• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz Tarweeh / نماز تراویح > تراویح کی جماعت کو آ نے والے پہلے عشاء کیسے پڑھیں

تراویح کی جماعت کو آ نے والے پہلے عشاء کیسے پڑھیں

Published by Admin2 on 2012/10/20 (1016 reads)

مسئلہ ۱۱۰۸ :ازاوجین علاقہ گولیار مرسلہ محمدیعقوب علی خاں صاحب از مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ یکم ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ

دوسہ مردم درآں مسجد کہ امام بجماعت تراویح مشغول تام ست حاضر گردیدند آنہا نمازفرض بجماعت ادانمایند یاجداگانہ خواندہ خواندہ ملحق جماعت تراویح شوند وبازوتر راہمراہ اما بخوانند یا تنہا چراکہ امام رابجماعت فرض نیافتہ، بیّنواتوجروا۔

دوتین آدمی مسجد میں آئے توامام نمازتراویح میں مصروف تھا، کیا یہ آنے والے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے جماعت کرائیں یاعلیحدہ علیحدہ پڑھیں اور اس کے بعدتراویح کی جماعت میں شامل ہوں، اور کیایہ لوگ وتر امام کے ساتھ جماعت سے اداکریں یا اس امام کی جماعت کے ساتھ فرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے وتر علیحدہ پڑھیں؟ بیان کرو اجرپاؤ ۔ (ت)

الجواب

جماعت تراویح مانع جماعت فرض نیست لان قیام جماعۃ انما یمنع اقامۃ جماعۃ اخری فی زمانھا ومکانھا اذا کانت الاولی داعیۃ لکل من یأتی الی الدخول فی نفسھا وجماعۃ التراویح لاتدعو من لم یصل الفرض الی الدخول فیھا فان الصحیح المعتمد بطلان التراویح قبل اداء الفرض ولذا قال فی جامع الرموز اذا دخل واحد فی المسجد والامام فی التراویح یصلی فرض العشاء اولا ثم یتابعہ۱؎ پس آنا نکہ از پس رسیدند چوں شرعاً مامورند بادائے فرض پیش ازتراویح چراممنوع باشد ازجماعت حالانکہ چوں امام درتراویح ست محراب مشغول باشد پس عدول ازوکہ مبدل ہیأت وبرمذہب صحیح ومفتی بہ نافی کراہت ست کما نص علیہ فی مواضع من ردالمحتار اینجا خود حاصل ست پس برمذہب صحیح ایناں راہیچ مانع ازاقامت جماعت نیست آرے ہرقدرکے تواننددور ازجماعت نیست آرے ہرقدر کہ توانند دورازجماعت قوم جماعت فرض برپاکنند تاہم خویشتن ازالتباس افعال واشتغال بال ایمن باشندوہم براہل تراویح خصوصاً امام تالی قرآن تلبیس ننمایند ھذا کلہ مما لایخفی علی من لہ مساس بالفقہ بازآنکس کہ فرض بجماعت گزاردہ است خواہ کود امام بودیا بامام دیگر غیراین امام اقتدانمودہ اور امیرسد کہ دروتربایں امام اقتدا کند آرے ہرکہ فرج بہ تنہائی ادانمود اوررا دروتر ہم منفرد باید بودعلامہ شامی دررالمحتارفرمود لوصلاھا (یعنی صلاۃ العشائ) جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لاکراھۃ تأمل۱؎ومن فقیرایں مسئلہ رادرفتاوٰی خودم ہرچہ تمام تررنگ تفصیل دادہ ام۔واﷲ تعالٰی اعلم

تراویح کی جماعت، فرض کی جماعت کے لئے مانع نہیں ہے کیونکہ دوسری جماعت کے لئے وہ موجودہ جماعت مانع ہوتی ہے جو کہ تمام آنے والوں کے لئے یہ پہلی موجودہ جماعت اپنے اندر داخل ہونے کی داعی ہو، جبکہ بعد میں آنے والے ان لوگوں کوجنہون نے فرض نمازنہیں پڑھی، کے لئے یہ موجودہ جماعت تراویح داعی نہیں ہے کہ اس میں شامل ہوں، کیونکہ فرض ادا کرنے سے قبل تراویح کاپڑھنا صحیح مذہب میں باطل ہے، اسی بناء پر جامع الرموز میں کہاہے کہ جب کوئی ایک شخص جماعت تراویح ہوتے وقت آئے تو اس کو پہلے عشا کے فرض پڑھنے ہوں گے اور اس کے بعد تراویح کی جماعت میں شریک ہو، پس بعد میں آنے والے لوگ جب اس بات کے پابند ہیں کہ وہ پہلے فرض اداکریں اور بعد میں تراویح پڑھیں توشرعاً ان کو فرض کی ادائیگی جماعت کرانے میں کیامانع ہے خصوصاً جبکہ امام تراویح پڑھاتے ہوئے محراب میں ہے توبعد میں آنے والے اپنی جماعت کومحراب سے ہٹ کر کرائیں گے جس سے پہلی جماعت کی ہئیت تبدیل ہوجائے گی اور دوسری جماعت کی کراہت ختم ہوجائے گی جیسا کہ ردالمحتارکی تصریح کے مطابق صحیح اور مفتی بہ مذہب یہی ہے جب کراہت کی وجہ خودبخود ختم ہوگئی تو ان لوگوں کی جماعت کے لئے کوئی بھی مانع نہ رہا، ہاں ممکن حد تک ان کو چاہئے کہ تراویح کی جماعت سے دور اپنی جماعت کریں تاکہ آپس میں قرأت اور افعال میں اشتباہ نہ پیداہو اور اطمینان قلبی سے نماز اداہوسکے، نیز تراویح کے امام جوکہ تلاوت میں مصروف ہے کو اشتباہ سے بچایاجاسکے۔ فقہ سے مس رکھنے والے کو یہ تمام معاملہ معلوم ہے، اور پھر جو شخص عشاء کے فرض جماعت سے اداکرچکا ہوخواہ اپنی جماعت کرائی ہو یاکسی اور امام یا اس تراویح والے کے ساتھ جماعت میں شامل ہواہو اس کوتراویح اور وتر کی جماعت میں شریک ہونا جائزہے، ہاں جس نے فرض بغیرجماعت اکیلے پڑھے ہوں اس کو وتر اکیلے پڑھنے چاہئیں، علامہ شامی نے ردمحتارمیں فرمایا کہ اگرکسی نے عشاء کی نماز کسی دوسرے امام کے ساتھ جماعت سے اداکی ہو تو وہ بلاکراہت اس امام کے ساتھ وتر جماعت سے پڑھ سکتاہے غورکیجئے، جبکہ اس فقیرنے اس مسئلہ کو ہمہ پہلو تفصیل کے ساتھ اپنے فتاوٰی میں بیان کردیا ہے۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم

 (۱؎ جامع الرموز    الوتروالنوافل        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/ ۲۱۴)

(۱؎ ردالمحتار        باب الوتروالنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۲۴)


Navigate through the articles
Previous article وتر کی فوت شدہ رکعت میں قنوت پڑھنی چاہئے یانہیں؟ جسے عشاء کی جماعت نہ ملے کیا وہ وتر اکیلے پڑھے؟ Next article
Rating 2.80/5
Rating: 2.8/5 (274 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu