں رکاب میں رکھ کر قرآن مجید شروع فرماتے اور دَہنا پاؤں رکاب تک نہ پہنچتا کہ کلام شریف ختم ہوجاتا۔ بلکہ خود حدیث میں ارشاد ہے کہ داؤد علیہ السلام اپنے گھوڑے زین کرنے کو فرماتے اور اتنی دیر سے کم میں زبور یاتوراۃ مقدس ختم فرمالیتے۔ توراۃ شریف قرآن مجید سے حجم میں کئی حصے زائد ہے

والحدیث رواہ احمد والبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال خفف علی داؤد القراٰن فکان یامر بدوابہ فتسرج فیقرأ القراٰن من قبل ان تسرج دوابہ۳؎۔امام احمد اور امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے یہ حدیث شریف روایت کی ہے کہ رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت داؤدعلیہ السلام پراﷲ تعالٰی نے تلاوت آسان فرمادی تھی آپ سواری پرزین رکھنے کاحکم دیتے اور زین رکھی جاتی توآپ زین رکھنے سے پہلے زبورتلاوت کرلیتے۔(ت)

 (۳؎ صحیح البخاری    کتاب الانبیاء قول اﷲ اٰتینا داؤدزبورا        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۸۵)

یہ سب روایات اوران سے زائد ہماری کتاب''الفیوض المکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ''میں ہیں ان افعال کریمہ کوحجت نہ ماننا کیسی گستاخی ہے، جاہل وہ کہ اُسوت اور حجت میں فرق نہ جانے، ہم ان میں اقتداء پرقادرنہیں مگروہ حجت شرعیہ ضرور ہیں کہ فی نفسہٖ یہ فعل حسن ہے کراہت یاممانعت اگرآئے گی تو عوارض سے، اور وہ یہاں پانچ ہیں:اوّل عدم تفقّہ یعنی جلدی کی وجہ سے معانی قرآن کریم میں تفکروتدبرنہ ہوسکے گا، اصل وجہ منصوص فی الحدیث ہی ہے سنن دارمی و ابی داؤد و ترمذی و ابن ماجہ میں عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:لم یفقہ من فرائض القراٰن فی اقل من ثلاث۱؎ ۔جس نے تین رات سے کم میں قرآن مجید ختم کیا اس نے سمجھ کرنہ پڑھا۔

 (۱؎جامع الترمذی     ابواب القرأۃ          مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲ /۱۱۹)

یہ وجہ صرف نفی افضلیت کرتی ہے جس سے کراہت بھی ثابت نہیں ہوتی۔ ولہٰذا عٰلمگیری میں کراہت شبینہ کے قول کو بصیغہ ضعف ومرجوحیت نقل کیاحیث قال افضل القرأۃ ان یتدبر فی معناہ حتی قیل یکرہ ان یختم القراٰن فی یوم واحد۲؎ ۔یہاں الفاظ یہ ہیں کہ افضل قرأت یہ ہے کہ اس کے معانی میں تدبر ہوحتی کہ یہ کہاگیا ہے کہ ایک دن میں ختم قرآن مکروہ ہے۔(ت)

 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الکراہیۃ الباب الرابع فی الصلوٰۃ الخ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۱۷)

اقول پھریہ بھی ان کے لئے ہے جوتفکر معانی کریں یہاں کے عام لوگ کہ کتناہی دیرمیں پڑھئے تفکر سے محروم ہیں اُن کے لئے دیر بے سود ہے اور وہ مقصود لذاتہٖ نہیں بلکہ اسی لئے مقصود ہے اُن کے لئے معتدل جلدی ہی کاافضل ہونا چاہئے کہ جس قدر جلد پڑھیں گے قرأت زائد ہوگی اورقرآن کریم کے ہرحرف پردس نیکیاں ہیں سَوکی جگہ پانسوحرف پڑھے تو ہزار کی جگہ پانچ ہزارنیکیاں ملیں، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من قرأ حرفا من کتاب اﷲ فلہ حسنۃ و الحسنۃ بعشرا مثالھا لااقول المـ حرف ولکن الف حرف ولام حرف ومیم حرف۳؎ ۔ رواہ الدارمی والترمذی و صححہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔جس نے قرآن کریم کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے ایک نیکی ہے اور ہرنیکی دس نیکیاں، میں نہیں فرماتا   کہ المـ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ اسے دارمی اور ترمذی نے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیااور اسے صحیح کہا۔(ت)

(۳؎ جامع الترمذی باب ماجاء فی من قرأحرفا من القرآن الخ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۱۱۵)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article ہر چار رکعت تراویح کے بعد دعا مانگیں یا صرف تسبیح پڑھیں؟ تراویح میں بعد فاتحہ قصدا کوئي دعا پڑھنا کیسا Next article
Rating 2.86/5
Rating: 2.9/5 (276 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu