• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Jamaat / باجماعت نماز > دفع وبا کے لئے فجر میں قنوت نازلہ کا حکم

دفع وبا کے لئے فجر میں قنوت نازلہ کا حکم

Published by Admin2 on 2012/10/20 (1089 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۱۰۷ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دفع طاعون ووباء کے لئے نمازفجر میں قنوت پڑھناجائز ہے یانہیں؟ بیّنواتوجوا۔

الجواب

وقت نزول نوازل وحلول مصائب اُن کے دفع کے لئے نمازفجر میں قنوت پڑھنا احادیث صحیحہ سے ثابت اور مشروعیت اس کی مستمرغیرمنسوخ۔روی الامام البخاری والامام مسلم فی للبخاری قال اخبرنا احمد بن یونس ثنازائدۃ عن التیمی عن ابی مجلز عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قنت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شھرا یدعو علی رعل وذکوان ۲؎ ولفظ المسلم من طریق المعتمر عن سلیمٰن التیمی عن ابی مجلز عن انس ابن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم شھرا بعد الرکوع فی صلٰوۃ الصبح یدعوا علی رعل وذکوان ویقول عصیۃ عصت اﷲ ورسولہ۳؎۔

بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں اور حافظ نسائی نے اپنی سنن میں اور بخاری کے الفاظ یہ ہیں، احمد بن یونس نے خبردی کہ زائدہ نے تیمی اور انہوں نے ابومجلز سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قنوت پڑھتے ہوئے رعل اور ذکوان پر ایک ماہ بدعا فرمائی، اور مسلم نے معتمر عن سلیمن التیمی عن ابی مجلز عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ، یہ الفاظ کہے،حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایک ماہ فجر کی نماز میں رکوع کے بعد رعل، ذکوان اور عصیّہ کے خلاف قنوت کے ذریعہ بدعافرمائی اور فرمایا عصیہ نے اﷲ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔

(۲؎ صحیح بخاری    کتاب المغازی، باب غزوۃ الرجیع الخ      مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲/ ۵۸۷)

(۳؎ صحیح مسلم  باب استحباب القنوت فی جمیع الصلوات الخ  مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی  ۱/ ۲۳۷)

وفی صحیحہ ایضا حدثنا محمد بن مھران الرازی فذکر باسنادہ عن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ حدثھم ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قنت بعد الرکعۃ فی صلوات شھرا، اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ یقول فی قنوتہ اللھم انج الولید بن الولید، اللھم  انج سلمۃ بن ھشام، اللھم نج عیاش بن ابی ربیعۃ، اللھم انج المستضعفین من المؤمنین، اللھم اشدد وطأتک علی مضر، اللھم اجعلھا علیھم سنین کسنی یوسف، قال ابوھریرۃ ثم رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ترک الدعا بعد، فقلت اری رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قد ترک الدعاء لھم، قال فقیل وما تراھم  قدقدموا۱؎۔

اور امام مسلم کی صحیح میں بھی یہ ہے کہ محمد بن مہران نے اپنی سند کے ساتھ ابوسلمہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایک ماہ رکوع کے بعد سمع اﷲ لمن حمدہ کہنے پرقنوت پڑھی اور قنوت میں یہ پڑھا: اے اﷲ! نجات دے ولید کو، اے اﷲ! نجات دے سلمہ بن ہشام کو، اے اﷲ نجادت دے عیاش بن ابی ربعیہ کو، اے اﷲ نجات دے ضعیف مومنوں کو۔ اے اﷲ! اپنی سخت پکڑفرما مضرپر، اے اﷲ! ان پرقحط مسلط فرما جتنے سال یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں قحط نازل ہوا۔ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو دیکھاکہ آپ نے بددعاچھوڑدی تومیں نے دل میں کہا رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے بددعاچھوڑدی او ر کہا کہ مجھے کہاگیاکہ وہ حفاظ آگئے تمہارا کیاخیال ہے۔ (ت)

 (۱؎ صحیح مسلم  باب استحباب القنوت فی جمیع الصلوات الخ    مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۲۳۷)

عبدالرزاق، حاکم، دارقطنی باسناد صحیح بطریق امام باقر حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روای:انہ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم لم یزل یقنت فی الصبح حتی فارق الدنیا۲؎۔حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یہ قنوت تاحیات پڑھتے رہے۔(ت)

 (۲؎ المصنف لعبدالرزاق    باب القنوت، حدیث ۴۹۶۴        مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت    ۲/ ۱۱۰

سنن الدارقطنی    باب صفۃ القنوت الخ            مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان        ۲/ ۳۹)

یہ حدیث اور دیگراحادیث قنوت فجر، برخلاف شافعیہ کہ انہیں فجرمیں دوام قنوت کی دلیل ٹھہراتی ہیں صریح نوازل ہیں اور وارداُن پرمحمول، پس حاصل یہ کہ جناب سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے وقت نزول شدائد دواماً قنوت پڑھی اور جب وہ بلادفع ہوجاتی بوجہ ارتفاع ضرورت ترک فرماتے اور مشروعیت اس قنوت کی کتب حنفیہ میں بھی مصرح جیسا کہ ۱ اشباہ، ۲ درمختار،۳  بحرالرائق، ۴  غایت، ۵ ملتقط، ۶ سراج، ۷ شرح نقایہ شمنی، ۸ فتح القدیر ابن الہمام، ۹ کلام رئیس الحنفیہ امام ابوجعفر بن سلامہ طحاوی وغیرہ سے ثابت متون میں غیروترمیں قنوت پڑھنا ممنوع ٹھہرایا شارحین کرام نے قنوت نوازل کو اس سے استثناء فرمایا۔

فی الدرالمختار ولایقنت فی غیرہ الالنازلۃ فیقنت الامام فی الجھریۃ وقیل فی الکل۱؎ وفی البحرالرائق فی شرح النقایۃ معزیا الی الغایۃ وان نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الامام فی صلٰوۃ الجھر وھو قول الثوری واحمد، وقال جمہور اھل الحدیث القنوت عند النوازل مشروع فی الصلوات کلھما۲؎ ۔درمختارمیں ہے کہ غیروتر میں صرف قنوت نازلہ پڑھ سکتاہے اور قنوت نازلہ امام جہری نماز میں پڑھے، اور بعض نے کہا تمام نمازوں میں پڑھے، اور بحرالرائق میں ہے کہ شرح نقایہ میں غایہ کے حوالہ سے ذکرکیا کہ اگرمسلمانوں پرکوئی مصیبت نازل ہو تو امام نمازفجر میں قنوت پڑھے، یہ امام احمد اور امام ثوری کا قول ہے اور جمہورمحدثین نے کہا کہ قنوت نازلہ تمام نمازوں میں جائز ہے۔

 (۱؎ درمختار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۹۴)

(۲؎ بحرالرائق شرح کنزالدقائق    باب الوتروالنوافل    مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲/ ۴۴)

وفی الاشباہ والنظائر فائدۃ فی الدعاء برفع الطاعون سئلت عنہ فی طاعون سنۃ تسع وستین وتسعمائۃ بالقاھرۃ، فاجبت بانی لم ارہ صریحا، ولکن صرح فی الغایۃ وعزاہ الشمنی الیھا بانہ اذا نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الامام فی صلواۃ الفجر وھو قول الثوری واحمد، وقال جمہور اھل الحدیث القنوت عند النوازل مشروع فی الصلوات کہما انتھی، وفی فتح القدیر ان مشروعیۃ القنوت للنازلۃ مستمرۃ لم تنسخ، وبہ قال جماعۃ من اھل الحدیث وحملو علیہ حدیث ابی جعفر عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہما مازال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقنت حتی فارق الدنیا ای عندالنوازل، وماذکرنا من اخبار الخلفاء یفید تقررہ لفعلھم ذلک بعدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقد قنت الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی محاربۃ الصحابۃ رضی اﷲ عنھم مسیلمۃ الکذاب وعندمحاربۃ اھل الکتٰب، وکذلک قنت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ، وکذلک قنت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی محاربۃ معاویۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما، وقنت معاویۃ فی محاربتہ رضی اﷲ تعالٰی عنھما انتھی، فالقنوت عندنا فی النازلۃ ثابت وھو الدعاء برفعھا ولاشک ان طاعون من اشد النوازل، قال فی المصباح، النازلۃ المصیبۃ الشیدۃ تنزل بالناس انتھی، وذکر فی السراج الوھاج قال الطحاوی ولایقنت فی الجر عندنا من غیر بلیۃ فان وقعت بلیۃ فلاباس بہ کما فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ قنت شھرا فیھا یدعو علی رعل وذکوان وبنی لحیان ثم ترکہ کذا فی الملتقط ۱؎ انتھی(ملتقطا)۔

اور الاشباہ والنظائر ''طاعون کوختم کرنے میں دعا کافائدہ'' میں ہے قاہرہ میں ۹۹۹ھ میں طاعون کے موقعہ پر مجھ سے اس بارے میں سوال کیاگیا تومیں نے جواب میں کہا کہ میںنے صریح طور پر اس بارے میں نہیں دیکھا لیکن غایہ میں تصریح ہے کہ شمنی نے اس بات کو صاحبین کی طرف منسوب کیا اور کہا کہ اگرکوئی مصیبت نازل ہو تو امام نمازفجر میں قنوت پڑھے،یہ امام احمد اور امام ثوری کاقول ہے اور جمہور اہلحدیث نے فرمایا کہ تمام نمازوں میں قنوت جائزہے انتہی، اور فتح القدیرمیں ہے قنوت نازلہ جاری ہے منسوخ نہیں ہے، اور اہل حدیث کی جماعت کایہ قول ہے اور انہوں نے ابوجعفر کی حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سےمروی حدیث اسی معنی پرمحمول کیاہے اور وہ یہ کہ حضورعلیہ الصلوٰہ والسلام تاحیات قنوت نازلہ مصیبت پرپڑھتے رہے، اور خلفاء کے عمل کے بارے میں جوج ہم نے ذکرکیاہے وہ بھی اس کی تائید کرتاہے کہ انہوں نے حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد یہ عمل جاری رکھا اور ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مسیلمہ کذاب سے صحابہ کی جنگ اور اہل کتاب سے جنگ میں قنوت پڑھی، اسی طرح عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے قنوت پڑھی، اور ایسے ہی علی مرتضٰیرضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضرت امیرمعاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے جنگ کے دوران پڑھی اور حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے جنگوں کے دوران قنوت پڑھی انتہی، پس قنوت نازلہ ہمارے ہاں مصیبت کو ختم کرنے کے لئے دعا کے طورپر ثابت ہے اور اس میں شک نہیں کہ طاعون بھی بڑی مصیبت ہے، اور مصباح میں فرمایا کہ نازلہ، لوگوں پرشدید مصیبت کے نزول کو کہتے ہیں انتہی، اور سراج الوہاج میں ذکرہے کہ امام طحاوی نے فرمایا کہ نزول مصیبت کے بغیر نمازفجر میں قنوت نہ پڑھی جائے لیکن اگرمصیبت نازل ہو تو ہمارے نزدیک قنوت پـڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایک ماہ قنوت پڑھی اور اس میں رعل، ذکوان اور بنولحیان پربددعا فرمائی اور پھر آپ نے ترک کردی، ملتقط میں اسی طرح ہے انتہی ملتقطا۔(ت)

 (۱؂ الاشباہ والنظائر    الفن الثالث فائدۃ فی الدعاء لرفع الطاعون         ادارۃ القرآن کراچی    ۲ /۲۶۱ و ۲۶۲)

یہاں سے ظاہر کہ اختلاف شافعیہ وحنفیہ دربارہ قنوت فجر کہ وہ علی الدوام حکم دیتے اور ہم انکار کرتے ہیں غیرنوازل میں ہے، نہ قنوت نوازل میں اور بلاشبہ طاعون ووبا اشدنوازل سے ہیں اور ان کے عموم میں داخل کما مر من الاشباہ (جیسا کہ اشباہ سے گزرا۔ت) پس اگر امام، دفع طاعون ووبا کے لئے نمازفجر میں قنوت پڑھے تو اس کے جواز ومشروعیت میں کوئی شبہ نہیں واﷲ تعالٰی اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article قنوت نازلہ کا کیا حکم ہے؟ سنتیں شروع کرے اورجماعت کھڑی ہو جائے تو کیا کرے؟ Next article
Rating 2.81/5
Rating: 2.8/5 (274 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu